1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دنیا کا سب سے چھوٹا رینگنے والا جانور دریافت

6 فروری 2021

گرگٹ نسل کے چھوٹے ترین رینگنے والے جانور کی دریافت جرمن اور مڈغاسکری محققین کے کھوج کا نتیجہ ہے۔ یہ لمبائی میں بمشکل نصف انچ سے معمولی سا بڑا یا ساڑھے تیرہ ملی میٹر ہے۔

Madagaskar | Winziges Chamäleon entdeckt
تصویر: Frank Glaw/SNSB-ZSM/dpa/picture alliance

کیمیلیون یا گرگٹ نسل کے اس انتہائی چھوٹی جسامت رکھنے والے گرگٹ کا نام 'بروکیسیا نانا‘ تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے مراد نینو گرگٹ (کیمیلیون) ہے۔ نینو سے مراد بہت ہی چھوٹا لیا جاتا ہے۔ نینو کیمیلیون انسانی انگل کے بالائی سرے یا بنان پر بھی سما سکتا ہے۔آسٹریلیا میں سینکڑوں کمیاب کوآلاز جنگلاتی آگ میں جل کر ہلاک

مڈغاسکر کی پہاڑیوں کی نسل

رینگنے والے جانوروں پر تحقیق کو ہیرپیٹالوجی یا ہوامیات کہا جاتا ہے اور اس کے جرمن ماہر فرانک گلاو نے بتایا کہ اس جانور کی دریافت مڈغاسکر کے شمالی پہاڑی علاقے میں ہوئی تھی۔ یہ دریافت سن 2012 میں کی جانے والی ایک مہم کا نتیجہ ہے۔ تحقیقی عمل مکمل ہونے کے بعد نتائج کو عام کیا گیا ہے۔ فرانک گلاو کا تعلق جنوبی جرمن ریاست باویریا کے ادارہ برائے زوالوجی کلیکشن سے ہے۔

نینو کیمیلیون انسانی انگل کے بالائی سرے یا بنان پر بھی سما سکتا ہےتصویر: Frank Glaw/SNSB-ZSM/dpa/picture alliance

نر نینو گرگٹ مادہ سے بڑا

فرانک گلاو کا کہنا ہے کہ نینو گرگٹ کا نَر اپنی مادہ سے تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے۔ گلاو کے مطابق اس جانور کو دیکھنے کے لیے زمین پر گھٹنے لگانے پڑتے ہیں کیونکہ ان کی رنگت پودوں یا زمینی گھاس جیسی نظر آنے کے باعث انہیں دیکھنا مشکل کام ہے۔ جرمن ماہر ہوامیات کا کہنا ہے کہ ان کی رفتار بھی بہت سست ہوتی ہے۔ سن 2012 میں جب نینو گرگٹ کے جوڑے کو ڈھونڈا گیا تھا، اس وقت مادہ کے پیٹ میں بہت سے انڈے تھے۔

نینو گرگٹ کی نسل کو خطرہ

مڈغاسکر ایک بڑا جزیرہ ہے اور اس کے جنگلات مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ جرمن شہر ہیمبرگ کے مرکز برائے نیچرل ہسٹری سے منسلک ارتقائی حیاتیات کے ماہر اولیور ہاولٹشیک کا کہنا ہے کہ نینو گرگٹ کی نشو و نما اور اس کی نسل کی افزائش کا اصل علاقہ مڈغاسکر کے جنگلات ہیں لیکن ان میں مسلسل کمی رونما ہو رہی ہے اور بدقسمتی سے یہی اس جانور کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

نینو گرگٹ مڈغاسکر کے جنگلات میں افزائش پاتا ہےتصویر: Frank Glaw/AP Photo/picture-alliance

جنگلات کا صفایا

مڈغاسکر کو جنگل بردگی کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کی وجہ غیرقانونی جنگلوں کی کٹائی ہے۔ سن 2019 میں معتبر جریدے 'نیچر کلائمیٹ چینج‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مڈغاسکر کے بارانی جنگلات کی کٹائی اسی طرح جاری رہی تو سن 2070 میں اس جزیرے کے تمام جنگلات کا صفایا ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں اس جزیرے پر پائی جانے والے جانوروں کی کئی اقسام ناپید ہو جائیں گی۔

ع ح / ا ب ا (روئٹرز، اے ایف پی، اے پی)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں