روسی صدر ترکی کے دورے پر
1 دسمبر 2014
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مغرب کے ساتھ تعلقات میں سردمہری پیدا ہونے کے بعد روسی صدر متبادل تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش میں ہیں۔ اِس سلسلے میں وہ مشرقِ بعید کے علاوہ لاطینی امریکی ممالک پر بھی فوکس کیے ہوئے ہیں۔ انقرہ میں آج ایردوآن اور پوٹن کی ملاقات میں تجارت کے فروغ کو بھی خاص طور پر اہمیت حاصل ہو گی اور دونوں ملک اپنا تجارتی حجم ایک سو بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے نئے تجارتی سودوں کو بھی حتمی شکل دیں گے۔ اِس وقت روس اور ترکی کی تجارت تقریباً 39 بلین ڈالر کے مساوی ہے۔ اِس ملاقات میں شام اور عراق میں سنی انتہا پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی کارروائیوں کو بھی گفتگو میں شامل کیا جائے گا۔
روسی اور ترک صدور کی ملاقات کو دونوں ملکوں کے تھنک ٹینکس کی مرتب کردہ رپورٹ کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ رپورٹ استنبول گلوبل ریلیشنز فورم اور ماسکو کے کارنیگی سینٹر نے تیار کی ہے۔ اِس رپورٹ کے مطابق اگلے برسوں میں ترکی اور روس کو نہایت مہارت کے ساتھ اسٹریٹیجک روابط کو فروغ دینا ہو گا۔ ترک نیوز ایجنسی اناطولیا کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی صدر نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں ماسکو اور انقرہ حکومتوں کے تعلقات میں استحکام رہے گا اور موجودہ حالات سے یہ قطعاً متاثر ہوتے نہیں دکھائی دیتے۔ پوٹن اور ایردوآن کی ملاقات کو مبصرین نے دو طاقتور صدور کی ملاقات قرار دیا ہے۔
ترک اور روسی صدور اپنی ملاقات میں جہاں تجارت کے فروغ پر بات کریں گے وہاں انرجی یا توانائی سے متعلق معاملات کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ اِس گفتگو میں روسی صدر کا فوکس یقینی طور پر بلُو اسٹریم گیس پائپ لائن ہو گی۔ دوسری جانب ترکی کی دلچسپی روس کے تعاون سے بیس بلین ڈالر سے ایک جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔ ترک وزیر توانائی تانیر یِلدیز کا کہنا ہے کہ دونوں صدور کی ملاقات میں گیس سپلائی میں خصوصی رعایت کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ ترکی اِن دنوں روس کے ساتھ اضافی تین بلین کیوبک میٹر گیس کی سپلائی کے ساتھ ساتھ ڈسکاؤنٹ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔
ترکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن ہے اور اِس کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہ یورپی یونین کی رکنیت حاصل کر سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے ساتھ اُس کے مضبوط تعلقات یقینی طور پر یونین کے لیے باعث فکر ہو سکتے ہیں کیونکہ مغربی اقوام ترکی کے ساتھ تعلقات کو کمزور ہونے کا سردست سوچ نہیں سکتیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جرمنی کے بعد ترکی، روس کی قدرتی گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ روسی صدر کے دورے میں ترک مقام میرسن اکویُو (Akkuyu) میں جوہری توانائی کے پلانٹ کی تعمیر کو خاص طور پر اہمیت حاصل رہے گی۔ اِس جوہری پلانٹ کی تعمیر کا معاہدہ سن 2010 میں ہوا تھا۔ 20 بلین ڈالر کا یہ پراجیکٹ سن 2022 تک مکمل کیا جانا ہے۔ تجارت کے علاوہ سیاحت بھی ایک اہم پہلو ہے کیونکہ ہر سال اوسطاً 43 لاکھ روسی ترک علاقوں کی سیاحت کرتے ہیں۔