1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

راسموسن کا پاکستان سے عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ

24 اپریل 2013

نیٹو سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان لازمی طور پر ان عسکریت پسندوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کرے جو افغانستان پر حملوں کے لیے پاکستانی علاقوں کو اپنی پناہ گاہوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تصویر: AP

راسموسن نے یہ بات منگل کی شام برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ نیٹو سیکرٹری جنرل نے کہا، ’یہ ایک مسئلہ ہے کہ دہشت گرد سرحد پار کر کے افغان علاقوں میں کارروائیاں کر سکتے ہیں اور پھر پاکستان میں اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈتے ہیں‘۔

افغان صدر حامد کرزئیتصویر: REUTERS

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق منگل کو نیٹو کے وزرائے خارجہ کے ایک روزہ اجلاس میں، جس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری پہلی مرتبہ واشنگٹن کی نمائندگی کر رہے تھے، افغانستان کی صورت حال پر بھی تفصیلی مشورے کیے گئے۔

پاک افغان مذاکرات

یہ بات بھی اہم ہے کہ آندرس فوگ راسموسن نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے مسلح حملوں اور پھر ان شدت پسندوں کی پاکستانی ریاستی علاقے میں محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق اپنا یہ بیان برسلز ہی میں ہونے والے ان مذاکرات سے محض ایک روز قبل دیا جن میں جان کیری کی میزبانی میں اعلٰی پاکستانی اور افغان اہلکار آپس میں بات چیت کریں گے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانیتصویر: AP

ان پاک افغان امریکی مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں جمود کے شکار قیام امن کے عمل اور اس سلسلے میں طالبان کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کی کوششوں کو کسی طرح آگے بڑھایا جائے۔ آج بدھ کو ہونے والی اس سہ فریقی ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے علاوہ افغانستان کی طرف سے صدر حامد کرزئی اور افغان وزیر دفاع حصہ لیں گے جبکہ پاکستان کی نمائندگی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ملکی سیکرٹری خارجہ کریں گے۔

پاک افغان مکالمت میں اسلام آباد اور کابل کے باہمی تعلقات کے علاوہ ان کے عسکریت پسندی کے خلاف آپس میں تعاون پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ اس تناظر میں نیٹو سیکرٹری جنرل راسموسن نے منگل کو برسلز میں یہ بھی کہا کہ پاک افغان سرحدوں پر موجودہ حالات ان تمام کوششوں کی نفی کر رہے ہیں، جو سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے لیے کی جا رہی ہیں۔

آندرس فوگ راسموسن نے کہا، ’یہ بات مشترکہ مفاد میں ہے کہ سرحد کے اطراف سے کی جانے والی کارروائیوں کے خلاف جنگ کو مل کر زیادہ کامیاب بنایا جائے‘۔ راسموسن کے بقول نیٹو نے پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اسلام آباد حکومت اور ملکی فوج کو افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کوششوں میں تیزی لانی چاہیے۔

نیٹو سیکرٹری جنرل نے مزید کہا، ’اگر ہم طویل المدتی بنیادوں پر نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے ساتھ ایک مثبت اشتراک عمل کے ساتھ ساتھ اسے ساتھ لے کر چلنے کی بھی ضرورت ہو گی‘۔

(mm/sks(Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں