1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دنیا سے جنگ یا محاذ آرائی نہیں چاہتے، پوٹن

14 اگست 2014

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے رواں برس مارچ میں روس کا حصہ بننے والے یوکرائن کے علاقے کریمیا کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو دنیا کے ساتھ جنگ یا محاذ آرائی کا خواہاں نہیں ہے۔

تصویر: picture-alliance/AP Photo

ولادیمیر پوٹن کریمیا میں روسی وزراء اور ارکان پارلیمان سے خطاب کر رہے تھے۔ چونکہ کئی ماہ سے جاری یوکرائن بحران کے حوالے سے روسی صدر کا لب ولہجہ کافی سخت رہا ہے اس لیے توقع کی جا رہی تھی کہ پوٹن اس موقع پر یوکرائن کے بارے میں کوئی بہت اہم اعلان کریں گے۔

تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے حالیہ بیانوں اور نقطہ نظر کے برعکس نرم انداز میں کہا کہ ان کا ملک دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتا ہے لیکن بیرونی دنیا کے ساتھ محاذ آرائی کی قیمت پر نہیں۔ یوکرائنی بحران کے تناظر میں روس اور مغربی ممالک کے تعلقات سرد جنگ کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

ولادیمیر پوٹن کریمیا میں روسی وزراء اور ارکان پارلیمان سے خطاب کر رہے تھےتصویر: picture-alliance/AP Photo

ولادیمیر پوٹن کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’ہمیں اطمینان اور وقار سے اور مؤثر طریقے سے اپنے ملک کو تعمیر کرنا چاہیے، نہ کہ اسے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کر لینا چاہیے۔‘‘ ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’ہمیں مستحکم اور متحرک ہونے کی ضرورت ہے لیکن کسی طرح کی جنگ یا محاذ آرائی کے بغیر،... اور روس کے نام پر سخت محنت کے ذریعے۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس اپنی بساط کے مطابق یوکرائن کے تنازعے کو جلد از جلد حل کرنے اور وہاں خونریزی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اپنی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسے امن سے محبت پر مبنی ہونا چاہیے۔

پوٹن کے بہت سے مغربی ناقدین کے مطابق پوٹن پہلے بھی امن پسندانہ بیانات دیتے رہے ہیں تاہم ان کا عمل اس سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ یورپی ممالک اور امریکا روس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں ملکی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے روس نوازوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ ان ممالک کے مطابق روس کی جانب سے مشرقی یوکرائنی علاقوں کے لیے امدادی سامان کے قافلے کو بھیجنا بھی دراصل فوجی آپریشن کا ایک بہانہ ہو سکتا ہے۔

تاہم ماسکو اس طرح کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ روسی حکومت کے مطابق وہ محض مشرقی یوکرائن میں رہنے والوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہتی ہے، جس کی اکثریت روسی زبان بولتی ہے۔ روس الزام عائد کرتا ہے کہ اس آبادی کو یوکرائنی فوج نشانہ بنا رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں