روہنگیا عسکریت پسندوں کا دہشت گرد تنظیموں سے روابط سے انکار
14 ستمبر 2017روہنگیا باغیوں کے مغربی میانمار میں مبینہ مسلح حملوں کے نتیجے میں ہونے والے فوجی کریک ڈاؤن نے ایک انسانی بحران کو جنم دیا تھا۔
آراکان روہنگیا سالویشن آرمی (آرسا) نامی روہنیگیا عسکریت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ وہ صرف میانمار میں بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے ایک طویل عرصے سے ظلم کا شکار روہنگیا اقلیت کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم دفاع کی ان کوششوں نے پہلے سے مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تناؤ کے شکار اس ملک کو مزید بحران کی جانب دھکیل دیا ہے۔ تین ہفتے قبل میانمار سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے اب تک قریب تین لاکھ اسی ہزار روہنگیا پناہ لینے کے لیے بنگلہ دیش پہنچے ہیں اور بنگلہ دیش کا علاقہ کوکس بازار دنیا کے بڑے مہاجرین کیمپوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میانمار آرمی نے آراکان کے حملوں کو ایک اعشاریہ ایک ملین روہنگیا آبادی کو باہر نکالنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ تاہم میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی ان الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں۔
ینگون حکومت روہنگیا باغیوں کو ایک انتہا پسند دہشت گرد گروہ گردانتی ہے جو راکھین کے صوبے کے ایک حصے میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتا ہے۔
دو روز قبل ہی اس شدت پسند گروپ نے ایک بیان میں دنیا بھر میں مسلمانوں سے روہنگیا اقلیت کی ہر طرح سے حمایت کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس حمایت میں مالی امداد، ہتھیاروں کی فراہمی اور عسکری مدد بھی شامل تھی۔
آراکان نے تاہم متعدد بار عالمی سطح پر فعال کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے منسلک ہونے سے انکار کیا ہے۔ اپنے ایک حالیہ ٹویٹ پیغام میں اس گروپ نے لکھا،’’ آراکان اس بات کو واضح کرنا ضروری سمجھتی ہے کہ اس کے القاعدہ، عراق اور شام میں فعال جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ ، لشکر طیبہ اور دوسرے کسی بھی دہشت گرد گروہ کے ساتھ کوئی روابط نہیں ہیں۔‘‘
اس سے قبل میانمار کی ریاست راکھین میں روہنگیا باغیوں نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اراکان روہنگیا سالویشین آرمی کے مطابق جنگ بندی اس وجہ سے کی گئی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز ہو سکے۔
خیال رہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو مقامی شہریت نہیں دی جاتی اور حکومت انہیں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتی ہے۔