میانمار کے وزیر خارجہ پاکستان کیوں آئے تھے؟
28 جنوری 2026
میانمار کے وزیر خارجہ یو تھان سوے نے منگل کو پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے خیرسگالی ملاقات کی۔ قبل ازیں انہوں نے پیر کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی شراکت کو وسعت دینے کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، مذہبی سیاحت، ثقافتی تبادلوں، صلاحیت سازی اور تعلیمی روابط میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزراء نے اپنی وزارتِ خارجہ کے درمیان باقاعدہ سیاسی مشاورت کے نظام کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، میانمار کے کسی وزیر کا پاکستان کا آخری دورہ 2015 میں ہوا تھا، جبکہ پاکستان کی جانب سے میانمار کا آخری اعلیٰ سطحی دورہ 2012 میں ہوا تھا۔
اس دورے کی اہمیت کیا ہے؟
دس سال سے زائد عرصے کے بعد میانمار کے کسی اعلیٰ رہنما کا پاکستان کا یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب میانمار کے فوجی رہنماؤں کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات کے تحت بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں مقدمات جاری ہیں۔
آئی سی جے نے گیمبیا کی درخواست پر 12 جنوری کو کیس کی سماعت شروع کی ہے۔ گیمبیا اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا رکن ہے جب کہ پاکستان بھی اس تنظیم کا رکن ہے۔
گیمبیا نے الزام عائد کیا ہے کہ 2017 میں فوجی کارروائیوں کے دوران میانمار نے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف نسل کشی کی، جس کے نتیجے میں 7 لاکھ سے زائد افراد بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہوئے۔
میانمار کی فوجی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
پاکستان اور میانمار کے تعلقات
یہ دورہ میانمار میں حالیہ متنازع انتخابات کے بعد ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق فوج کی حمایت یافتہ یونین سالیڈیریٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
بین الاقوامی مبصرین اور اقوام متحدہ نے ان انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوجی حکمرانی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دکھاوا قرار دیا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور میانمار کے تعلقات اس وجہ سے کشیدہ رہے ہیں کہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار کے سلوک پر تنقید کی ہے۔
ان کشیدگیوں کے باوجود، سکیورٹی تعاون دوطرفہ تعلقات کا ایک حصہ بنا رہا ہے۔ 2015 میں میانمار چین-پاکستان کے مشترکہ تیار کردہ 'جے ایف سترہ تھنڈر‘ لڑاکا طیارے کا پہلا غیر ملکی خریدار بنا اور اس نے 16 طیاروں کا آرڈر دیا۔ پاکستان نے میانمار کی مسلح افواج کو تربیت بھی فراہم کی ہے۔
دورے پر بھارت کی نگاہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ میانمار کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان یقیناً نئی دہلی میں بھی نوٹ کیا گیا۔ کیونکہ بھارت نے 2021 کی بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ ماہرین اس کی بنیادی وجہ میانمار کی فوجی قیادت تک رسائی قائم رکھنے اور ملک میں چین کے اثر و رسوخ کا توازن قائم کرنے کو قرار دیتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آخری بار اگست 2025 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر فوجی رہنما من آنگ ہلائنگ سے ملاقات کی تھی۔
انتخابات کے دوران، بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ سینئر افسر پہلے مرحلے میں الیکشن مبصر کے طور پر میانمار میں موجود تھے، حالانکہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا تھا کہ وہ نجی طور پر میانمار گئے تھے۔
اے پی پی کے مطابق، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے میانمار کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور تجارت و اقتصادی تعاون، تعلیم، ثقافت، صلاحیت سازی اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ادارت: صلاح الدین زین