دلائی لامہ جرمنی کے دورے پر
24 اگست 2014
جرمن شہر ہمبرگ میں چار روزہ قیام کے دوران دلائی لامہ ملاقاتوں کے علاوہ خصوصی لیکچرز بھی دیں گے۔ ہفتے کے روزشمالی جرمن شہر ہمبرگ میں اُن کے لیکچر کو سننے کے لیے سات ہزار افراد نے شرکت کی۔ اپنے پہلے لیکچر میں انہوں نے ذہن کی تربیت، نرم دلی، عدم تشدد، برداشت اور معافی کے موضوعات کو چھیڑا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تبتی رہنما نے عالمی امن کے لیے ایک توانا کمٹمنٹ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔
تبتی بدھوں کے روحانی لیڈر نے اپنی تقریر میں شام اور عراق میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں کہا کہ وہاں کے لوگوں کا بھی امن اور سلامتی حاصل کرنا بنیادی حق ہے۔ شام اور عراق کے کئی علاقوں پر کنٹرول رکھنے والی جہادی تنظیم اسلام اسٹیٹ کو بھی دلائی لامہ نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اِس مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جذبات قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور اِن حالات میں وہ جلد تبدیلی نہیں دیکھ رہے لیکن مستقبل یقینی طور پر اگلی نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اِس موقع پر دلائی لامہ نے اِس یقین کا بھی اظہار کیا کہ جلد تنازعات ختم ہو جائیں گے کیونکہ اکیسویں صدی امن کی صدی ہونے کے علاوہ مکالمت کی بھی صدی ہے۔
اُن کو اِس دورے کے دوران بنیاد پرست بدھ مت گروپ کے احتجاج کا بھی سامنا رہا۔ انٹرنیشنل شوگڈن کمیونٹی (ISC) نے دلائی لامہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کا الزام بھی لگایا۔ بین الاقوامی شوگڈن کمیونٹی کے حامیوں نے کہا کہ بدھ مت کی خانقاہوں میں شوگڈن بدھ مت کے پیروکاروں کو تبتی بودھوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ انٹرنیشنل شوگڈن کمیونٹی کی ترجمان اینٹی مائی کا کہنا تھا کہ جبر اور ٹارچر کے ذریعے شوگڈن گروپ کو مرکزی دھارے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب دلائی لامہ نے اِس یقین کا اظہار کیا ہے کہ شوگڈن عقیدے کے حامل افراد ایک ایسی روح یعنی دورجی شوگڈن کی پوجا کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے۔ دلائی لامہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے شوگڈن پیروکاروں کو بار بار متنبہ کیا ہے کہ وہ اِس دور جی شوگڈن روح کی عبادت کرنا چھوڑ دیں۔ شوگڈن بدھ مت تبتی بدھ مت کی ایک شاخ ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ دلائی لامہ کا ہیمبرگ کا یہ چھٹا دورہ ہے۔ اپنے موجودہ دورے کے دوران وہ مہایانا بدھ مت پر بھی خصوصی لیکچر دیں گے۔ مہایانا بدھ مت قدیم بدھ مذہبی روایات کا حصہ ہے۔