روس پر پابندیاں نرم کرنے کا ارادہ نہیں، یورپی یونین
1 اکتوبر 2014
یورپی یونین کی ترجمان مایا کوجیکانسک نے منگل کے دن کہا کہ رکن ریاستوں نے پانچ ستمبر کو ماسکو اور کییف کے مابین ہونے والے فائر بندی کے معاہدے میں پیش رفت تو دیکھی ہے تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاہدے کو مکمل پر نافذ ہونا چاہیے اور فریقین کو اس کی تمام شقوں پر عمل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ پابندیوں کو نرم کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔ ترجمان کے مطابق مشرقی یوکرائن میں باغی امن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہے اور روس مبینہ طور پر اُن کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے لیے روسی ایلچی ولادی میر شزہوف نے خبر رساں ادارے انٹر فیکس سے باتیں کرتے ہوئے کہا، ’’ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور کیا اقدامات اٹھاتے ہیں مگر ان کا ابھی تک کا رویہ روس کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔‘‘ مشرقی یوکرائن میں امن معاہدے کے مطابق تیس کلومیٹر چوڑا ایک بفر زون قائم کیا جائے گا تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔ اندازوں کے مطابق مشرقی یوکرائن میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری بحران میں اب تک تین ہزار دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران روسی فوج کی جانب سے اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کے لیے باغیوں کو رضامند کرنے کی چند کوششیں ابھی تک ناکامی کا شکار ہی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب یوکرائن کی فوج نے بتایا ہے کہ باغی گروپوں نے ڈونیٹسک کے متنازعہ ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے ٹینکوں کی مدد سے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔ اس دوران گولہ باری بھی کی گئی، جس کی زد میں آ کر پیر کے روز نو فوجی اور پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
یورپی یونین کی جانب سے روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اُس اعلان سے کچھ دیر قبل سامنے آیا،جس میں نیٹو نے ماسکو پر الزام عائد کیا ہے کہ کئی سو روسی فوجی مشرقی یوکرائن میں جاری کارروائیوں میں ابھی تک حصہ لے رہے ہیں۔ نیٹو نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کئی سو روسی فوجی، جن میں خصوصی افواج کے اہلکار بھی شامل ہیں ابھی تک یوکرائن میں ہیں۔ نیٹو کے بقول روسی فوج کے بہت سے فوجی یوکرائن سے نکل گئے ہیں لیکن ان کی ایک کثیر تعداد ابھی تک وہاں موجود ہے۔ اس تناظر میں ماسکو حکام نے کہا کہ اس نے کسی بھی روسی فوجی کو مشرقی یوکرائن جانے کے احکامات نہیں دیے۔
نیٹو اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اسی کی وجہ سے روسی صدر ولادی میر پوٹن عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔