بھارتی نژاد گپتا برادران دبئی میں گرفتار، جنوبی افریقہ
7 جون 2022
بھارتی نژاد جنوبی افریقی شہری گپتا برادران راجیش اور اتول گپتا کو دبئی میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جنوبی افریقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان دونوں پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
اتول گپتا جنوبی افریقہ کے سابق صدر جیک زوما کے قریبی دوست ہیںتصویر: Gallo Images/IMAGO
اشتہار
بھارتی نژاد جنوبی افریقی شہری راجیش گپتا اور اتول گپتا جنوبی افریقہ کے سابق صدر جیک زوما کے قریبی دوست ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے زوما سے اپنے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیرقانونی طور پر مالی فائدے حاصل کیے اور اہم اعلٰی سرکاری عہدوں پر حکام کی تقرریاں کرائیں۔
گپتا برادران تاہم ان الزامات اور کسی بھی طرح کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔
گپتا برادران کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کیوں کیا گیا؟
جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برس اپریل میں ایک حوالگی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سائرل رامفوسا کو امید تھی کہ اس معاہدے سے گپتا برادران کو وطن واپس لانے میں مدد ملے گی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا گپتا برادران کو گرفتار کرنے کے بعد جنوبی افریقہ بھیجا جارہا ہے؟
جنوبی افریقہ کی وزارت برائے انصاف نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ''متحدہ عرب امارات اور جنوبی افریقہ کی قانون نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سن 2018 میں جب صدر جیکب زوما کو عہدے سے برطرف کیا گیا تھا تو گپتا بردران نے بھی جنوبی افریقہ چھوڑ دیا تھا۔ زوما کے خلاف الزامات کی انکوائری کے لیے سن 2018 میں ایک کمیشن قائم کی گئی تھی۔
انٹرپول نے گپتا برادران کی گرفتاری کے لیے جولائی 2021 ء میں ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا تھا۔ اس عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ گپتا برادران 25ملین رینڈ یا 1.6ملین ڈالر کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے کیس میں مطلوب ہیں۔ یہ کیس ان کی کمپنی کو دیے جانے والے ایک کانٹریکٹ کے متعلق ہے۔
گپتا برادران کی گرفتاری کا خیرمقدم
جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک الائنز نے گپتا برادران کی گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے۔
ڈیموکریٹک الائنز نے ایک بیان میں کہا،''ہمیں امید ہے کہ یہ گرفتاریوں کا آغاز ہے اور ان لوگوں، جو ملک میں ہیں یا ملک سے باہر چلے گئے ہیں، کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جو برسوں تک ہمارے ملک کو لوٹتے رہے اور جنوبی افریقہ کے کروڑوں عوام کو آج درپیش مشکلات اور مصائب کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔‘‘
ج ا/ ک م (روئٹرز، اے ایف پی)
افریقہ سن 2021 میں، ایک تصویری جائزہ
کانگو رمبا کی فتح سے لے کر مختلف بغاوتوں نے براعظم افریقہ کو ہِلا کر رکھ دیا۔ مختلف واقعات درج ذیل تصاویر میں دیکھیں:
تصویر: Ericky Boniphase/DW
تنزانیہ اور کووڈ انیس
کورونا وبا کے اوائل میں تنزانیہ کئے صدر جان ماگوفلی نے کہا تھا کہ خدائی طاقت سے ان کا ملک کورونا وبا سے آزاد ہے۔ ان کی رحلت مارچ سن2021 میں ہو گئی تو جانشین خاتون صدر سامیہ حسن نے مرحوم صدر کی پالیسی تبدیل کر دی اور ویکسینیشن کے پروگرام کا آغاز کر دیا۔
تصویر: Ericky Boniphase/DW
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں تاریخ رقم ہو گئی
نائجیریا کی اینگوزی اوکانجو اِیویلا کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب کے لیے چُن لیا گیا۔ عالمی مالیاتی امور کی ماہر اوکانجو اِیویلا اس انتخاب سے قبل ویکسین آلائنس جی اے وی ای (GAVI) تنظیم کی سربراہ تھیں۔ وہ دو دفعہ نائجیریا کی وزیر خزانہ بھی رہ چکی ہیں۔
تصویر: Luca Bruno/AP Photo/picture alliance
چاڈ میں خاموش بغاوت
اس تصویر میں چاڈ کے مقتول صدر ادریس دیبی رواں برس کے صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ وہ ملک کے چھٹی مرتبہ صدر منتخب ہو گئے تھے لیکن باغیوں کے خلاف میدانِ جنگ میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ فوج کے جرنیلوں نے ان کے بیٹے محمد کو عارضی صدر بنا دیا۔ ناقدین نے اسے ایک ’نسلی بغاوت‘ قرار دیا۔ ادریس دیبی کا دورِ صدارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقربا پروری اور کرپشن سے عبارت قرار دیا جاتا ہے۔
تصویر: MARCO LONGARI/AFP
بغاوتیں، بغاوتیں اور بغاوتیں
مامادی ڈومبُویا (ہاتھ ہلاتے ہوئے) وہ فوجی لیڈر ہیں جنہوں نے سن 2021 میں جبری طور پر اقتدار پر قبضہ کیا۔ سن 2021 کے اوائل میں مالی کی فوج نے نو ماہ میں میں دوسری بغاوت کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ سوڈان میں بھی فوج نے اکتوبر میں سویلین حکومت کو فارغ کر کے اقتدار پر قبضہ حاصل کیا تھا۔ سوڈان میں ایمرجنسی کا نفاذ ہے اور عوامی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
تصویر: CELLOU BINANI/AFP/ Getty Images
حیرانی میں دھرے گئے
کانگو کا آتش فشاں ماؤنٹ نیئراگونگو مئی میں اُبل پڑا تھا۔ ہزاروں افراد گھربار چھوڑؑنے پر مجبور ہو گئے۔ تین ہزار مکانات راکھ ہو کر رہ گئے۔ حکومت پر الزام لگایا گیا کہ آتش فشاں کی نگرانی کے لیے سرمایہ فراہم نہیں کیا گیا لہذا اس کے پھٹنے کی فوری اطلاع نہیں دی جا سکی۔
تصویر: Moses Sawasawa/AFP/Getty Images
موزمبیق میں مشترکہ آپریشن
ستمبر میں روانڈا کے صدر پال کاگامے نے موزمبیق میں تعینات اپنی فوج سے ملاقات کی تھی۔ موزمبیق کے شمالی صوبے کابو ڈیلگاڈو میں یہ افواج تعینات ہیں۔ موزمبیق کے صدر فیلیپے نیوسی نے روانڈا کی فوج کی کارروائیوں کی تعریف بھی کی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے خلاف جنوبی افریقی ترقیاتی کمیونٹی (SADC) کے رکن ملکوں کے فوجی بھی ایک مشترکہ آپریشن میں شریک ہیں۔
تصویر: Estácio Valoi/DW
ایتھوپیا کی خانہ جنگی اور سویلین کی مشکلات
ایتھوپیا میں کسی جنگ بندی کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔ ملکی وزیر اعظم آبی احمد اور تگرائی کے باغی ابھی تک مدمقابل ہیں۔ یہ مسلح تنازعہ سن 2020 سے شروع ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تصویر: Maria Gerth-Niculescu/DW
جنوبی افریقہ دنیا سے کٹ کر رہ گیا
جنوبی افریقہ دنیا کے کئی حصوں سے اُس وقت کٹ کر رہ گیا جب نومبر میں اس ملک میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے اومیکرون ویرئنٹ دریافت کیا۔ اب برطانیہ سمیت کچھ اور ممالک نے اس ملک کے سیاحوں پر عائد سفری پابندیوں کو ہٹا دیا ہے۔ لیکن ابھی بھی بہت سے ملکوں کی پابندیاں بدستور موجود ہیں۔
تصویر: Jerome Delay/AP Photo/picture alliance
لوٹے آرٹ کی واپسی کا جشن
سن 2021 افریقی ثقافتی ورثے کی بحالی میں ایک نیا موڑ لے کر آیا۔ فرانس، جرمنی، بیلجیم اور نیدرلینڈز سمیت کئی اور ملکوں نے اس بر اعظم کے قیمتی تاریخی نوادرات کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا۔ بنین میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے بادشاہ غیزو کے تخت کو فوجی اعزار کے ساتھ وصول کیا گیا۔
تصویر: Seraphin Zounyekpe/Presidence of Benin/Xinhua/picture alliance
مالی سے فرانس کا انخلاء
فرانس نے ٹمبکٹو کے فوجی اڈے کا کنٹرول مالی کی فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ فرانس کے فوجی مالی میں نو برس سے باغیوں کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔ اس کے دو ہزار فوجی سن 2022 تک واپس وطن لوٹ آئیں گے۔ مالی کے وزیر خاجہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کا ملک فرانس کے ساتھ تعمیری مذاکرات کا خواہشمند ہے۔
تصویر: Blondet Eliot/ABACA/picture alliance
افریقی لٹریچر کا ایک عظیم سال
سن 2021 کو افریقی ادیبوں کے لیے ایک اچھا سال قرار دیا گیا ہے۔ تصویر میں زمبابوے کی ادیب ہی ٹسِٹسی ڈانگاریمبگا ہیں۔ ان کو جرمنی کا سالانہ پیس پرائز دیا گیا ہے۔ سینیگال کے محمد مبوگر سار کو فرانس کا معتبر پری گونکور پرائز اور جنوبی افریقی ادیب ڈامون گالگوٹ کو بُکرز پرائز سے نوازا گیا۔ سن 2021 ہی میں تنزانیہ کے عبدالرزاق گُرناہ کو نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔
تصویر: Sebastian Gollnow/dpa/picture alliance
آئیے ڈانس کریں
افریقی رمبا اس براعظم کا محبوب ترین رقص ہے۔ کانگو اور جمہوریہ کانگو میں رمبا موسیقی سے بھی زیادہ مقام رکھتا ہے۔ یونیسکو نے سن 2021 میں اس رقص کو دنیا کے ان چھوئے ورثے میں شامل کیا ہے۔ اس رقص و موسیقی کی صنف کو یہ اعزاز مشہور و معروف رمبا موسیقار پاپا ویمبا (تصویر میں) کی موت کے پانچ سالوں بعد ملا ہے۔