1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس میرین یونٹ شام بھیجے گا

19 جون 2012

روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس نے ملکی بحریہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ روسی بحریہ کے ایک یونٹ کو روسی شہریوں اور فوجی اڈے کے تحفظ کے لیے شام روانہ کیا جا رہا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

روسی خبر رساں ادارے نے بحریہ کے اس عہدیدار کا نام تو ظاہر نہیں کیا تاہم کہا ہے کہ روس کے اس فوجی یونٹ کے ہمراہ دو بحری جہاز شام کا رخ کریں گے۔ پیر کے روز سامنے آنے والی ان اطلاعات کو مبصرین شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے ماسکو کو لاحق تشویش کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی بندرگاہ طرطوس میں روس کا بحری فوجی اڈہ قائم ہے۔ انٹرفیکس کا کہنا ہے کہ فوجی یونٹ کے ’جلد ہی‘ شام بھیجے جانے کا مقصد شام میں موجود روسی شہریوں اور فوجی اڈے کا تحفظ ہے تاہم انٹرفیکس نے شام روانہ کیے جانے والے یونٹ میں شامل فوجیوں کی تعداد یا روانگی کی تاریخ نہیں بتائی ہے۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ فوجی مشن طرطوس سے ’ضروری سامان‘ کی روس منتقلی کے لیے بھی استعمال ہو گا۔

شام میں حالات دن بدن مکمل خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہے ہیںتصویر: AP

واضح رہے کہ شام روانہ کیے جانے والے دو بحری جہازوں میں تین سو میرینز اور درجنوں ٹینک لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے ماسکو کی یہ بے چینی بھی محسوس کی جا سکتی ہے جو اسے شام میں تیزی سے بدلتے حالات اور وہاں ایک ممکنہ خانہ جنگی جیسی صورتحال کی صورت میں لاحق ہے۔

انٹرفیکس نے روسی فضائیہ کے سربراہ ولادیمیر گردوسوف کا یہ بیان بھی جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ روس شام میں اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ ’’ہمیں اپنے شہریوں کا ہر حال میں تحفظ کرنا ہے۔ ہمیں روسی باشندوں کو تنہا نہیں چھوڑنا اور ضرورت پڑنے پر جنگ زدہ علاقے سے وطن واپس لانا ہے۔‘‘

جب روسی فضائیہ کے سربراہ سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا ضرورت پڑنے پر بحریہ کو فضائی مدد بھی دی جا سکتی ہے تو گردوسوف نے کہا کہ وہ ہر حکومتی احکامات کی تعمیل کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انٹرفیکس کی ان خبروں پر روسی وزارت دفاع نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ طرطوس کے روسی بحری فوجی اڈے پر روسی فوجی موجود ہیں، جن کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

at / ai (AP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں