1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
آزادی صحافت

دوسری عالمی جنگ: صدر پوٹن کی ’مؤرخ‘ بننے کی کوشش

25 جون 2020

برلن میں روسی سفارت خانے نے جرمن مؤرخین کو دوسری عالمی جنگ کے بارے میں صدر پوٹن کے تصنیف کردہ ایک مضمون کو تاریخی حوالے کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز دے دی۔ تاریخ نویس اس عمل کوعلمی آزادی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

Russland Wladimir Putin hält eine Rede auf dem Roten Platz
تصویر: Getty Images/Host Photo Agency/S. Guneev

سوویت افواج کی نازی جرمنی کے خلاف تاریخی فتح کی ياد ميں منائے جانے والے جشن کے موقع پر مشرقی یورپ کی تاریخ دان پروفیسر یولیا اوبیرٹرائس کو برلن میں قائم روسی سفارتخانے کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی۔ اس ای میل کا موضوع تھا، ’ولادیمیر پوٹن کا مضمون۔‘ صدر پوٹن کی جانب سے دوسری عالمی جنگ کے بارے میں لکھا گیا یہ مضمون اس سے قبل روسی اور انگریزی زبان میں پہلے ہی شائع ہو چکا تھا۔

ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں منعقد ہونے والی پریڈتصویر: Getty Images/R. Sitdikov


اپنے مضمون میں، صدر پوٹن ایسے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ پوٹن نے اپنے مضمون ميں میونخ معاہدے اور مغربی ممالک کی پالیسیوں  کی شدید مذمت کی ہے۔ ہٹلر اور اسٹالن کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کا جو جواز انہوں نے پيش کيا، اس پر پولینڈ اور بالٹک ریاستوں میں تنقید بھی ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ای میل کے آخر میں ایک نوٹ درج تھا کہ مستقبل میں مؤرخین ولادیمیر پوٹن کی اس تحریر کو تاریخی حوالے کے طور پر استعمال کریں۔  دیگر جرمن مؤرخین کو بھی یہ پیغام موصول ہوا اور ڈی ڈبلیو نے اس کی ایک کاپی حاصل کی ہے۔

مزید پڑھیے: سابقہ مشرقی جرمنی برطانوی نشریاتی ادارے کا دشمن کیسے بنا؟
تاریخ نویس روسی سفارتخانے پر برہم
جرمنی کی یونیورسٹی آف ایرلانگن - نورمببرگ میں مشرقی یورپ کی تاریخ کی پروفیسر اوبیرٹرائس نے ٹوئٹر پر اس ای میل کا ایک اسکرین شاٹ شائع کرتے ہوئے اپنے جواب میں شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’مشرقی یورپ کی ماہر تاریخ کی حیثیت سے مجھے سفارتی خطوط کے ذریعے علمی مشورے درکار نہیں اور روسی امبیسی کی جانب سے تحقیقی آزادی کے عمل میں مداخلت ناقابل قبول ہے۔

برلن میں روسی سفارتخانے کی عمارتتصویر: Getty Images/S. Gallup


ادھر مشرقی یورپ کے امور کی ماہر پروفیسر آنکے ہِلبرینر کے لیے بھی یہ ای میل حیران کن تھی۔ ان کے خیال میں ایک صدر کے لیے ’’انتہائی غیر معمولی‘‘ عمل ہے کہ وہ خود کو تاریخ دان کے طور پر پیش کرے۔ پروفیسر ہلبرینر ’سیاست اور اکیڈمیا کے میل‘ کو ایک سنگین مسئلہ سمجھتی ہیں۔
روسی سفارتخانے کا اس اقدام کا دفاع
ڈی ڈبلیو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے روسی سفارتخانے نے دعویٰ کیا کہ صدر پوٹن کے مضمون کو ’جرمنی کے میڈیا، سیاستدان اور معاشرے میں بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی تھی۔‘ سفارتخانے نے بتایا کہ اس وجہ سے صدر پوٹن کے آرٹیکل میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مکمل مضمون فراہم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: روسی آئین میں ترامیم، صدر پوٹن کے اختیارات میں مزید اضافہ؟
واضح رہے دوسری عالمی جنگ کے بارے میں لکھے گئے صدر پوٹن کے اس مضمون میں درج متضاد دعووں کے حوالے سے تمام مؤرخین متفق نظر آتے ہیں اور حکومتوں کی جانب سے تاریخ کو اپنے مفاد میں پیش کرنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
رومان گونشارینکو / ع آ / ع س

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں