روسی تیل خریدنے پر بھارت پانچ سو فیصد تک ٹیکس ادا کرے گا؟
8 جنوری 2026
اگر 'گراہم-بلومن تھل' کے نام سے معروف پابندیوں کا یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ اُن ممالک پر "500 فیصد تک اضافی محصولات عائد کر دیں جو جان بوجھ کر روسی تیل یا یورینیم خریدتے ہیں اور اس طرح وہ "روس کی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔"
اگر یہ بل منظور ہوتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ اُن ممالک پر پانچ سو فیصد تک محصولات عائد کریں جو پابندی کے باوجود روس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔
ان ممالک میں بھارت ، چین اور برازیل بھی شامل ہیں جو روس سے تیل خرید رہے ہیں۔ یہ بات ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم، جو دفاعی امور میں سخت مؤقف رکھنے کے لیے مشہور ہیں، نے یہ بات بدھ کے روز بتائی۔
بل سے بھارت کے متاثر ہونے کا خطرہ
اس ہفتے کے آغاز میں سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا تھا کہ امریکہ میں بھارتی سفیر ونئے کواترا نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ نئی دہلی روسی تیل کی اپنی خریداری میں کمی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی سفیر نے ان سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ صدر ٹرمپ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ بھارت پر عائد ٹیرف میں نرمی کی جائے۔
تاہم اتوار کے روز ہی ایئر فورس ون میں سفر کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ ہی کھڑے بات کرتے ہوئے گراہم نے اس ٹیرف بل کا ذکر کیا تھا جس کے تحت روسی تیل خریدنے والے ممالک سے آنے والی درآمدات پر 500 فیصد محصولات عائد کرنے کی تجویز ہے۔
اس موقع پر ٹرمپ نے بھی کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو یہ بات معلوم ہے کہ "میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر خوش نہیں ہوں" اور یہ کہ واشنگٹن نئی دہلی کے خلاف بہت تیزی سے ٹیرفس میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے بھارتی برآمدات کے خلاف پہلے ہی سے پچاس فیصد اضافی ٹیرفس عائد کر رکھے ہیں جس کا اثر بھارتی معیشت پر پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔
روس کے خلاف امریکی اقدامات
یاد رہے کہ سخت پابندیوں کا یہ پیکج ماسکو کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ یوکرین پر روسی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر بات چیت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
لنڈسے گراہم نے کہا کہ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، جس کے دوران صدر نے اس بل کی حمایت کا اظہار کیا جو گزشتہ کئی ماہ سے زیرِ غور تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
گراہم نے اپنے بیان میں کہا، "یہ بروقت قدم ہوگا کیونکہ یوکرین تو امن کے لیے رعایتیں دے رہا ہے جبکہ پوٹن محض باتیں کر رہے ہیں اور بے گناہوں کا قتل جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
گراہم کے مطابق اس بل پر "اگلے ہفتے کے اوائل میں ووٹنگ" ہو سکتی ہے۔ سینیٹ اگلے ہفتے حکومتی اخراجات سے متعلق ایک محدود نوعیت کے بل پر غور کرنے والی ہے، جو اس وقت ایوانِ نمائندگان میں زیرِ بحث ہے۔