ماہرین کا کہنا ہے کہ روس نے یورپ پر دباؤ بڑھانے کے لیے بیلاروس میں جوہری صلاحیت کے حامل میزائل تعنیات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سرد جنگ کے بعد ماسکو حکومت پہلی مرتبہ اپنی سرزمین سے باہر جوہری ہتھیار تعینات کر رہی ہے۔
سرد جنگ کے بعد ماسکو حکومت پہلی مرتبہ اپنی سرزمین سے باہر جوہری ہتھیار تعینات کر رہی ہے، فائل فوٹوتصویر: Alexander Zemlianichenko/AP Photo/picture alliance
اس پیش رفت کے نتیجے میں روس یورپ بھر کو اپنے میزائلوں کی زد میں لانے کی صلاحیت مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محققین کی یہ نشان دہی امریکی انٹیلیجنس کے نتائج سے عمومی طور پر مطابقت رکھتی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پہلے ہی بتایا تھا کہ وہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے اوریشنک میزائل بیلاروس میں تعنیات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن یہ کہاں نصب کیے جائیں گے، اس بارے میں درست مقام پہلے رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اوریشنک میزائل کی رینج تقریبا 5,500 کلومیٹر ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیلاروس میں اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی دراصل روس کی ایک ایسی کوشش ہے، جس کے تحت وہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کی طرف سے یوکرین کو ایسے ہتھیار فراہم نہ کیے جائیں، جو روس کے اندر تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔
ماسکو نے نومبر سن 2024 میں یوکرین میں ایک ہدف کے خلاف روایتی ہتھیاروں سے لیس اوریشنک میزائل کا تجربہ کیا تھا، فائل فوٹوتصویر: NATALIA KOLESNIKOVA/AFP
واشنگٹن میں روسی سفارتخانے نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہ دیا جبکہ بیلاروس کے سفارتخانے نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
بیلاروس کی سرکاری نیوز ایجنسی بیلٹا نے وزیر دفاع وکٹور خرینن کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اوریشنک کی تعیناتی یورپ میں طاقت کے توازن کو نہیں بدلے گی اور یہ دراصل مغرب کے ''جارحانہ اقدامات‘‘ پر ''ہمارا جواب‘‘ ہے۔
دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے بھی اس بارے میں فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا اور سی آئی اے نے بھی اپنی رائے محفوظ رکھی۔
اشتہار
روس کی تبدیل شدہ حکمت عملی؟
کیلیفورنیا میں مڈل بری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ جیفری لیوس اور ورجینیا میں سی این اے ریسرچ اینڈ اینالیسس تنظیم سے منسلک ڈیکر ایویلتھ کے مطابق انہوں نے اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی کے بارے میں اپنا اندازہ کمرشل سیٹلائٹ کمپنی پلینٹ لیبز کی تصاویر کی مدد سے لگایا ہے۔
لیوس اور ایویلتھ نے کہا کہ انہیں 90 فیصد تک یقین ہے کہ موبائل اوریشنک لانچرز اس سابقہ ایئر بیس پر رکھے جائیں گے۔ یہ بیس کریچیف کے قریب واقع ہے، جو بیلاروس کے دارالحکومت منسک سے تقریباً 307 کلو میٹر دور مشرق میں اور ماسکو سے 478 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
جان فورمین کا کہنا ہے کہ صدر پوٹن کا منصوبہ ہے کہ اس ہتھیار کو ''بیلاروس میں تعینات کیا جائے تاکہ اس کی رینج یورپ بھر میں مزید بڑھ جائے۔‘‘ تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس سے وابستہ فورمین ماسکو اور کییف میں برطانوی دفاعی اتاشی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
فورمین نے کہا کہ وہ اس روسی اقدام کو جرمنی میں امریکی میزائلوں کی متوقع تعیناتی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ آئندہ برس امریکہ اپنے روایتی میزائل جرمنی میں تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ان میزائلوں میں درمیانے فاصلے تک مار کر سکنے والے ہائپر سونک 'ڈارک ایگل‘ بھی شامل ہیں۔
بیلاروس میں روسی اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی سن 2010 میں طے پانے والے نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے چند ہفتے قبل متوقع ہے۔ یہ معاہدہ دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقتوں یعنی امریکہ اور روس کے اسٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کو محدود کرنے والا آخری معاہدہ ہے۔
صدر پوٹن نے دسمبر سن 2024 میں اپنے بیلاروسی ہم منصب الیکسانڈر لوکاشینکو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اوریشنک میزائلوں کو اس سال کی دوسری سہ ماہی میں بیلاروس میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
سپری کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن جوہری صلاحیت رکھنے والے نو ممالک اپنے ایٹم بموں کو جدید اور مزید مہلک بھی بنا رہے ہیں۔ کس ملک کے پاس کتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں؟
تصویر: Getty Images/AFP/J. Samad
روس
سپری کے مطابق 6,375 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ روس سب سے آگے ہے۔ روس نے 1,570 جوہری ہتھیار نصب بھی کر رکھے ہیں۔ سابق سوویت یونین نے اپنی طرف سے پہلی بار ایٹمی دھماکا سن 1949ء میں کیا تھا۔ سن 2015 میں روس کے پاس آٹھ ہزار جوہری ہتھیار تھے، جن میں سے متروک ہتھیار ختم کر دیے گئے۔ سپری کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس اور امریکا جدید اور مہنگے جوہری ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Anotonov
امریکا
سن 1945 میں پہلی بار جوہری تجربے کے کچھ ہی عرصے بعد امریکا نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کیے تھے۔ سِپری کے مطابق امریکا کے پاس اس وقت 5,800 ایٹمی ہتھیار ہیں، جن میں 1,750 تعنیات شدہ بھی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ جوہری ہتھیاروں کی تجدید کر رہی ہے اور امریکا نے 2019 سے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے بارے میں معلومات عام کرنے کی پریکٹس بھی ختم کر دی ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/C. Riedel
چین
ایشیا کی اقتصادی سپر پاور اور دنیا کی سب سے بڑی بری فوج والے ملک چین کی حقیقی فوجی طاقت کے بارے میں بہت واضح معلومات نہیں ہیں۔ اندازہ ہے کہ چین کے پاس 320 ایٹم بم ہیں اور سپری کے مطابق چین اس وقت جوہری اسلحے کو جدید تر بنا رہا ہے۔ نصب شدہ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں معلوات دستیاب نہیں ہیں۔ چین نے سن 1964ء میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔
تصویر: picture alliance/Xinhua/L. Bin
فرانس
یورپ میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار فرانس کے پاس ہیں۔ ان کی تعداد 290 بتائی جاتی ہے جن میں سے 280 نصب شدہ ہیں۔ فرانس نے 1960ء میں ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کی تھی۔ سپری کے مطابق فرانس کسی حد تک اب بھی اپنے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں معلومات عام کر رہا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/J.-L. Brunet
برطانیہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن برطانیہ نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ سن 1952ء میں کیا تھا۔ امریکا کے قریبی اتحادی ملک برطانیہ کے پاس 215 جوہری ہتھیار ہیں، جن میں سے 120 نصب ہیں۔ برطانیہ نے اپنا جوہری ذخیرہ کم کر کے 180 تک لانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Poa/British Ministry of Defence/T. Mcdonal
پاکستان
پاکستان کے پاس 160 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ سپری کے مطابق سن 1998 میں ایٹم بم تیار کرنے کے بعد سے بھارت اور پاکستان نے اپنے ہتھیاروں کو متنوع بنانے اور اضافے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مطابق ان کا جوہری پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر اب ان ہمسایہ ممالک کے مابین کوئی جنگ ہوئی تو وہ جوہری جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP
بھارت
سن 1974 میں پہلی بار اور 1998 میں دوسری بار ایٹمی ٹیسٹ کرنے والے ملک بھارت کے پاس 150 ایٹم بم موجود ہیں۔ چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی طرف سے پہلے کوئی جوہری حملہ نہیں کرے گا۔ بھارت اور پاکستان اپنے میزائل تجربات کے بارے میں تو معلومات عام کرتے ہیں لیکن ایٹمی اسلحے کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم ی جاتی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Swarup
بھارت
سن 1974ء میں پہلی بار اور 1998ء میں دوسری بار ایٹمی ٹیسٹ کرنے والے ملک بھارت کے پاس نوے سے ایک سو دس تک ایٹم بم موجود ہیں۔ چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی طرف سے پہلے کوئی جوہری حملہ نہیں کرے گا۔
تصویر: Reuters
اسرائیل
سن 1948ء سے 1973ء تک تین بار عرب ممالک سے جنگ لڑ چکنے والے ملک اسرائیل کے پاس مبیبہ طور پر قریب 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اسرائیل اب بھی اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی بھی معلومات عام نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
تصویر: Reuters/M. Kahana
اسرائیل
سن 1948ء سے 1973ء تک تین بار عرب ممالک سے جنگ لڑ چکنے والے ملک اسرائیل کے پاس قریب 80 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اسرائیلی ایٹمی پروگرام کے بارے میں بہت ہی کم معلومات دستیاب ہیں۔
تصویر: Reuters/B. Ratner
شمالی کوریا
شمالی کوریا 30 سے 40 جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کے بعد شمالی کوریا نے میزائل اور جوہری تجربات روکنے کا اعلان کیا تھا، لیکن پھر اس پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ شمالی کوریا کا اصل تنازعہ جنوبی کوریا سے ہے تاہم اس کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کو بھی خدشات لاحق ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس کمیونسٹ ریاست نے سن 2006ء میں بھی ایک جوہری تجربہ کیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/AP Photo/KCNA/Korea News Service
شمالی کوریا
ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کم از کم بھی چھ جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔ شمالی کوریا کا اصل تنازعہ جنوبی کوریا سے ہے تاہم اس کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کو بھی خدشات لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود اس کمیونسٹ ریاست نے سن 2006ء میں ایک جوہری تجربہ کیا تھا۔