1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اور اے ایف پی کے ساتھ
18 مارچ 2026

مشرق وسطیٰ میں قریب تین ہفتوں سے جاری موجودہ جنگ سے پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بدھ 18 مارچ کو کئی عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک مشاورتی اجلاس ہو رہا ہے۔

ایران جنگ کے دوران سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک ڈرون حملے کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواں، پانچ مارچ کو لی گئی ایک تصویر
ایران جنگ کے دوران سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک ڈرون حملے کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواں، پانچ مارچ کو لی گئی ایک تصویرتصویر: REUTERS

ریاض میں سعودی وزارت خارجہ نے بتایا کہ خطے کی کئی عرب ریاستوں اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ کو اس اجلاس کے لیے سعودی حکومت کی طرف سے دعوت اس پس منظر میں دی گئی ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے پیدا ہونے والے حالات میں بہتری کے لیے تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بتایا، ''بدھ 18 مارچ کی شام ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس میں خطے میں استحکام اور سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہونے والی رابطہ کاری اور مشاورت کی جائیں گی۔‘‘

بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک، ایک دس منزلہ عمارت تباہ

سعودی حکام نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک کو دعوت دی گئی ہے یا اس میں مجموعی طور پر کتنے وزرائے خارجہ حصہ لیں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمانتصویر: Leon Neal/Getty/AP/picture alliance

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی حملے

امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے 28 فروری ہفتے کے دن ایران پر بڑے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اور ابھی تک جاری جنگ میں ایران کی طرف سے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک میں امریکی عسکری اہداف اور اقتصادی مفادات پر جنگی ڈرونز اور میزائلوں سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔

مغربی ایران پر ’وسیع پیمانے پر حملوں کی نئی لہر‘ شروع، اسرائیلی فوج

ان ایرانی حملوں میں اب تک خلیجی عرب ممالک میں مجموعی طور پر کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی دوران سعودی عرب کی طرف سے آج بدھ کے روز بتایا گیا کہ اس کی مسلح افواج نے دو ایسے جنگی ڈرونز مار گرائے ہیں، جن کے ذریعے دارالحکومت ریاض میں بظاہر سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ایران پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے بین الاقوامی قانون کے منافی؟

سعودی عرب میں راس تنورہ کے مقام پر ایک آئل ریفائنری پر ایک ایرانی ڈرون حملے کے بعد وہاں لگنے والی آگ، دو مارچ کو ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویرتصویر: Vantor/AP Photo/picture alliance

ایران جنگ جاری رہی تو جلد ہی توانائی برآمدات رک سکتی ہیں، قطر

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بتایا گیا، ''دو ایسے مسلح ڈرونز اس وقت مار گرائے گئے، جب وہ ریاض میں غیر ملکی سفارت خانوں والے علاقے کی طرف پرواز کر رہے تھے۔‘‘

ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب

اس سے قبل سعودی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے کئی ایسے ڈرونز مار گرائے، جن کے ذریعے ملک کے مشرقی صوبے میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ ریاض سے جنوب مشرق کی طرف واقع پرنس سلطان نامی اس سعودی ایئر فورس بیس کے قریب بھی ایک راکٹ کو مار گرایا گیا، جہاں کافی تعداد میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

کون کون سے امریکی فوجی اڈے، ایران کے لیے آسان ہدف

02:41

This browser does not support the video element.

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں