گرگٹ نسل کے چھوٹے ترین رینگنے والے جانور کی دریافت جرمن اور مڈغاسکری محققین کے کھوج کا نتیجہ ہے۔ یہ لمبائی میں بمشکل نصف انچ سے معمولی سا بڑا یا ساڑھے تیرہ ملی میٹر ہے۔
تصویر: Frank Glaw/SNSB-ZSM/dpa/picture alliance
اشتہار
کیمیلیون یا گرگٹ نسل کے اس انتہائی چھوٹی جسامت رکھنے والے گرگٹ کا نام 'بروکیسیا نانا‘ تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے مراد نینو گرگٹ (کیمیلیون) ہے۔ نینو سے مراد بہت ہی چھوٹا لیا جاتا ہے۔ نینو کیمیلیون انسانی انگل کے بالائی سرے یا بنان پر بھی سما سکتا ہے۔آسٹریلیا میں سینکڑوں کمیاب کوآلاز جنگلاتی آگ میں جل کر ہلاک
مڈغاسکر کی پہاڑیوں کی نسل
رینگنے والے جانوروں پر تحقیق کو ہیرپیٹالوجی یا ہوامیات کہا جاتا ہے اور اس کے جرمن ماہر فرانک گلاو نے بتایا کہ اس جانور کی دریافت مڈغاسکر کے شمالی پہاڑی علاقے میں ہوئی تھی۔ یہ دریافت سن 2012 میں کی جانے والی ایک مہم کا نتیجہ ہے۔ تحقیقی عمل مکمل ہونے کے بعد نتائج کو عام کیا گیا ہے۔ فرانک گلاو کا تعلق جنوبی جرمن ریاست باویریا کے ادارہ برائے زوالوجی کلیکشن سے ہے۔
نینو کیمیلیون انسانی انگل کے بالائی سرے یا بنان پر بھی سما سکتا ہےتصویر: Frank Glaw/SNSB-ZSM/dpa/picture alliance
نر نینو گرگٹ مادہ سے بڑا
فرانک گلاو کا کہنا ہے کہ نینو گرگٹ کا نَر اپنی مادہ سے تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے۔ گلاو کے مطابق اس جانور کو دیکھنے کے لیے زمین پر گھٹنے لگانے پڑتے ہیں کیونکہ ان کی رنگت پودوں یا زمینی گھاس جیسی نظر آنے کے باعث انہیں دیکھنا مشکل کام ہے۔ جرمن ماہر ہوامیات کا کہنا ہے کہ ان کی رفتار بھی بہت سست ہوتی ہے۔ سن 2012 میں جب نینو گرگٹ کے جوڑے کو ڈھونڈا گیا تھا، اس وقت مادہ کے پیٹ میں بہت سے انڈے تھے۔
ریچھ اور کتا نما اس جانور کا نام شیطانِ تسمانیا ہے۔ اس جانور کو منہ کے متعدی کینسر کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی نوے فیصد نسل ختم ہو گئی ہے۔ اس جانور کو شدید توجہ کی ضرورت ہے۔
تصویر: Getty Images/A. Pretty
مجبور شیطان
عموماً کینسر کے خلیے جسم کے اندر پھیلتے ہیں لیکن ’ٹسمانین ڈیول‘ یا شیطان تسمانیا کی پریشانی یہ ہے کہ اس کا کینسر منہ کے باہر اور اندر پھیلتا ہے۔ یہ ایک متعدی مرض ہے اور اِس میں صرف اِسی کی نسل مبتلا ہوتی ہے۔ انسان اور دوسرے جانور اس کینسر سے محفوظ ہیں۔ اس مرض کو ڈیول فیشئل ٹیومر ڈیزیز (DFTD) کہتے ہیں۔ اس جانور میں اس مہلک بیماری کا انکشاف بیس برس قبل ہوا تھا۔
تصویر: Getty Images/A. Pretty
دردناک موت
جس شیطان تسمانیا کو یہ بیماری لاحق ہو جاتی ہے، یہ اس کے چہرے پر بڑے بڑے پھوڑوں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس بیماری سے اس کی کتے جیسی تھوتھنی اور مجموعی چہرہ انتہائی خراب دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس بیماری سے اس کو ایک دردناک موت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے مرنے کی بڑی وجہ بھوک ہے کیونکہ منہ کے اندر زخموں کی وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں کھا سکتا۔
تصویر: Getty Images/Tasmania Department of Primary Industries, Water and Environment
ایک پرامن جانور
گزشتہ چھ سو برسوں سے شیطانِ تسمانیا آسٹریلوی علاقے تسمانیا کے جنگلات میں ہی بستے ہیں۔ انسانی بیزاری کی وجہ اس جانور کا غیر ضروری شور شرابہ اور چیخنا ہے۔ انگلش نوآبادیاتی دور میں انہیں زہر دینے کے علاوہ پکڑ کر ہلاک بھی کیا گیا۔
تصویر: DW/Michael Marek
رہنے کا علاقہ کم ہوتا ہوا
یہ جانور رات کا راہی ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد اس کی سرگرمیوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اب انسانی بستیوں کے پھیلاؤ سے ٹسمانین ڈیول کی افزائش اور جینے کے علاقے محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ کئی مرتبہ کاروں کی زد میں آ کر بھی ان کی ہلاکت ہوئی ہے۔
تصویر: DW/Michael Marek
کینسر کی وجہ داخلی اسٹریس!
شیطانِ تسمانیا کے لیے دو میں سے ایک ٹروونا پارک ہے۔ اس میں ان کی خاص نگہداشت کی جاتی ہے۔ اس پارک سے وابستہ آندرو کیلی کا خیال ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے تسمانیا میں پیدا ہونے والی خشک سالی نے اس جانور کے اندر اسٹریس پیدا کیا اور اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو کر رہ گیا اور یوں ٹیومر کے سیل پیدا ہونا شروع ہو گئے۔
تصویر: DW/Michael Marek
بیماری پر ریسرچ
آسٹریلوی جنگلاتی حیات کی دو پارکس ’ٹرووُونا‘ اور ’ڈیولز کریڈل‘ میں اس جانور میں پیدا ہونے والی بیماری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان پارکس میں شیطانِ تسمانیا کی افزائش کے علاوہ انہیں بڑا بھی کیا جاتا ہے اور پھر انہیں جنگل میں چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ وہ آزادی سے گھوم پھر سکیں۔ ان دونوں مقامات پر آٹھ سو جانور رکھے گئے ہیں۔ ان کی بیماری کے خلاف خصوصی ریسرچ بھی جاری ہے۔
تصویر: DW/Michael Marek
ٹیومر کا جینیاتی ردعمل
کئی حیاتیاتی سائنسدان ان دنوں شیطانِ تسمانیا کے منہ کے کینسر کے خلاف ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس کے لگانے سے شیطانِ تسمانیا میں کینسر کے خلاف مدافعت پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے جینز نے ویکسین کی مدد سے کینسر کے خلاف مدافعت پیدا کی ہے، جسے حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔
تصویر: DW/Michael Marek
7 تصاویر1 | 7
نینو گرگٹ کی نسل کو خطرہ
مڈغاسکر ایک بڑا جزیرہ ہے اور اس کے جنگلات مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ جرمن شہر ہیمبرگ کے مرکز برائے نیچرل ہسٹری سے منسلک ارتقائی حیاتیات کے ماہر اولیور ہاولٹشیک کا کہنا ہے کہ نینو گرگٹ کی نشو و نما اور اس کی نسل کی افزائش کا اصل علاقہ مڈغاسکر کے جنگلات ہیں لیکن ان میں مسلسل کمی رونما ہو رہی ہے اور بدقسمتی سے یہی اس جانور کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
نینو گرگٹ مڈغاسکر کے جنگلات میں افزائش پاتا ہےتصویر: Frank Glaw/AP Photo/picture-alliance
جنگلات کا صفایا
مڈغاسکر کو جنگل بردگی کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کی وجہ غیرقانونی جنگلوں کی کٹائی ہے۔ سن 2019 میں معتبر جریدے 'نیچر کلائمیٹ چینج‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مڈغاسکر کے بارانی جنگلات کی کٹائی اسی طرح جاری رہی تو سن 2070 میں اس جزیرے کے تمام جنگلات کا صفایا ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں اس جزیرے پر پائی جانے والے جانوروں کی کئی اقسام ناپید ہو جائیں گی۔