روس میں این جی اوز کے گرد گھیرا تنگ
20 مئی 2015
روس کی قانون ساز اسمبلی دوما کی طرف سے منظور شدہ یہ بل انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ کمرشل آرگنائزیشنز یا تجارتی تنظیموں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ اس دستاویز کے مطابق ’ناپسندیدہ‘ قرار دی جانے والی تنظیمیں اور ادارے ملک کے وفاقی آئین، روس کی دفاعی صلاحیتوں اور ملکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ بُدھ کو اس قانون پر تیسری بار غور و خوض کے بعد ووٹنگ ہوئی جس میں دوما کے 440 اراکین نے اس کے حق میں جبکہ تین نے اس کے خلاف ووٹ دیے۔ ایک نے اپنی رائے محفوظ رکھتے ہوئے ووٹ دینے سے احتراز کیا۔
روس کا پراسیکیوٹر جنزل آفس ’ناپسندیدہ‘ تنظیموں کی فہرست کا انچارج ہوگا۔ اس سلسلے میں ’ناپسندیدہ‘ قرار دیے جانے کے لیے کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی نہ ہی ’ناپسندیدہ‘ قرار دی جانے والی تنظیم یا ادارے کو اس بارے میں مطلع کیا جائے گا۔
ماضی کے ایجنٹس، حال کے ’ناپسندیدہ‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی ایک مشترکہ پریس ریلیز میں اس نئے قانون کو ’ڈریکولائی کریک ڈاؤن‘ قرار دیا گیا ہے، جو روس کی سول سوسائٹی کی روح قبض کرنے کا سبب بنے گا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی روسی شاخ کی ایک سرکردہ کارکن نٹالیا پریلوٹسکایا نے ڈوئچے ویلے کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے کہا،"یہ قانون غیر ملکی ایجنٹوں سے متعلق قانون سے ایک درجہ آگے کا قانون ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں جبر کی طرف ایک منطقی قدم ہے"۔
2012 ء میں روسی پارلیمان نے ایک قانون جاری کیا تھا جس کے تحت سیاسی طور پر فعال اُن غیر سرکاری تنظیموں کو بطور ’ غیر ملکی ایجنٹس‘ رجسٹر کرنے کو لازمی قرار دیا گیا تھا جنہیں انٹر نیشنل فنڈ ملتے ہیں۔ روس میں ’جاسوس یا عوام کے دشمن‘ کی اصطلاح بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ 2012 ء میں جاری ہونے والے اس قانون کے بعد متعدد غیر سرکاری اداروں کے دفاتر کی تلاشی لی گئی جن میں میموریل اینڈ گولوز بھی شامل ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق روس میں اب تک 60 اداروں کو ’ غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا جا چُکا ہے۔
سول سوسائٹی کے لیے خطرہ
مذکورہ قانون کے نفاذ کے تین سال بعد روس میں اب اُن اداروں اور تنظیموں کو بھی خطرات لاحق ہیں جو ملک سے باہر رجسٹرڈ ہیں۔ جن اداروں پر ’ ناپسندیدہ‘ کا لیبل لگا دیا گیا ہے، اُن کی سرگرمیاں بھی بُری طرح متاثر ہوں گی اور بینک بھی ان کے ساتھ کسی مالی لین دین سے گریز کریں گے۔ ایسے کسی ادارے کے ساتھ کسی روسی شہری کی شمولیت کا نتیجہ جرمانہ ہوگا یعنی ’ ناپسندیدہ‘ کی کیٹیگری میں شامل ادارے یا تنظیم سے وابستہ روسی شہری کو پانچ لاکھ ربُل یا نو ہزار یورو تک کے جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے خلاف فوجداری استغاثہ کی کارروائی اور چھ سال تک کی سزائے قید بھی سنائی جا سکتی ہے۔ نٹالیا پریلوٹسکایا کے بقول،" روسی دوما کے نئے قانون کے تحت ’ناپسندیدہ‘ ادارے کو مکمل طور پر لاک اور بلاک کر کے چھوڑ دیا جایا کرے گا"۔