1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستعراق

یوکرین میں مغربی دنیا کی کارروائیاں،’دوہرے معیارکا مظاہرہ‘

29 مارچ 2022

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مغربی طاقتوں نے ماسکو حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے تناظر میں روس پر سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔ مشرق وسطیٰ میں اس اقدام کو مغرب کا دُوہرا معیار قرار دیا جا رہا ہے۔

Ukraine | Menschen in Kiew suchen Schutz in Metro-Stationen
تصویر: Viacheslav Ratynskyi/AA/picture alliance

مغرب میں کشادہ دلی کے ساتھ یوکرینی مہاجرین کے لیے دروازے کھول دیے گئے اور یوکرینی مسلح مزاحمت پر خوشی کا اظہار کیا جانے لگا اور یوکرین کی عسکری امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ روس کے حملے پر دنیا کی بڑی طاقتوں کے اس رد عمل نے دہائیوں سے جنگ، جارحیت اور خونریزی کا سامنا کرنے والے مشرق وسطیٰ کے خطے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس خطے میں بہت سے افراد عالمی بحرانوں پر مغرب کے رد عمل کو واضح 'دوہرا معیار‘  قرار دے رہے ہیں۔

فلسطینی مؤقف

رواں ماہ ترکی میں منعقد ہونے والے ایک سکیورٹی فورم کے دوران فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض مالکی نے کہا، ''جن ذرائع کے بارے میں ہمیں گزشتہ 70 سالوں سے کہا جا رہا ہے کہ انہیں فعال نہیں کیا جا سکتا، اب یوکرین کا بحران شروع ہونے کے سات روز کے اندر بلکہ اس سے بھی کم عرصے میں ہم نے دیکھا کہ مغربی دنیا نے روس کے خلاف وہ تمام ذرائع استعمال کیے۔‘‘ ریاض مالکی نے اس رویے کو ''حیرت انگیز منافقت‘‘ قرار دیا۔ فلسطینیوں کا جس زمین پر اپنی آزاد ریاست کے قیام کا دیرینہ مطالبہ عشروں سے جاری ہے، اُس زمین پر اسرائیلی قبضہ اب چھٹی دہائی میں بھی برقرار ہے۔ لاکھوں فلسطینی باشندے اسرائیل کی حکمرانی میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے مستقبل میں کسی تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ امریکہ، اسرائیل اور جرمنی نے تنازعہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں ایک قانون سازی کی مگر اس کا مقصد فلسطینیوں کی قیادت والی تحریکوں کودبانا تھا جبکہ میک ڈونلڈ، ایگسون موبیل اور ایپل جیسی بڑی بڑی کمپنیوں کو روس میں اپنا کاروبار پھیلانے کے لیے داد و تحسین مل رہی ہے۔

یوکرین میں روسی قابض فوج کے خلاف بندوقیں اُٹھانے والے یوکرینی باشندوں کی ہمت افزائی سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے مگر یہی کرنے پر فلسطینیوں اور عراقیوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں نشانہ بنانے کا جائز ہدف قرار دیا جاتا ہے۔

'اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ برتاؤ کا مجرم ہے'، ایمنسٹی انٹرنیشنل

عراق کی جنگ

19 سال قبل اسی ماہ یعنی مارچ میں شروع ہونے والی امریکی قیادت میں عراق کی جنگ کو وسیع پیمانے پر ایک ریاست کی طرف سے دوسری ریاست پر غیر قانونی حملے کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن امریکیوں سے لڑنے والےعراقیوں کو دہشت گرد قراردیا گیا۔ مغربی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش میں عراق سے اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والوں کو اکثر واپس موڑ دیا گیا اور اس کی وضاحت یہ پیش کی گئی کہ یہ یورپی ممالک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بُدھ کو کہا کہ اس امر کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ روسی افواج نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ امریکہ مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا لیکن امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے اور امریکی انتظامیہ خود اپنے اور اپنے اتحادی اسرائیل کے طرز عمل کو فوجداری عدالت میں بین الاقوامی تحقیقات کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ جب 2015 ء میں روس نے شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے شام کی خانہ جنگی میں مداخلت کی اور شامی باشندوں کو بھوکا مارنے اور پورے پورے شہروں کی تباہ کرنے میں اسد حکومت کی مدد کی، اُس وقت صرف بین الاقوامی غم و غصہ دیکھا گیا تاہم بہت کم کوئی عملی کارروائی یا ٹھوس اقدامات دیکھنے میں آئے۔ شام سے فرار ہو کر یورپ کی طرف پناہ کی تلاش میں خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے والے شامی باشندے یا تو رستے میں ہی ہلاک ہو گئے یا انہیں پورپ سے واپس بھیج دیا گیا۔ یورپ میں اکثر ان نہتے شامی پناہ کے متلاشیوں کو یورپی ثقافت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔  

جنگ سے تباہ حال عراقی شہر موصلتصویر: Yunus Keles/Anadolu Agency/Getty Images

2003 ء سے 2011 ء تک عراق میں امریکی افواج کے قبضے اور جنگ میں امریکہ کے خلاف لڑنے والا شیخ جبارالربائی جو اب 51 سال کا ہے کہتا ہے، ''ہم نے قابض فورسز کے خلاف مزاحمت کی تب امریکیوں کا ساتھ پوری دنیا دے رہی تھی، یوکرین نے بھی۔ یوکرین امریکی اتحاد میں شامل تھا۔ کیونکہ امریکہ اس جنگ میں شامل تھا تو دنیا نے ہمیں راحت نہیں پہنچائی بلکہ ہمیں مزاحمتی فورس قرار دیا اور اسے 'مذہبی شورش‘ کا رنگ دیا گیا۔‘‘ شیخ جبارالربائی مزید کہتا ہے، ''یہ کھلا دوہرا معیار ہے، گویا ہم انسانوں کی گنتی میں نہیں آتے۔‘‘

41 سالہ عراقی امیر خالد بغداد میں ایک ڈلیوری ڈرائیوری کا کام کرتا ہے۔ اُس کی نگاہ میں عراق اور یوکرین کی مزاحمتی تحریک میں کوئی فرق نہیں۔ وہ کہتا ہے، ''اگر فرق تھا تو یہ کہ عراق میں امریکی افواج کے خلاف مزاحمت کا زیادہ جواز بنتا تھا کیونکہ امریکی ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہمارے ملک میں آئے تھے جبکہ روسی اس خوف کے ساتھ کہ ان کے پڑوس میں خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے، یوکرین میں پہنچے ہیں۔‘‘

مغربی ماہرین کا موقف

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ایک سینیئر فیلو اور سابقہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ انتظامیہ کے مشیر برائے امور مشرق وسطیٰ آرون ڈیوڈ مِلر کہتے ہیں، ''مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کے تنازعات ناقابل یقین حد تک پیچیدہ ہیں۔ وہاں کوئی اخلاقیات کا کھیل نہیں چل رہا۔‘‘ ڈیوڈ ملر کی نگاہ میں یوکرین کا مسئلہ اخلاقی اعتبار سے بالکل منفرد ہے۔ وہاں روس کو وسیع جارحیت کا آغاز کرتے دیکھا گیا۔ اس سے قریب ترین مشابہت 1990ء میں کویت پر عراق کے حملے میں نظر آتی ہے۔ اس حملے کے جواب میں واشنگٹن نے چند عرب ریاستوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے ایک عسکری اتحاد ترتیب دیا اور اس اتحاد نے مل جُل کر عراقی فوج کو کویت سے باہر نکالا۔ اس سب کے باوجود امریکی ماہر ڈیوڈ ملر اس امر کو تسلیم کرتے ہیں: ''امریکی خارجہ پالیسی بے ضابطگیوں، تضادات اور ہاں منافقت سے بھری پڑی ہے۔‘‘

افغانستان کے علاقے بگرام میں قائم امریکی فوجی چونکیتصویر: AP

افغانستان کی جنگ

افغانستان پر امریکی حملہ  نائن الیون کا رد عمل قرار دیا جاتا ہے، جس کی منصوبہ بندی اسامہ بن لادن نے اُس وقت کی تھی جب اُسے طالبان نے پناہ دی تھی۔  امریکہ نے عراق میں اپنی جنگ کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جھوٹے دعووں کے ساتھ جائز قرار دیا۔  لیکن امریکی حملے کے نتیجہ میں عراق کے ایک  سفاک آمر کی حکومت کا خاتمہ ہواجس نے خود بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی تھیں، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ تب بھی، اس حملے کو زیادہ تر عراقی اور دیگر عرب ایک بلا اشتعال تباہی سمجھتے ہیں جس میں برسوں کی فرقہ واریت پروان چڑھتی رہی، جھگڑا اور خون خرابا ہوا۔

ایلیٹ ابرامس، کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینیئر فیلو اور امریکہ کے عراق پر حملہ کے وقت وائٹ ہاؤس کے مشیر، کے خیال میں روسی حملہ آوروں سے لڑنے والے یوکرینی اورعراق میں باغی جو امریکیوں سے لڑے، میں فرق ہے ۔ وہ کہتے ہیں، ''وہ عراقی جو ایران یا داعش کی طرف سے امریکی فوجیوں سے لڑ رہے تھے وہ فریڈم فائٹرز یا آزادی کے جنگجو نہیں تھے۔‘‘  انہوں نے اسلامک اسٹیٹ گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ''یہ اخلاقی امتیازات کرنا منافقت نہیں ہے۔‘‘

 

ک م /ا ب ا (اے پی(

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں