1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس اور پولینڈ: سفارتی ’پِنگ پونگ‘

عدنان اسحاق18 نومبر 2014

روس اور پولینڈ کے حکام نے تصدیق کر دی ہے سفارت کاروں کی بے دخلی ادلے کا بدلا ہے۔ روس نے ابھی گزشتہ روز متعدد پولستانی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا ہے۔

Polnische Botschaft in Moskau Archiv 2005
تصویر: AFP/Getty Images/D. Sinyakov

روسی وزارت خارجہ کے مطابق پولینڈ کے سفارت کار ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے، جو ان کی سفارتی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ روسی حکام کی جانب سے بے دخل کیے جانے والے افراد پر خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس دوران وارسا حکومت نے تصدیق کر دی ہے کہ تمام سفارت کار باحفاظت پولینڈ پہنچ گئے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پولینڈ کی حکومت نے انتہائی غیر دوستانہ انداز سے اور بغیر خبردار کیے کچھ روسی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک سے نکال دیا تھا اور ماسکو حکومت نے بھی اپنے رد عمل میں ایسا ہی کیا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ’’ پولینڈ نے روس کوجوابی اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔‘‘پولینڈ میں گزشتہ چند ایام کے دوران ملکی فوج کے ایک افسر اور ایک پولش روسی وکیل کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ دونوں بدستور زیر حراست ہیں۔

تصویر: Menahem Kahana/AFP/Getty Images

مشرقی یوکرائن میں جاری تنازعے اور مبینہ روسی مداخلت کے بعد مغربی دفاعی اتحاد میں شامل کچھ ممالک اور روس ایک دوسرے پر جاسوسی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ گریگوش شاٹینا کے بقول ’’یہ ایک متناسب جواب کی طرح ہے‘‘۔ اس کے علاوہ پراگ حکومت نے ابھی حال ہی میں کہا تھا کہ روس اور چین کی جانب سے چیک ریپبلک میں خفیہ سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

مشرق اور مغرب کی جاسوسی سرگرمیوں پر لکھی جانے والی کتاب ڈیسیپشن کے مصنف ایڈورڈ لوکاس اس بارے میں کہتے ہیں کہ نیٹو اور یورپی ممالک ایک عرصے سے روسی جاسوسی سے پریشان تھے تاہم انہوں نے ابھی حال ہی میں اس کے خلاف اقدامات اٹھانا شروع کیے ہیں۔ ’’ماضی میں اگر کوئی روسی سفارت کار جاسوسی کے الزامات میں پکڑا جاتا تھا تو اسے خاموشی سے ملک بدر کر دیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے بھرتی کیے جانے والے زیادہ تر افراد کو یا تو انتباہ کرنے کے بعد چھوڑ دیا جاتا تھا یا پھر انہیں کوئی اور ملازمت دے دی جاتی تھی۔‘‘

لوکاس مزید کہتے ہیں کہ اب نیٹو اور یورپی ممالک اس طرز عمل سے تنگ آ چکے ہیں اور اب وہ سفارت کاروں کے بھیس میں روسی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو علی العلان واپس بھیج رہے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر کوئی کسی غیر قانونی سرگرمی میں پکڑا جائے تو اس کے کارروائی بھی کی جاتی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں