راسموسن کا پاکستان سے عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ
24 اپریل 2013
راسموسن نے یہ بات منگل کی شام برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ نیٹو سیکرٹری جنرل نے کہا، ’یہ ایک مسئلہ ہے کہ دہشت گرد سرحد پار کر کے افغان علاقوں میں کارروائیاں کر سکتے ہیں اور پھر پاکستان میں اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈتے ہیں‘۔
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق منگل کو نیٹو کے وزرائے خارجہ کے ایک روزہ اجلاس میں، جس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری پہلی مرتبہ واشنگٹن کی نمائندگی کر رہے تھے، افغانستان کی صورت حال پر بھی تفصیلی مشورے کیے گئے۔
پاک افغان مذاکرات
یہ بات بھی اہم ہے کہ آندرس فوگ راسموسن نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے مسلح حملوں اور پھر ان شدت پسندوں کی پاکستانی ریاستی علاقے میں محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق اپنا یہ بیان برسلز ہی میں ہونے والے ان مذاکرات سے محض ایک روز قبل دیا جن میں جان کیری کی میزبانی میں اعلٰی پاکستانی اور افغان اہلکار آپس میں بات چیت کریں گے۔
ان پاک افغان امریکی مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں جمود کے شکار قیام امن کے عمل اور اس سلسلے میں طالبان کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کی کوششوں کو کسی طرح آگے بڑھایا جائے۔ آج بدھ کو ہونے والی اس سہ فریقی ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے علاوہ افغانستان کی طرف سے صدر حامد کرزئی اور افغان وزیر دفاع حصہ لیں گے جبکہ پاکستان کی نمائندگی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ملکی سیکرٹری خارجہ کریں گے۔
پاک افغان مکالمت میں اسلام آباد اور کابل کے باہمی تعلقات کے علاوہ ان کے عسکریت پسندی کے خلاف آپس میں تعاون پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ اس تناظر میں نیٹو سیکرٹری جنرل راسموسن نے منگل کو برسلز میں یہ بھی کہا کہ پاک افغان سرحدوں پر موجودہ حالات ان تمام کوششوں کی نفی کر رہے ہیں، جو سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے لیے کی جا رہی ہیں۔
آندرس فوگ راسموسن نے کہا، ’یہ بات مشترکہ مفاد میں ہے کہ سرحد کے اطراف سے کی جانے والی کارروائیوں کے خلاف جنگ کو مل کر زیادہ کامیاب بنایا جائے‘۔ راسموسن کے بقول نیٹو نے پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اسلام آباد حکومت اور ملکی فوج کو افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کوششوں میں تیزی لانی چاہیے۔
نیٹو سیکرٹری جنرل نے مزید کہا، ’اگر ہم طویل المدتی بنیادوں پر نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے ساتھ ایک مثبت اشتراک عمل کے ساتھ ساتھ اسے ساتھ لے کر چلنے کی بھی ضرورت ہو گی‘۔
(mm/sks(Reuters