روس کی طرف سے جوابی پابندیاں
7 اگست 2014
روس کی طرف سے امریکا، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے سے گوشت، مچھلی، دودھ اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان پابندیوں کا اعلان آج جمعرات سات اگست کو روسی وزیراعظم دیمتری میدویدیف کی جانب سے کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق یہ فیصلہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے جو انہوں نے مغرب کی جانب سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کے رد عمل میں جاری کیا۔ ابتدائی طور پر یہ پابندی ایک برس کے لیے عائد کی گئی ہے۔
روسی وزیراعظم دیمتری میدویدیف کی طرف سے ان پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’پابندیوں میں کچھ بھی مثبت نہیں ہے اور یہ فیصلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا مگر ہمیں پھر بھی ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پابندیوں کا اطلاق آج یعنی سات اگست سے ہو رہا ہے اور یہ ایک برس تک جاری رہیں گی۔
میدویدیف کے مطابق روس مغربی فضائی کمپنیوں کی ایشیائی ممالک کو آنے جانے والی پروازوں کے لیے روسی فضائی حدود استعمال کرنے پر بھی پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم ان کہنا تھا کہ ابھی تک روس نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اس فیصلے کی صورت میں نہ صرف ان ایئرلائنز کی سفری لاگت میں بڑا اضافہ ہو جائے گا بلکہ سفری وقت میں بھی اضافہ ہو گا۔
روسی وزیراعظم میدویدیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی حکومت ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور کاروں کی درآمد پر بھی پابندیاں عائد کر سکتی ہے تاہم اس حوالے سے پہلے حکومت اپنی پروڈکشن سے متعلق صلاحیتوں کا حقیقت پسندانہ انداز میں جائرہ لے گی۔
روس نے یوکرائن کے جزیرہ نما کریمیا کو اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے روس پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ روس نواز باغیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر کے یوکرائن کے مشرقی حصوں میں بھی تناؤ کو ہوا دے رہا ہے۔ اسی وجہ سے روس کی متعدد کمپینوں اور اہم افراد کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی گئی ہیں۔
روس اشیائے خوراک کے لیے زیادہ تر درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ خاص طور پر روسی دارالحکومت اور ملک کے ترقی یافتہ ترین شہر ماسکو کے لیے اشیائے خوراک کا زیادہ تر حصہ مغربی ممالک سے منگوایا جاتا ہے۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے مطابق گزشتہ برس 1.3 بلین امریکی ڈالرز مالیت کی خوراک اور زرعی اشیاء روس نے امریکا سے درآمد کیں۔
اسی طرح 2013ء میں یورپی یونین کی طرف سے روس کے لیے زرعی اشیاء کی برآمدات کی مالیت 15.8 بلین امریکی ڈالرز کے برابر رہیں۔