1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روسی امدادی ٹرک ریڈکراس کی نگرانی میں یوکرائن میں داخل ہو سکتے ہیں، کییف حکومت

عاطف توقیر13 اگست 2014

یوکرائن نے کہا ہے کہ امدادی سامان سے لدے روسی ٹرک صرف ریڈ کراس کے ہمراہ ہی باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل اس روسی قافلے کے حوالے سے یوکرائن اور مغربی ممالک نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

تصویر: picture-alliance/dpa

منگل کے روز کوئی میلوں پر محیط یہ امدادی کارواں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں پھنسے شہریوں تک پہنچنے کے لیے یوکرائنی سرحد کی جانب بڑھا۔ یوکرائن اور مغربی ممالک کو خدشہ لاحق ہے کہ روس اس امدادی سامان کے ساتھ اپنے فوجی یوکرائن میں داخل کر سکتا ہے، تاہم روس ان خدشات کو رد کرتا ہے۔

روس کے مطابق اس امدادی کارواں میں دو سو میٹرک ٹن خوراک اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں اور اس کا مقصد مشرقی یوکرائن میں باغیوں اور یوکرائنی فورسز کے درمیان جاری جنگ میں پھنس کر رہ جانے والے عام شہریوں کی امداد ہے۔

منگل کے روز یوکرائنی حکومت نے کہا کہ یہ قافلہ اگر بین الاقوامی تنظیم ریڈکراس کے ہمراہ یوکرائنی چیک پوسٹوں کے ذریعے ملک کے مشرقی علاقے میں داخل ہوا، تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ یوکرائنی حکومت کے مطابق ان روسی ٹرکوں کو یوکرائنی چیک پوسٹ پر روسی ٹرکوں سے اتار کر ریڈ کراس کی گاڑیوں کے ذریعے مقررہ مقامات پر لے جایا جانا چاہیے۔

یہ درجنوں ٹرک مشرقی یوکرائن میں داخلے کے منتظر تھےتصویر: picture-alliance/dpa

ادھر اس صورتحال میں روسی صدر ولادیمر پوٹن آج بدھ کے روز ممکنہ طور پر کریمیا پہنچ رہے ہیں۔ رواں برس مارچ میں یہ یوکرائنی علاقہ ایک متنازعہ ریفرنڈم کے بعد روس میں شامل ہو گیا تھا۔ اس دورے میں ولادیمر پوٹن کے ہمراہ ان کی کابینہ کے اعلیٰ ارکان اور دیگر قانون ساز شامل ہوں گے۔

پوٹن اب تک ملک میں موجود قوم پرستوں اور مشرقی یوکرائن کے باغیوں کی جانب سے یوکرائن میں فوجی مداخلت کی اپیلوں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس امدادی قافلے کے ذریعے پوٹن اندرون ملک قوم پرستوں کی جانب سے حکومت پر ہونے والی تنقید میں کمی چاہتے ہیں، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مشرقی یوکرائن میں براہ راست فوجی مداخلت مغربی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف مزید سخت اقدامات کی صورت میں برآمد ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین درجنوں اہم روسی شخصیات اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے روسی معیشت پر خاصی ضرب پڑی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں