1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس پرنئی پابندیاں، لیکن کچھ دن بعد

عاطف بلوچ9 ستمبر 2014

یوکرائن بحران میں ملوث ہونے پر یورپی یونین نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کو مسودہ تیار کر لیا ہے تاہم اس پر عملدرآمد یہ دیکھنے کے بعد کیا جائے گا کہ آیا مشرقی یوکرائن میں فائر بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔

تصویر: picture-alliance/dpa/Vladimir Sergeev/RIA Novosti

یورپی کونسل کے صدر ہیرمن فان رومپوئے نے پیر آٹھ ستمبر کو کہا کہ یورپی یونین روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر متفق ہو گئی ہے لیکن ان پر عملدرآمد کچھ دنوں میں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی رہنما انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ مشرقی یوکرائن میں فائر بندی کے معاہدے کی کیا صورتحال ہے۔ فان رومپوئے کی طرف سے جاری کیے گئے اس بیان میں مزید کہا گیا کہ یورپی رہنما مشرقی یوکرائن کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناطر میں پابندیوں کے اس مسودے میں ترامیم کر سکتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ کییف حکومت اور مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ماسکو حکومت مشرقی یوکرائن میں باغیوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکا سمیت متعدد یورپی ممالک نے بھی روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس تنازعے کا فریق نہ بنے۔ اگرچہ کریملن نے مشرقی یوکرائن میں مداخلت کے الزامات کو ہمشیہ ہی مسترد کیا ہے لیکن مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں کہ روسی افواج باغیوں کی معاونت کر رہی ہیں۔

صدر پیٹرو پوروشینکو نے پیر کو مشرقی یوکرائن کے نئے میدان جنگ میروپول کا دورہ کیا ہےتصویر: Reuters/M. Lazarenko/Ukrainian Presidential Press Service

کچھ یورپی ریاستوں نے ایسے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یونین کی طرف سے روس پر فوری طور پر پابندیاں عائد کرنے کے نتیجے میں مشرقی یوکرائن میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان ممالک کے بقول روس پر اسی صورت میں مزید سخت پابندیاں عائد کی جانا چاہییں، جب یہ ناگزیر ہو جائیں۔

پیر کو روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدف نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس پر مزید پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اقدامات کے علاوہ جوابی طور پر روسی کی فضائی حدود میں یورپی پروازوں کا داخلہ بند کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف کییف حکومت اور مشرقی یوکرائن میں فعال روس نواز باغیوں کے مابین جمعے کے دن طے پانے والے فائر بندی کے معاہدے پر پیر کے دن عملدرآمد ہوتا نظر آیا ہے۔ تاہم اطراف نے ایک دوسرے پر شیلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسی دوران یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے پیر کو مشرقی یوکرائن کے نئے میدان جنگ میروپول کا دورہ کیا ہے۔ فائر بندی کے باوجود اس بندرگاہی شہر میں گزشتہ کئی دنوں سے یوکرائنی فوجیوں اور باغیوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاع ملی ہیں۔

میروپول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوروشینکو کا کہنا تھا کہ یہ شہر یوکرائن کا حصہ ہے اور یوکرائن کا ہی حصہ رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر باغیوں نے اس شہر پر چڑھائی کی کوشش کی تو ان کے حملے کو بری طرح ناکام بنا دیا جائے گا۔ دریں اثناء یوکرائنی صدر نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو میں فائر بندی کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقی یوکرائن میں تناؤ کی کیفیت کو کم کرنے پر بھی اتفاق کیا تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں