1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس پر سرمائی اولمپکس میں شرکت پر پابندی

6 دسمبر 2017

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے فیصلے کے مطابق روس اگلے برس ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت نہیں کر سکے گا۔کھلیوں کی دنیا کے اس اہم ترین ملک میں اس اعلان پر شدید غصہ اور حیرانی پائی جاتی ہے۔

تصویر: picture-alliance/Chicago Tribune/B. Cassella

بین الاقوامی  اولمپک کمیٹی ( آئی او سی) کے مطابق 2014ء کے سوچی ونٹر اولمپکس میں روس کی جانب سے منظم انداز میں ممنوعہ ادویات کا استعمال کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ روسی سینٹیر فرانز کلنزیوچ نے آئی او سی کے اس فیصلے پر اپنے رد عمل کا یوں اظہار کیا، ’’اس طرح کھیلوں کی دنیا میں پائے جانے والے اتحاد اور بین الاقوامی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘‘

ڈوپنگ نہ کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت دی ہے، باختصویر: Reuters/D. Balibouse

آئی او سی نے مزید بتایا کہ صرف چند روسی کھلاڑیوں کو ایک غیر جانبدار پرچم تلے پائیونگ چینگ میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

کھیلوں کی متعدد روسی تنظیموں نے اس فیصلے کے بعد آئی او سی کے سربراہ تھوماس باخ کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے، ’’یہ فیصلہ کھلاڑیوں اور ٹرینرز کی ایک نسل کی قسمت پر اثر انداز ہو سکتا ہے‘‘۔ اس تناظر میں باخ کا کہنا تھا، ’’اولمپک کے بائیکاٹ سے کبھی کچھ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے اور میرے خیال میں بائیکاٹ کی وجہ بھی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ہم نے ڈوپنگ نہ کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت دی ہے۔‘‘

جرمنی میں ڈوپنگ کے خلاف عوامی بیداری کی مہم

روسی تاریخ کا بدترین ڈوپنگ اسکینڈل، لیکن مقدمہ ایک بھی نہیں

روس کی جانب سے ڈوپنگ کا اسکینڈل اس مرتبہ صرف کھلاڑیوں پر نہیں بلکہ اس شعبے سے منسلک حکام اور سیاسی قیادت پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ روس کی اولمپک کمیٹی (آر او سی) بھی جنوبی کوریا نہیں جا سکے گی جبکہ اس کے صدر سربراہ الیگزینڈر سوچکوف کی آئی او سی کی  رکنیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔

جنوبی کوریا میں اگلے برس نو تا پچیس فروری تک ہونے والے ان سرمائی اولمپکس میں روسی وزارت کھیل کا کوئی نمائندہ بھی شرکت نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح روسی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ ویتالی مٹکو بھی ڈوپنگ کے الزامات کی وجہ سے زندگی بھر کسی اولمپک کھیلوں میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں