1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس کے لیے آخری ’ڈیڈ لائن‘، تبصرہ

بیرنڈ ریگرٹ / امتیاز احمد23 جولائی 2014

روس کے خلاف ممکنہ پابندیوں سے خود یورپی یونین کے ادارے اور معیشتیں بھی متاثر ہوں گی۔ یہ قیمت یورپی یونین کو اب یا تو چکانا پڑے گی یا پھر صدر پوٹن کو سیاسی اور اقتصادی میدان میں بغیر کسی مزاحمت کے کھلا چھوڑ دینا ہو گا۔

Symbolfoto 12 Zeit Uhr
تصویر: picture-alliance/Okapia KG

یوکرائن میں مسافر طیارے کو مبینہ طور پر مار گرائے جانے کے واقعے نے یورپی یونین کے روس سے متعلق نقطہء نظر کو تبدیل کر دیا ہے۔ یونین کے پاس ماسکو کے خلاف دباؤ بڑھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ تاہم یورپی وزرائے خارجہ روس کے خلاف مزید پابندیاں خوشی سے عائد نہیں کریں گے۔ کئی یورپی ریاستیں اس کے معاشی اثرات سے خوفزدہ ہیں۔ مشرقی یوکرائن کے روس نواز باغیوں کو لگام ڈالنے کے لیے روس کو کل جمعرات تک کا وقت دیا گیا ہے۔

روس کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی حتمی فیصلہ کل جمعرات کو بھی نہیں ہو گا بلکہ کل بھی پہلے صرف اس امر کو جانچا جائے گا کہ آیا روس سے متعلق یونین کے ریاستی اور حکومتی سربراہان کے ایک مزید خصوصی سربراہی اجلاس کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ممکنہ اجلاس پھر واقعی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ یہ ایک پیچیدہ اور روایتی یورپی عمل ہے، جسے امریکا جیسے اتحادی ملک کو سمجھانا ایک مشکل امر ہے۔ امریکا میں پابندیاں صرف ایک صدارتی حکم نامے کے تحت لگائی جا سکتی ہیں لیکن یورپی یونین میں پیچیدہ قانون سازی کا عمل درکار ہوتا ہے۔ یورپ میں متاثرہ فریق پابندیوں کے خلاف عدالت میں بھی جا سکتا ہے، اسی لیے پابندیوں سے پہلے ہر پہلو پر غور کیا جاتا ہے۔

روس اقتصادی پابندیوں سے اب صرف ایک قدم دور ہے لیکن ان ممکنہ پابندیوں سے خود یورپی یونین کے اپنے ادارے اور معیشتیں بھی متاثر ہوں گی۔ یہ قیمت یورپی یونین کو اب یا تو چکانا پڑے گی یا پھر صدر پوٹن کو سیاسی اور اقتصادی میدان میں بغیر کسی مزاحمت کے کھلا چھوڑ دینا ہو گا۔

روس کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی بھی یونین کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ ابھی تک فرانس روس کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کی مخالفت کرتا آیا ہے کیونکہ پیرس حکومت دو انتہائی مہنگے جنگی جہاز روس کو بیچنا چاہتی ہے۔ ملائیشیا کے مسافر طیارے کے حادثے کے بعد فرانس کے لیے اپنی اس پوزیشن کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک ایسے ملک کو کس طرح ہتھیار فراہم کیے جا سکتے ہیں، جس پر باغیوں کو مسلح کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہو؟ اُس روس کو کس طرح اسلحہ فراہم کیا جا سکتا ہے، جس پر کریمیا کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا؟ دریں اثناء امریکا جیسا حلیف ملک بھی روس کو جنگی جہاز فروخت کرنے کے فرانسیسی منصوبوں پر کھل کر تنقید کر رہا ہے۔

تاہم کل جمعرات کا دن یورپی یونین کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن دن بھی ہو سکتا ہے۔ روس کے ساتھ معاشی مقابلہ بازی شروع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں یورپ کو توانائی کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد سوال یہ ہو گا کہ کون زیادہ دیر تک پابندیوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات تو طے ہے کہ روس فوری طور اپنی توسیع اور مداخلت کی پالیسی کو تبدیل نہیں کرے گا اور یہ بات بھی یورپی یونین کو اپنے شہریوں کو بتا دینی چاہیے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں