روسی صدر ولادیمیر کا دورہ کریمیا تنقید کی زد میں
9 مئی 2014
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کریمیا میں ہونے والی ایک فوجی تقریب میں شرکت کر کے آج یوم فتح منایا۔ نو مئی کو روسی کیلنڈر کا ایک اہم ترین دن قرار دیا جاتا ہے۔ سوویت فوجوں نے 69 برس قبل آج ہی کے دن نازی جرمنی کے خلاف فتح حاصل کی تھی۔ اس حوالے سے روسی دارالحکومت ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں بھی آج سالانہ ملٹری پریڈ منعقد ہوئی جس میں مسلح افواج کے 11 ہزار سے زائد اہلکار شریک تھے۔
پوٹن نے کریمیا کے شہر سیواستوپول میں ہونے والی ملٹری تقریب سے خطاب بھی کیا۔ رواں برس مارچ میں ایک متنازعہ ریفرنڈم کے بعد کریمیا کے روس کا حصہ بننے کے بعد یہ پوٹن کا یہ پہلا دورہ ہے۔ یوم فتح کے حوالے سے منعقد کی جانے والی اس تقریب میں صدر پوٹن نے روسی نیوی کے جہازوں کی پریڈ کے علاوہ روسی جنگی جہازوں کے فلائی پاسٹ کا معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر خطاب میں پوٹن نے روس کے ساتھ شامل ہونے کے حوالے سے کریمیا کے عوام کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ان کا اپنے وطن کی طرف واپسی کا فیصلہ قرار دیا۔
یوکرائن نے پوٹن کے دورہ کریمیا کی مذمت کرتے ہوئے اسے جانتے بوجھتے کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے یوکرائن کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’اس طرح کی اشتعال انگیزی اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ ماسکو، یوکرائن روس تعلقات کو جانتے بوجھتے کشیدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
پوٹن کے دورہ کریمیا کو یوکرائن کے علاوہ عالمی برادری کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد کے نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے روسی صدر کے دورہ کریمیا کو ’نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو اتحاد بحیرہ اسود کے جزیرہ نما کریمیا کو اب بھی یوکرائن کا حصہ سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کریمیا کے روس کے ساتھ اتحاد کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’میری اطلاعات کے مطابق یوکرائن حکام نے پوٹن کو دعوت نہیں دی تھی۔‘‘
امریکا نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا دورہ کریمیا تناؤ میں اضافے کا سبب بنے گا۔ امریکا کی نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترجمان لارا ماگنوسون Laura Magnuson کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’ہم روس کی طرف سے غیر قانونی طور پر کریمیا کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے لہذا اس طرح کا دورہ محض کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گا۔‘‘
دوسری طرف یوکرائن کے بحران زدہ جنوب مشرقی علاقے کے ایک اہم شہر ماری اوپول میں آج ہونے والی تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے یوکرائن کے وزیر خارجہ آرسین آواکوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرائن کی سکیورٹی فورسز نے جنوب مشرقی بندرگاہی شہر ماری اوپول میں ہونے والی جھڑپوں میں 20 روس نواز علیحدگی پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں یوکرائن کا ایک فوجی ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ یوکرائن کے جنوب مشرقی علاقے کے ایک درجن سے زائد شہروں کی حکومتی عمارات پر علیحدگی پسندوں کا قبضہ ہے۔