1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتروس

روس اپنا سونا کیوں بیچ رہا ہے؟

جاوید اختر (آرتھر سلیوان)
7 اگست 2026

روس گزشتہ 12 ماہ کے دوران سونا فروخت کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہو گیا۔ اس اقدام کا مقصد بجٹ خسارے سے نمٹنے کے لیے نقد رقوم کا حصول ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ روس کو کسی فوری مالی بحران کا سامنا ہو۔

سیف ڈپازٹ میں رکھا ہوا سونا
روس جنگی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش میں دنیا کے بڑے سونا فروخت کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہےتصویر: Angelika Warmuth/REUTERS

روسی مرکزی بینک کے مطابق جولائی کے آغاز تک ملک کے سونے کے ذخائر تقریباً 2,282 میٹرک ٹن تھے۔ یہ مقدار 2026 کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 43.5 میٹرک ٹن کم ہے۔

اس کے نتیجے میں روس کے سونے کے ذخائر اب فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز سے پہلے کی سطح کے بعد سب سے کم ہو گئے ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں۔ پہلے چار ماہ کے دوران فی اونس قیمت اوسطاً تقریباً 4,800 ڈالر رہی، جو بعد میں کم ہو کر تقریباً 4,000 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو کو سونے کی فروخت سے ممکنہ طور پر 5 بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم حاصل ہوئی۔

پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کی ماہر معیشت ایلینا ریباکووا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''حقیقت یہ ہے کہ وہ سونا فروخت کر رہے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس زیادہ آسانی سے استعمال ہونے والے دیگر مالی اثاثے کم ہو رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ خسارے اور اسے پورا کرنے کے ذرائع پر دباؤ موجود ہے۔‘‘

روس نے اپنے دفاعی بجٹ میں ڈرامائی اضافہ کیا ہےتصویر: Vyacheslav Prokofyev/Sputnik/AP Photo/picture alliance

بجٹ کے مسائل

حالیہ برسوں میں روس کے بجٹ پر شدید دباؤ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ یوکرینی جنگ  کے باعث دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔

اس سال کے آغاز پر فنانشل ٹائمز نے بتایا تھا کہ روس کی وزارت خزانہ نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ جنگ پر اضافی اخراجات 2026 میں کم از کم 28 بلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ 2027 اور 2028 میں ان میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

روس کے دفاعی اخراجات 2021 کے مقابلے میں اب چار گنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں یہ تقریباً 204 بلین ڈالر رہے تھے۔

ماسکو میں قائم مالیاتی مشاورتی ادارے میکرو ایڈوائزری کے تجزیہ کار کرس ویفر کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے سونے کی فروخت اہم ضرور ہے، لیکن یہ گھبراہٹ میں کی جانے والی فروخت نہیں۔

انہوں نے کہا، ''یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، لیکن نسبتاً ایک معمول کا رجحان بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ روس دیوالیہ ہونے والا ہے یا اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں۔‘‘

ویفر کے مطابق روس نے زیادہ تر سونا مرکزی بینک کے بجائے وزارت خزانہ کے زیر انتظام نیشنل ویلفیئر فنڈ (این ڈبلیو ایف) کے ذریعے فروخت کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2022 کے آغاز کے بعد سونا ان اثاثوں میں شامل تھا جنہیں نیشنل ویلفیئر فنڈ خرید سکتا تھا، کیونکہ یوکرینی جنگ کے بعد پابندیوں کے باعث امریکی ٹریژری بانڈز اور یورپی بانڈز تک روس کی رسائی محدود ہو گئی تھی۔

آج کل سونا خريدنا چاہيے يا بيچنا؟

04:17

This browser does not support the video element.

روس دوبارہ سونا حاصل کر سکتا ہے

ماہرین کے مطابق ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ روس دنیا کے سونا پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، اس لیے وہ فروخت کیے گئے ذخائر کو نسبتاً جلد دوبارہ بڑھا بھی سکتا ہے۔

روس کے پاس دنیا کے پانچویں بڑے سونے کے ذخائر ہیں، جو چین، فرانس اور اٹلی کے تقریباً برابر ہیں، تاہم یہ جرمنی اور امریکہ کے سونے کے ذخائر سے کم ہیں۔

ایلینا ریباکووا نے کہا، ''روس کو ایک فائدہ حاصل ہے کیونکہ وہ خود سونا پیدا کرتا ہے۔ پابندیوں کے خدشات کے دوران اس نے اپنی آمدنی کا ایک حصہ سونے کی خریداری میں لگایا، جو اس نے ملکی پیدا کنندگان سے خریدا۔‘‘

جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی صلاحیت

روس کا دنیا کے سونا فروخت کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہونا اس کے بجٹ خسارے اور وسیع تر معاشی استحکام پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روس کے وفاقی بجٹ میں اخراجات اور خسارہ دونوں ہی 2026 کے لیے سرکاری اندازوں کے مقابلے میں تقریباً ایک ٹریلین روبل یا 12.85 بلین ڈالر سے بھی زیادہ تک بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے روس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بہتری آئی ہے، جس نے 2026 میں اب تک ماسکو کو بجٹ مشکلات سے نمٹنے میں مدد دی ہے۔

ریباکووا اور ویفر دونوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ روسی معیشت کو واضح مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ماسکو غیر دفاعی اخراجات میں کمی کر کے مستقبل قریب میں جنگی اخراجات جاری رکھ سکتا ہے۔

ادارت: مقبول ملک

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں