1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روسی امدادی قافلہ یوکرائنی سرحد پر داخلے کا منتظر

عابد حسین15 اگست 2014

مشرقی یوکرائن کے متاثرین کے لیے روس کی جانب سے دو سو سے زائد ٹرکوں پر مشتمل امدادی قافلہ یوکرائن کی سرحد پر کھڑا ہے۔ کییف حکومت نے بھی امدادی ٹرکوں کی ریڈ کراس سے کلیئرنس کی ہدایت کی ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

روس اور یوکرائن میں پیدا شدہ تلخی میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس تلخی کی وجہ روسی امدادی ٹرکوں کے قافلے کو یوکرائنی سرحد پر پہنچ کر داخلے کا انتظار ہے۔ کییف حکومت نے اس قافلے کو ہر ممکن طریقے سے یوکرائنی سرزمین میں داخل ہونے سے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ قافلہ یقینی طور پر کییف حکومت کے انتباہ کے بعد ہی روک دیا گیا ہے۔ کییف حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ امدادی قافلے میں شامل ہر ٹرک کو ریڈ کراس کے نمائندے باقاعدہ معائنے و تلاشی کے بعد کلیئر کریں۔ امدادی قافلے کو روسی فوجی گاڑیوں کا تحفظ بھی حاصل ہے۔ اِس قافلے میں کُل بڑے ٹرکوں اور ٹرالروں کی تعداد 262 ہے اور اِن میں 200 پر امدادی سامان لدا ہوا ہے۔

روسی امدادی قافلے کی فضائی حفاظت بھی جاری ہےتصویر: picture-alliance/dpa

اُدھرامریکی حکومت نے روس کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یوکرائن حکومت کی اجازت کے بغیر اپنے امدادی قافلے کو یوکرائن کی سرحد عبور مت کرنے دے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہارف کا کہنا ہے کہ روس پر واضح کر دیا گیا ہے کہ یوکرائنی حکومت کے وضع کردہ پلان کے مکمل ہونے سے قبل وہ کسی قیمت پر اِن ٹرکوں کو سرحد عبور نہ کرنے دے۔ دریں اثنا یوکرائنی حکومت نے جنگ زدہ شہر لُوہانسک کے لیے اپنا امدادی سامان روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روس کا امدادی ٹرکوں کا قافلہ یوکرائنی سرحد سے 28 کلومیٹر دور کھلے میدانوں میں کھڑا ہے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان اِس نئی تلخی کے تناظر میں یورپی کمیشن کے سربراہ یوزے مانوئیل باروسو نے روسی اور یوکرائنی لیڈروں کے درمیان ملاقات کی تجویز دی ہے۔ باروسو کے دفتر کے مطابق اِس سہ فریقی میٹنگ کے لیے وقت اور مقام کا تعین کیا جا رہا ہے۔ امکاناً میٹنگ میں یورپی کمیشن کے سربراہ کے ہمراہ روسی اور یوکرائن کے صدور ولادی میر پوٹن اور پیٹرو پوروشینکو شریک ہوں گے۔

مشرقی یوکرائن میں حکومتی فوج بتدریج باغیوں کے قبضے کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرتی جا رہی ہے۔ کییف حکومت کے اعلان کے مطابق اُس کی فوجوں نے لُوہانسک شہر کے نواح میں واقع قصبے نووسویٹلیفکا پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ قصبہ روسی سرحد سے پچیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اگر روسی ٹرکوں کا امدادی قافلہ یوکرائن میں داخل ہوتا ہے تو وہ اسی قصبے کے قریب ہی سامان اتارے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ نووسویٹلیفکا کا قصبہ لُوہانسک اور دوسرے قصبوں کے باغیوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں