1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس نے ’امدادی قافلہ‘ یوکرائن روانہ کر دیا

ندیم گِل12 اگست 2014

روس کا کہنا ہے کہ امدادی سامان پر مشتمل اس کا ایک قافلہ یوکرائن کے بحران زدہ مشرقی علاقوں کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ فرانس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس اس بہانے یوکرائن پر چڑھائی کر سکتا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے روس کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’امدادی سامان‘ یوکرائن کے مشرقی علاقوں کو لے جانے والے قافلے میں دو سو اسیّ ٹرک شامل ہیں۔

ماسکو میں ایک حکومتی اہلکار کا کہنا تھا: ’’یہ قافلہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں کے رہائشیوں کو دو ہزار ٹن امدادی سامان پہنچائے گا۔ یہ سامان ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں کے لوگوں نے جمع کیا۔‘‘

نیوز ایجنسی روئٹرز نے روسی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امدادی قافلہ ماسکو کے ایک نواحی علاقے سے روانہ ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں پہنچنے میں کچھ دِن لگیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ لاراں فابیوس نے روس کے اس امدادی قافلے پر شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماسکو حکومت اس قافلے کی آڑ میں یوکرائن میں مستقل قیام کی کوشش کر سکتی ہے۔

امدادی قافلے کو یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں پہنچنے میں کچھ دِن لگیں گےتصویر: picture-alliance/dpa

انہوں نے منگل کو فرانس اِنفو ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں بہت محتاط رہنا ہو گا کیونکہ اس کے ذریعے روسی لوگانسک اور ڈونیٹسک کے قریب پڑاؤ ڈال سکتے ہیں۔‘‘

لاراں فابیوس نے مزید کہا کہ یہ قافلہ اسی صورتِ قابلِ قبول ہو سکتا ہے جب ریڈ کراس اس کی منظوری دے۔

یوکرائن پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ روس نے اس کی سرحدوں پر پینتالیس ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں جبکہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مطابق روس کی جانب سے یوکرائن میں مداخلت کے ’قوی امکانات‘ ہیں۔

مغربی ملکوں کو خدشہ ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اپنی فورسز یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں بھیج سکتے ہیں جہاں روس نواز باغیوں کو کییف کی فورسز کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔

تاہم روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک ترجمان دیمیتری پیسکوف نے بزنس ایف ایم ریڈیو سے بات چیت میں کہا ہے: ’’یہ سب یوکرائن کے ساتھ طے ہو چکا ہے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق کییف میں حکومتی ذرائع نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ روس کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا جس کے تحت اس کی گاڑیاں سرحد پار کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس امدادی سامان کی مشرقی علاقوں میں فراہمی کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے تحت امریکا اور یورپی ملکوں سے بھی سامان پہنچایا جا سکے گا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں