1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس کی طرف سے ’بلیک لسٹ‘ کا دفاع

امتیاز احمد1 جون 2015

روسی سیاستدانوں پر عائد یورپی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ماسکو حکومت نے کہا ہے کہ اب یورپی سیاستدانوں پر عائد روسی سفری پابندیوں پر تنقید کرنا بلا جواز ہے۔ روس نے تقریباﹰ نوّے یورپی سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

Piloten verschärfen Lufthansa-Streik auf der Langstrecke
تصویر: picture-alliance/dpa/F. von Erichsen

انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے ایک سینیئر روسی سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ روس کی طرف سے یورپی سیاستدانوں پر عائد کی جانے والی پابندیاں ان ’یورپی پابندیوں‘ کا جواب ہیں، جو یورپی ممالک نے جرمنی کی قیادت میں روس کے خلاف عائد کی تھیں۔ مغربی ممالک اور یورپی سیاستدانوں نے ان پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس پر ماسکو حکومت نے حیرانی کی اظہار کیا ہے۔

روسی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ’بلیک لسٹ‘ میں شامل سیاستدانوں کے نام روس نے ابھی تک خفیہ رکھے تھے اور یہ لسٹ یورپی ممالک کی اپیل پر انتہائی ’خفیہ اور اعتماد‘ کے ساتھ مہیا کی گئی تھی جبکہ اس کا مقصد پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کو مزید پریشانیوں سے بچانا تھا۔ یاد رہے کہ چند روز پہلے ایک جرمن سیاستدان کو سفری پابندی سے متعلق اس وقت بتایا گیا، جب وہ ماسکو ایئر پورٹ پر پہنچ چکے تھے اور انہیں ساری رات ایئرپورٹ کے ٹرانزٹ ایریا میں گزارنا پڑی۔ اس روسی سفارت کار کا کہنا تھا کہ یورپ کی طرف سے یہ لسٹ ساتھیوں کے مسائل کم کرنے کے لیے منگوائی گئی تھی یا کہ ایک نئے ’سیاسی شو‘ کے لیے ؟ بتایا گیا ہے کہ روس نے اسی طرح کی ایک لسٹ امریکی سیاستدانوں کی بھی تیار کر رکھی ہے کیونکہ یوکرائن کے معاملے میں یورپ کے ساتھ ساتھ امریکا نے بھی روس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

یورپی تنقید

یورپی یونین نے 89 ناموں پر مشتمل روسی ’بلیک لسٹ‘ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’غیرشفاف اور بلاجواز‘ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق روس نے یہ لسٹ ان کے حوالے کئی ماہ کی تاخیر سے کی ہے جبکہ اس کی قانونی بنیاد اور معیار بھی واضح نہیں ہے۔

اس لسٹ میں آٹھ جرمن شامل ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کا اس بارے میں کہنا تھا کہ روس کی طرف سے یہ کوئی ’عقلمندانہ‘ فیصلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندیوں سے یوکرائن کا مسئلہ حل کرنے میں بھی کوئی مدد نہیں ملے گی۔ دوسری جانب ہالینڈ نے ملک میں تعینات روسی سفیر کو طلب کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ اسی طرح یورپی پارلیمانی صدر مارٹن شُلز نے اس لسٹ کو باعثِ حیرت قرار دیا۔

دریں اثناء روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس ’بلیک لسٹ‘ میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور یورپی یونین نے روسی شہریوں پر مزید پابندیاں عائد کیں تو روس اسی طرح کا جواب دے گا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں