دنیا بھر میں عسکری اخراجات میں اضافہ
29 اپریل 2019
SIPRI کے مطابق گزشتہ برس عالمی سطح پر دفاعی شعبے میں خرچ کیا جانے والا سرمایہ 1.822 ٹریلین ڈالر تھا، یعنی سن 2017 کے مقابلے میں دو اعشاریہ چھ فیصد زائد ہے۔
اسلحے کی فروخت، امریکا سرفہرست
دنیا بھر میں جوہری ہتھیار کم مگر جدید تر، رپورٹ
پیر کے روز جاری کردہ سِپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں عسکری شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ خرچ کرنے والا ملک بہ دستور امریکا تھا، جہاں سن 2017 کے مقابلے میں گزشتہ برس چار اعشاریہ چھ فیصد زائد سرمایہ خرچ کیا گیا۔ سپری کے محقق نان تیان نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں پہلی مرتبہ عسکری شعبے میں سرمایے کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
نان تیان کا کہنا تھا، ’’امریکا میں سن 2019 اور 2020 میں فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شعبے میں اگلے بیس برسوں میں ایک اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر سرمایہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں روایتی ہتھیاروں سے لے کر جوہری صلاحیتوں تک میں اضافہ شامل ہے۔‘‘
اس رپورٹ کے مطابق دفاع اخراجات کے اعتبار سے جرمنی دسویں نمبر پر ہے، جس نے گزشتہ برس اپنے جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ دو فیصد حصہ خرچ کیا، تاہم امریکا کی جانب سے جرمنی پر شدید دباؤ ہے کہ وہ نیٹو کے رکن ملک کی حیثیت سے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع پر خرچ کرے۔
جرمن حکومت نے اس سلسلے میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اس ہدف تک پہنچنے کے لیے سن 2024 تک کا وقت رکھا ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک نے اس سلسلے میں اتفاق کیا تھا، تاہم جرمنی میں ایک بڑا طبقہ دفاعی شعبے میں اخراجات میں اضافے کے خلاف بھی ہے۔
رواں ماہ ایک عوامی جائزے میں 53 فیصد جرمن شہریوں نے دفاعی شعبے میں اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے ہدف تک پہنچنے کے خلاف رائے دی تھی جب کہ جرمن پبلک براڈکاسٹر اے آر ڈی کے اس عوامی جائزے میں صرف 43 فیصد جرمن عوام نے اس کی حمایت کی تھی۔
سیپری کے مطابق فرانس اور برطانیہ بھی دفاع کے شعبے میں اخراجات کے حوالے سے پہلے دس ممالک میں شامل ہیں۔ تاہم روس اس فہرست میں چوتھے سے چھٹے مقام پر چلا گیا ہے۔ سپری کے مطابق اس کی وجہ روس کی جانب سے کم سرمایہ خرچ کرنا نہیں بلکہ روسی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی تھی۔
سپری سے وابستہ نان تیان کے مطابق، ’’گزشتہ برس روسی عسکری اخراجات میں تین اعشاریہ پانچ فیصد کمی کی بنیادی وجہ افراط زر میں اضافہ تھا۔ مقامی کرنسی میں دیکھا جائے تو روس نے سن 2017 اور 2018 میں ایک جتنا سرمایہ خرچ کیا۔‘‘
اس فہرست میں پاکستان دنیا میں 20 نمبر پر ہے۔ سپری کے مطابق پاکستان نے گزشتہ برس گیارہ اعشاریہ چار ارب ڈالر دفاع کے شعبے میں خرچ کیے۔
ع ت، ع الف (ہیلی جیپنسن)