1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخیورپ

دو عالمی جنگوں اور تین ہلاکت خیز وباؤں پر مشتمل بیسویں صدی

عبدالستار | ادارت | شکور رحیم
21 فروری 2026

عظیم سلطنت روما کا زوال اور کروڑوں انسانی جانیں نگل جانے والی جنگیں اور وبائیں: ڈی ڈبلیو اردو کی یہ سیریز آپ کو تاریخ کے ان واقعات کی گہرائی تک لے جائے گی، جب انسانیت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔ ساتویں قسط ۔

Spanische Grippe, USA / Foto 1918 - Spanish Flu, USA / Photo / 1918 -
تصویر: picture-alliance / akg-images

انسانی تاریخ میں اگر کچھ صدیوں کو انتہائی ہنگامہ خیز قرار دیا جائے تو اس میں بیسویں صدی بھی شامل ہوگی، جس میں مختلف وجوہات کی بنا پر کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ ہم پہلے ہی ڈی ڈبلیو اردو کے تاریخی مضامین  کی اس سیریز میں کچھ اہم واقعات کا تذکرہ کر چکے ہیں،  جیسے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کا۔ اب ہم کچھ دیگر ایسے واقعات کا ذکر کریں گے، جنہوں نے بیسویں صدی میں دنیا کو بری طرح متاثر کیا۔

انہی میں سے ایک نزلے کی وبا تھی، جسے اسپینش فلو بھی کہا جاتا ہے۔ 1918ء میں شروع ہونے والی اس وبا نے پہلی عالمی جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جو اس وبا کے پھوٹنے کے دوران بھی جاری رہی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس  عالمی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں  پانچ سے دس کروڑ کے درمیان انسان ہلاک ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبا سے قبل کے 500 برسوں میں نزلے کی پندرہ وبائیں  رونما ہو چکی تھیں لیکن کوئی بھی اسپینش فلو جتنی خطرناک نہیں تھی۔

کہا جاتا ہے کہ 1890ء کی دہائی سے لے کر 1917ء تک 15 وبائیں پھیلیں لیکن ان می سے کسی ایک نے بھی 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو موت کی آغوش میں نہیں دھکیلا لیکن ا سپینش فلو نے پانچ سے دس کروڑ کے درمیان انسانوں کو نگل لیا۔

1918ء میں شروع ہونے والی اس وبا نے پہلی عالمی جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیاتصویر: picture alliance / Everett Collection

پہلی عالمی جنگ کے مخالفین اور کئی ناقدین کا خیال ہے کہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پہ ہجرت، فوجیوں کی نقل و حرکت، اسپتالوں میں زخمیوں کی بھرمار، جراثیم کا پھیلاؤ اور ماحول کی مجموعی آلودگی نے اس وبا کو مزید خطرناک بنایا۔

کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس کو بلا وجہ اسپینش فلو کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بات تصدیق شدہ نہیں ہے کہ اس کی شروعات اسپین میں ہوئی۔ کچھ کے خیال میں یہ امریکہ میں شروع ہوئی تھی، جہاں اس سے چھ لاکھ پچھتر ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اتنی بڑی تعداد میں امریکی شہری دو عالمی جنگوں سمیت ویتنام اور کوریا کی جنگوں میں بھی  نہیں مارے گئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اسپین جنگ کے دوران غیر جانبدار تھا اس لیے وہاں اخبارات پر پابندی نہیں تھی۔ غالباﹰ یہی وجہ ہے کہ جب اسپین میں 1918ء میں اس وبا کا پہلا کیس سامنے آیا تو اخبارات نے اسے رپورٹ کیا جبکہ اسی طرح کے واقعات کو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کچھ دوسرے مغربی ممالک میں جنگ کی پابندیوں کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس بیماری کا ظہور شمالی نصف کرہ میں 1918ء کے موسم بہار میں ہوا اور اس کے اختتام تک اس کا زور کم ہو گیا تھا۔ تاہم اگست کے آخری حصوں میں ایک خطرناک لہر اٹھی، جو اسی سال کے آخر تک تھم گئی۔

تیسری لہر 1919ء کے ابتدائی مہینوں میں شروع ہوئی اور اس نے تقریباﹰ 500 ملین یعنی 50 کروڑ انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیا یا بیماری کا نشانہ بنایا۔ اس کا مطلب ہے کہ اُس وقت ہر تین زندہ بندوں میں سے ایک اس وبا سے متاثرہ تھا۔ زیادہ تر مورخین اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ کروڑ بتاتے ہیں لیکن کئی کا خیال ہے کہ یہ تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ برطانوی ریڈ کراس نے اس کا تخمینہ پانچ سے دس کروڑ لگایا ہے۔ صرف برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد ڈھائی لاکھ بتائی جاتی ہے۔

اسپینش فلو کی تیسری لہر 1919ء کے ابتدائی مہینوں میں شروع ہوئی اور اس نے تقریباﹰ 500 ملین یعنی 50 کروڑ انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیاتصویر: picture alliance / AP Photo

اس تعداد میں کمی  کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس حوالے سے قابل اعتبار رپورٹنگ نہیں ہوئی اور تشخیص کے لیے قابل اعتبار ٹیسٹ کا طریقہ کار بھی موجود نہیں تھا۔ اسپینش فلو کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ  ٹی بی کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد اس وبا کی وجہ سے موت کا شکار ہوئی اور جو لوگ پہلے سے بیمار تھے، انہیں بھی موت نے اپنی آغوش میں لے لیا۔

بچ جانے والے لوگوں میں ایک بڑی تعداد نسبتاﹰ صحت مند افراد کی تھی۔  1920ء میں بچوں کی پیدائش کے انقلاب کے تانے بانے ان بچ جانے والے صحت مند افراد سے بھی جوڑے جاتے ہیں۔ عموماﹰ وبائیں بچوں کے لیے خطرے لے کر آتی ہیں لیکن اس وبا میں ایک بڑی تعداد 20 سے 40 سال کی عمر وں کے لوگوں کی  تھی، جو بیماری کا شکار ہوئے۔ کیونکہ بڑی تعداد میں اپنے کنبوں کی کفالت کرنے والے افراد موت کا شکار ہوئے اور یورپ میں سوشل ویلفیئر سسٹم اتنا مضبوط نہیں تھا اس لیے بچ جانے والے افراد کو بہت ساری مالی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

 خیال کیا جاتا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے لوگوں کا سائنس پہ اعتبار کم ہوا۔ امریکہ میں خصوصا لوگوں نے متبادل ادویات کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔  تا ہم کچھ ممالک جیسے کہ چین پر اس کا الٹا اثر ہوا۔ وہاں انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس طرح کی وباؤں کو روکنے کے لیے سائنس کی ترقی ضروری ہے۔ اس وبا کے دوران صحت کا موثر نظام موجود نہیں تھا۔ اسی لیے اس وبا نے مغربی ممالک کو مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا نظام متعارف کرائیں، جو اس نوعیت کی وباؤں کے دوران اور بعد میں ان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ یورپ میں اس پیشرفت کو دیکھتے ہوئے روس کو بھی اپنے ہاں ایسا ہی نظام متعارف کرانا پڑا۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران تباہی کا شکار ہونے والا فرانسیسی شہر ویرڈاں تصویر: World History Archive/United Archives/picture alliance

اسپینش فلو کے علاوہ بیسویں صدی کے دوران 1957ء میں ایشین فلو اور 1968ء میں ہانگ کانگ فلو بھی آئے، جنہوں نے بالترتیب 20 لاکھ اور 40 لاکھ لوگوں کو ہلاک کیا۔

تو جہاں بیسویں صدی دو عالمگیر جنگوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی جس میں 86 ملین کے قریب لوگوں کی اموات ہوئیں،  وہیں اسپینش فلو اور دوسری وباؤں کی وجہ سے 50 سے 106 ملین کے درمیان افراد موت کے گھاٹ اترے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے، کالم یا ایسے کسی مضمون میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں