1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس کا چاند پر جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ

امتیاز احمد روئٹرز اور ڈی پی اے کے ساتھ
26 دسمبر 2025

روس نے چاند پر ایک جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ اپنے خلائی پروگرام اور ’روسی چینی مشترکہ تحقیقاتی اسٹیشن‘ کو بجلی فراہم کی جا سکے۔ بڑے ممالک چاند پر قدم جمانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

سن 1961میں سوویت خلانورد یوری گیگرین کے خلا میں جانے والا پہلا انسان بننے کے بعد سے روس خود کو خلائی تحقیق کی ایک سرکردہ طاقت سمجھتا آیا ہے
سن 1961میں سوویت خلانورد یوری گیگرین کے خلا میں جانے والا پہلا انسان بننے کے بعد سے روس خود کو خلائی تحقیق کی ایک سرکردہ طاقت سمجھتا آیا ہےتصویر: NASA/CNP/AdMedia/picture alliance

سن 1961میں سوویت خلانورد یوری گیگرین کے خلا میں جانے والا پہلا انسان بننے کے بعد سے روس خود کو خلائی تحقیق کی ایک سرکردہ طاقت سمجھتا آیا ہے لیکن حالیہ عشروں میں وہ امریکہ سے پیچھے رہ گیا ہے اور اب چین بھی اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

روس کے خلائی عزائم کو اگست 2023ء میں اس وقت شدید دھچکا لگا، جب اس کا بغیر پائلٹ والا لونا۔25 مشن چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ دوسری جانب ایلون مسک نے خلائی گاڑیوں کو لانچ کرنے کے حوالے سے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اور یہ مہارت بھی کبھی روس ہی کی خاصیت سمجھی جاتی تھی۔

چاند پر جوہری ری ایکٹر؟

روس کی سرکاری خلائی کارپوریشن روس کوسموس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ 2036ء تک چاند پر ایک بجلی گھر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں لاوچکن ایسوسی ایشن ایرو اسپیس کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا ہے۔

 روس کوسموس نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ یہ پلانٹ جوہری ہو گا مگر اس نے بتایا کہ منصوبے میں شریک اداروں میں روسی سرکاری جوہری کارپوریشن روس ایٹم اور روس کا سرکردہ جوہری تحقیقاتی ادارہ کُرچاٹوف انسٹیٹیوٹ شامل ہیں۔

 روس کوسموس کے مطابق اس پلانٹ کا مقصد روس کے چاند پروگرام کو بجلی فراہم کرنا ہے، جس میں روورز، ایک رسدگاہ اور روسی۔چینی بین الاقوامی چاند تحقیقاتی اسٹیشن کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔

روس کے خلائی عزائم کو اگست 2023ء میں اس وقت شدید دھچکا لگا، جب اس کا بغیر پائلٹ والا لونا۔25 مشن چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہو گیاتصویر: Sergey Bobylev/TASS/IMAGO

روس کوسموس نے کہا، ''یہ منصوبہ مستقل طور پر کام کرنے والے سائنسی چاند اسٹیشن کی تعمیر اور ایک مرتبہ کے مشنز سے طویل المدتی چاند تحقیقاتی پروگرام کی طرف منتقلی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘‘

روس کوسموس کے سربراہ دیمتری باکانوف نے جون میں کہا تھا کہ کارپوریشن کے اہداف میں سے چاند پر ایک جوہری بجلی گھر نصب کرنا اور زمین  کے ''سِسٹر سیارے‘‘ زہرہ (وینس) کے حوالے سے تحقیق کرنا شامل ہیں۔

چاند، جو ہمارے سیارے سے 384,400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، زمین کے محور اور اس کے جھکاؤ کو اعتدال میں رکھتا ہے، جس سے زمین پر موسمی استحکام برقرار رہتا ہے۔ یہ دنیا کے سمندروں میں مد و جزر کا باعث بھی بنتا ہے۔

 امریکہ بھی چاند پر ری ایکٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور روس اس منصوبے میں اکیلا نہیں ہے۔ ناسا نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ مالی سال 2030ء کی پہلی سہ ماہی تک چاند پر ایک جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایلون مسک نے خلائی گاڑیوں کو لانچ کرنے کے حوالے سے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اور یہ مہارت بھی کبھی روس ہی کی خاصیت سمجھی جاتی تھیتصویر: SpaceX/ZUMA Wire/ZUMAPRESS.com/dpa/picture alliance

چاند پر وسائل کا ’گولڈ رش‘

امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اگست میں، جب ان سے ان منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا، کہا تھا، ''ہم چاند کی دوڑ میں ہیں، چین کے ساتھ چاند کی دوڑ میں اور چاند پر اڈہ قائم کرنے کے لیے ہمیں توانائی کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال امریکہ چاند کی دوڑ میں پیچھے ہے۔ ان کے مطابق توانائی چاند پر زندگی کو برقرار رکھنے اور پھر انسانوں کو مریخ تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ بین الاقوامی قوانین خلا میں جوہری ہتھیار نصب کرنے پر پابندی عائد کرتے ہیں لیکن جوہری توانائی کے ذرائع خلا میں نصب کرنے پر کوئی پابندی نہیں، بشرطیکہ وہ بعض قواعد کے مطابق ہوں۔

کچھ خلائی تجزیہ کاروں نے چاند پر وسائل کے ''گولڈ رش‘‘ کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ ناسا کے مطابق چاند پر ہیلیم تھری کی تقریباً دس لاکھ ٹن مقدار موجود ہے، جو زمین پر نایاب ہے۔ چاند پر نایاب دھاتیں بھی موجود ہیں، جو سمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور جدید ٹیکنالوجیز میں استعمال ہوتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ان میں سکینڈیم، یٹریم اور 15 لینتھانائیڈز شامل ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں