1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دوحہ ماحولیاتی کانفرنس، نتائج پر مایوسی

12 دسمبر 2012

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ بارہ روزہ کانفرنس گزشتہ ویک اینڈ پر اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ اس کانفرنس سے زیادہ بڑی توقعات تو پہلے ہی وابستہ نہیں کی جا رہی تھیں تاہم اس کے نتائج پر بہرحال مایوسی ظاہر کی جا رہی ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

ہر بار یہی ہوتا ہے۔ پوری دنیا سے کوئی بیس ہزار سیاستدان، ماحول کے شعبے کے ماہرین اور تحفظ ماحول کی علمبردار تنظیموں کے نمائندے دنیا میں کسی ایک جگہ مل بیٹھتے ہیں اور دو ہفتوں تک تبادلہء خیال کرتے ہیں۔ وہ غریب ممالک واویلا کرتے اور اپیلیں جاری کرتے ہیں، جو ابھی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جواب میں امیر صنعتی ممالک اپنے مفادات کے تحفظ پر نظر رکھتے ہیں۔ ماحول کو آلودہ کرنے والے بڑے ممالک ہر پیشرفت کا راستہ روک دیتے ہیں۔ تحفظ ماحول کی علمبردار تنظیمیں انتباہ پر انتباہ جاری کرتی ہیں۔ اس بار دوحہ میں بھی یہی کچھ ہوا۔

اس کانفرنس کا واحد بڑا مثبت نتیجہ غالباً یہ تھا کہ طویل کشمکش کے بعد کیوٹو دستاویز کی مدت میں 2020ء کے اواخر تک کے لیے توسیع پر اتفاق رائے ہو گیا اور یوں اس کانفرنس کو مکمل ناکامی سے بچایا جا سکا۔

8 دسمبر کی اس تصویر میں دوحہ کانفرنس کے صدر عبداللہ بن حماد العطیہ جرمن وزیر ماحول پیٹر آلٹمائر کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیںتصویر: Ingo Strube/BMU/dapd

ان نتائج پر جرمن وزیر ماحول پیٹر آلٹمائر کا کہنا تھا:''یہاں ہونے والی پیشرفت اُتنی بڑی نہیں ہے، جتنی شاید ہم تصور کر سکتے تھے لیکن ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی جزیرہ ریاستوں، ترقی کی دہلیز پر کھڑے ملکوں اور امیر صنعتی ملکوں، سبھی نے اس پیشرفت کو بڑی حد تک قبول کیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کانفرنس کے نتائج بہرحال اہمیت رکھتے ہیں۔‘‘

اس کے برعکس ماحول دوست تنظیمیں اس کانفرنس کے نتائج پر ہرگز خوش نہیں ہیں۔ گرین پیس نے کہا کہ امریکا اور چین کے ساتھ تحفظ ماحول کے عالمگیر معاہدے کا راستہ اب مزید دُشوار ہو گیا ہے۔ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے ہاں کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لازمی وعدے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گرین پیس کے مارٹن کائیزر نے کہا:’’میرے خیال میں اب یہ مذاکراتی عمل اس طرح سے جاری نہیں رہ سکتا۔ یہ عمل غالباً اس وجہ سے تعطل کا شکار ہو چکا ہے کہ عالمی رائے عامہ کو ہر سال یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں کامیاب پیشرفت کی ہے جبکہ آخر میں نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔‘‘

گرین پیس کے مارٹن کائیزرتصویر: DW/A. Allmeling

ماحولیاتی تنظیم WWF یعنی ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے بھی اس کانفرنس میں یورپی یونین کی ’کمزور کارکردگی‘ کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔

یورپی پارلیمان میں گرین پارٹی کے حزب کی سربراہ ریبیکا ہارمز (Rebecca Harms) نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے کم از کم 30 فیصد کے ہدف کا تعین کب کا ضروری ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین نے سن 2020ء تک اپنے ہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 20 فیصد تک کی کمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے تاہم یونین اپنے رکن ملک پولینڈ کو اس شرح کو تیس فیصد تک لے جانے کا قائل کرنے میں ناکام رہی اور یہ ناکام کوششیں دوحہ میں بھی جاری رہیں۔ ظاہر ہے، ایسے حالات میں یورپی یونین پر بجا طور پر کمزور کارکردگی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یورپی یونین کے کمشنر برائے ماحولیاتی امور کونی ہیڈے گارڈ نے بھی دوحہ مفاہمت کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

I.Quaile/J.Mayr/aa/km

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں