1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روسی بھارتی تعلقات

21 دسمبر 2012

بھارت اور روس کے تعلقات قديم اور بہت خاص قسم کے ہيں۔ روسی صدر ولادیمير پوٹن 24 دسمبر کو اپنے بھارت کے دورے کے دوران ان تعلقات کو اور مستحکم بنانے کی کوشش کريں گے۔

Wladimir Putin
تصویر: dapd

روسی صدر پوٹن کے دورہء بھارت کا مقصد دونوں ملکوں ميں فوجی روابط کو بھی بڑھانا ہے۔ بھارت اپنے اسلحے کا 60 فيصد روس سے درآمد کرتا ہے۔ برلن کے علوم سياست کے ٹرسٹ کی روس کے امور کی ماہر مارگريٹے کلائن نے کہا: ’’ميرے خيال ميں روس کو بھارت کی اُس سے زيادہ ضرورت ہے جتنی کہ بھارت کو روس کی ہے۔ بھارت علاقے ميں چينی اثرات روکنے کے ليے بہت اہم ہے۔ روس کئی ہائی ٹيک مصنوعات کی پيشکش بھی کر سکتا ہے۔ ان ميں لڑاکا جيٹ، ايٹمی بجلی گھر اور آبدوزیں بھی شامل ہيں۔ اس وقت روس جديد اسلحے کی تياری اور ريسرچ ميں صرف بھارت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔‘‘

بھارت کے پہلے وزير اعظم جواہر لال نہرو نے 1955ء ميں سابق سوويت يونين کا دورہ کيا تھا۔ اس کے چند ماہ بعد ہی نکيتا خروشیف نے بھارت کا دورہ کيا، جس ميں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے کشمير کے تنازعے ميں بھارت ايک خود مختار رياست کے طور پر عمل کر رہا ہے اور کسی ملک کو اس تنازعے ميں مداخلت کا حق نہيں ہے۔

من موہن سنگھ، ولادی مير پوٹنتصویر: picture-alliance/dpa

1962ء ميں بھارت اور چين کے سرحدی تنازعے ميں سوويت يونين غ‍ير جانبدار رہا تھا۔ اس ليے بھی بھارت نے 1965ء ميں پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے ليےاُسے بطور ثالث تسليم کيا تھا۔ 1971ء ميں سابق مشرقی پاکستان کی عليحدگی کی جنگ ميں سوويت يونين نے پاکستان اور اُس کے سب سے بڑے اتحادی امريکا کے خلاف کھل کر بھارت کا ساتھ ديا۔

سوويت يونين کے ٹوٹنے کے بعد بھی روس اور بھارت کے تعلقات جاری رہے۔ اس کے باوجود بھارت امريکا سے قريب آ گيا ہے۔ چين، فرانس، برطانيہ اور جرمنی بھی بھارت سے اپنے تعلقات ميں اضافہ کر رہے ہيں۔

نئی دہلی کی خاتون صحافی جيوتی ملہوترا نے کہا: ’’ہم نے ديکھا کہ پچھلے برسوں کے دوران عالمی نظام زيادہ کثير الطرفی کا سماں پيش کر رہا ہے۔ ہر ملک اپنے مفادات کی بنياد پر دوسرے ملکوں سے تعلقات رکھتا ہے۔ نظرياتی وجوہات کی کوئی اہميت نہیں ہوتی۔‘‘

اسی وجہ سے روس پچھلے برسوں کے دوران پاکستان سے قريب آيا ہے جس کو بھارت نے بہت غور سے ديکھا ہے۔ کلائن نے کہا کہ روس بھارت کی جگہ پاکستان کو نہيں دينا چاہتا بلکہ اس کا تعلق افغانستان اور يوں سلامتی کی سياست سے ہے۔

P. Esselborn, sas / G. Lucas, mm

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں