1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روسی حراست میں ایسٹونیئن پولیس افسر پر جاسوسی کا الزام عائد

عابد حسین12 ستمبر 2014

بالٹک خطے کی ریاست ایسٹونیا کے ایک پولیس افسر کو سرحد پر سے روسی فوج نے پانچ ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ اب عدالت میں اِس پولیس افسر پر جاسوسی کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

کوہور کو ماسکو کی لیفورٹوفو جیل میں رکھا گیا ہےتصویر: AP

ایسٹونیئن پولیس افسر ایسٹن کوہور (Eston Kohver) پر جاسوسی کا الزام عائد کرنے کے حوالے سے اطلاع اُن کے وکیل نے دی ہے۔ کوہور کے وکیل نکولائی پولوزوف نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایسٹن کوہور پر جاسوسی کے الزام کی چارج شیٹ آٹھ ستمبر کو عائد کی گئی تھی۔ پولوزوف کے مطابق اگر عدالت میں استغاثہ جاسوسی کے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ایسٹونیئن پولیس افسر کو بیس برس کی قید سنائی جا سکتی ہے۔ روسی وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ابھی تک ایسٹن کوہور سے ملاقات نہیں کر سکا ہے۔ کوہور کو ماسکو کی لیفورٹوفو جیل میں رکھا گیا ہے جو روس کی سکیورٹی ایجنسیوں کا حراستی مرکز ہے۔

ایسٹونیئن پولیس افسر کی گرفتاری امریکی صدر باراک اوباما کی ایسٹونیا آمد سے ایک دو روز قبل عمل میں آئی تھی۔ ایسٹونیا کے دارالحکومت تالِن سے حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایسٹن کوہور کو گن پوائنٹ پر اغوا کیا گیا تھا۔ یوکرائنی بحران کے تناظر میں بالٹک خطے کی ریاست ایسٹونیا میں عوامی اور حکومتی سطح پر قدرے پریشانی چھائی ہوئی ہے اور اوباما نے پہنچ کر اُنہیں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا تھا۔ ایسٹونیا سابقہ سوویت یونین کا حصہ تھا اور سن 1991 میں اُسے آزادی حاصل ہوئی تھی۔ تیرہ لاکھ آبادی والا یہ ملک نیٹو اور یورپی یونین میں سن 2004 میں شامل ہوا تھا۔

پولیس افسر ایسٹن کوہور (دائیں ) اپنے ملکی صدر ٹوماس ہینڈرک سے میڈل وصول کرنے کے بعدتصویر: picture-alliance/AP Photo

یورپی یونین نے روس سے ایسٹونیا کے پولیس کے ایک افسر کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک یورپی ترجمان کے مطابق یورپی یونین کو اغوا کے اس واقعے پر گہری تشویش ہے۔ اِس مناسبت سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ماسکو پہنچا ہوا یورپی یونین کا وفد بھی اِس معاملے پر روسی حکومت سے رابطہ کیے ہوئے ہے۔ یورپی ترجمان نے مزید کہا کہ روس کا یہ اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ماسکو حکام کے مطابق کوہور کو خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب روسی ٹیلی وژن نے ایسٹن کوہور کے جاسوسی کے حوالے سے فوٹیج بھی نشر کیے ہیں اور بتایا کہ وہ ایک پستول اور پانچ ہزار یورو کے ساتھ جاسوسی مشن پر تھا۔ اُدھر ایسٹونیا کے وزیر خارجہ اُرماس پائٹ کا کہنا ہے کہ ماسکو حکام ایسٹن کوہور کے معاملے پر تالِن حکومت کو مناسب اپ ڈیٹ فراہم نہیں کر رہے ہیں۔ روس اور ایسٹونیا کی مشترکہ سرحد پر روسی فوج نے ایسٹونیئن پولیس افسر کو پانچ ستمبر کے روز اغوا کیا تھا۔ ایسٹونیا کا موقف ہے کہ ان کے افسر کو اس وقت گرفتار کیا گیا ، جب وہ اپنے ملک کے خلاف ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں