1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ریٹنگ کی دوڑ میں خواتین ڈیجیٹل تشدد کا نشانہ کیسے بنتی ہیں؟

30 نومبر 2025

خواتین کی زندگی کے سچے جھوٹے قصے چٹخارے لے کر سنانا، ان کے جسمانی خدوخال کو کیمرے یا جملوں سے اجاگر کرنا اور ان کے بارے میں پھیلائی گئی سنسنی سے نفع کمانا، یہ سب وہ رویے ہیں، جنہیں ماہرین ’ڈیجیٹل تشدد‘ میں شمار کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں آن لائن ہراسانی کی شکایت میں پچاسی فیصد متاثرین خواتین تھی
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں آن لائن ہراسانی کی شکایت میں پچاسی فیصد متاثرین خواتین تھیتصویر: Farooq Azam/DW

مدیحہ ارشد کو بہاولپور سے اسلام آباد آئے چند ماہ ہوئے تھے کہ وہ اپنی یونیورسٹی میں 'وائرل گرل‘ کے طور پر مشہور ہو گئیں۔ ایک دن استاد کی غیر موجودگی میں کلاس فیلوز کے ساتھ معمول کا ہنسی مذاق چل رہا تھا۔ کسی نے موبائل پر ہلکی موسیقی لگا دی۔ مدیحہ نے دو قدموں کا مختصر سا ڈانس کیا۔ چند گھنٹے بعد اس نے انسٹاگرام کھولا تو سن ہو کر رہ گئی۔ ایک پیج نے اس کی ویڈیو لگا رکھی تھی۔

اپنے تجربے کے بارے میں وہ ڈی ڈبلیو اردو کو بتاتی ہیں، ”شروع میں مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ میرے ساتھ ہو کیا گیا ہے۔ میری تعلیم، میرا اعتماد اور میرا کردار سب داؤ پر لگ گئے۔ دوستوں کے کہنے پر میں نے ویڈیو ہٹانے کی درخواست کی تو گروپ ایڈمن نے گھنٹے بعد جواب دیا۔ اس نے کلپ تو ہٹا دیا مگر تب تک یونیورسٹی کے کئی پیجز اور پھر سینکڑوں اکاؤنٹس کلکس اور لائیکس حاصل کرنے کے لیے عجیب و غریب کیپشنز کے ساتھ اسے شیئر کر چکے تھے۔"

خواتین کا بطور 'وائرل مواد‘ استعمال

مدیحہ جیسی غیر معروف لڑکیاں ہوں یا صبا قمر جیسی مشہور اسٹارز، ڈیجیٹل دور میں ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے خواتین کو 'وائرل مواد‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی نجی زندگی کے سچے جھوٹے قصے چٹخارے لے کر سنانا، ہر کلپ میں ان کے جسمانی خدوخال کو کیمرے یا جملوں سے اجاگر کرنا اور ان کے بارے میں پھیلائی گئی سنسنی سے نفع کمانا، یہ سب وہ رویے ہیں، جنہیں ماہرین ڈیجیٹل تشدد میں شمار کرتے ہیں۔

چند روز قبل اقوام متحدہ کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ”گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں تقریباً اٹھارہ لاکھ خواتین کو ہراسانی، بلیک میلنگ اور دیگر سائبر جرائم کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان واقعات میں صرف 3.5 فیصد مجرموں کو سزا دی گئی۔"

گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں تقریباً اٹھارہ لاکھ خواتین کو ہراسانی، بلیک میلنگ اور دیگر سائبر جرائم کا سامنا کرنا پڑاتصویر: Farooq Azam/DW

جبکہ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں آن لائن ہراسانی کی شکایت میں پچاسی فیصد متاثرین خواتین تھی۔

ہر سال 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور رواں برس کا تھیم بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ، ”تمام خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہوا جائے۔"

ڈیجیٹل تشدد کیا ہے؟

 اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق، ”ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والا تشدد کسی بھی ایسے عمل کو کہا جاتا ہے، جو معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی یا کسی بھی ڈیجیٹل اوزار کے ذریعے کیا جائے، جس کے نتیجے میں جسمانی، جنسی، نفسیاتی، سماجی، سیاسی یا معاشی نقصان ہو، یا جس کے ذریعے کسی شخص کے حقوق اور آزادیوں کی خلاف ورزی ہو۔"

ویب سائٹ کے مطابق، ”اگرچہ 'ڈیجیٹل تشدد‘ یا 'آن لائن تشدد‘ جیسے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں لیکن 'ٹیکنالوجی سے معاون تشدد‘ اس حقیقت کو بہتر طور پر بیان کرتا ہے کہ نقصان محض آن لائن نہیں بلکہ حقیقی زندگی تک بھی پہنچ سکتا ہے۔"

ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیویسٹ زنیرہ چوہدری ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”کسی کی ذاتی معلومات کو منظرِ عام پر لانا، ڈیپ فیک ویڈیوز بنانا یا بغیر اجازت تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال تیزی سے ابھرتے ہوئے رجحانات ہیں، جن کا اکثر نشانہ خواتین بنتی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے، جہاں خواتین کے لیے زندگی آسان کی وہیں، جنسی ہراسانی، اسٹاکنگ اور کردار کشی کے نئے ٹولز بھی فراہم کیے، جس کے متاثرین میں دنیا بھر کی کروڑوں خواتین شامل ہیں۔ بعض اوقات یہ رویے ذاتی انتقام سے جنم لیتے ہیں لیکن بیشتر ریٹنگ کا چکر اور ہمارے نفسیاتی و سماجی تعصبات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔"

ریٹنگ کی دوڑ میں خواتین کس طرح 'مواد‘ بنتی ہیں؟

کیا خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد محض چند افراد کا ذاتی رویہ ہے یا ہمارے سماجی رجحانات کی عکاسی ہے؟ میڈیا منڈی کے مصنف اکمل شہزاد گھمن اسے ہمارے اجتماعی رویوں کی ڈیجیٹل عکاسی سمجھتے ہیں۔

بعض صورتوں میں یہ تجربات خواتین میں سماجی علیحدگی کی بنیاد بنتے ہیں اور ساری زندگی سائے کی طرح خواتین کا پیچھا کرتے ہیںتصویر: Farooq Azam/DW

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”صدیوں سے معاشرتی توقعات عورت کو خوبصورت بنا کر پیش کرتی آئی ہیں۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو اقتصادی منافع کے لیے استعمال کیا۔ خواتین کی ذاتی زندگی یا تصاویر 'وائرل مواد‘ فراہم کرتی ہیں، جس سے پلیٹ فارم اور الگورتھمز دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے پہلے ڈائجسٹوں یا اخباری میگزین کا دور یاد کریں، فرنٹ پر ہمیشہ خوبصورت خاتون کی تصویر ہوتی، اشتہارات کی دنیا کا مشاہدہ کریں، پراڈکٹس بیچنے کے لیے اکثر خواتین کا سہارا لیا جاتا ہے۔"

ہر 10 منٹ میں ایک عورت یا لڑکی قتل ہو جاتی ہے، اقوام متحدہ

ان کے مطابق، ”سوشل میڈیا نے اس رجحان کو نئی سمت دی، ہر کوئی زیادہ لائیکس اور فالورز چاہتا ہے۔ ہماری اجتماعی نفسیات ہمیشہ عورت کو انسان کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک 'مواد‘ کے طور پر ٹریٹ کرتی رہی ہیں اور آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ رجحان ریٹنگ اور ویوز کے لیے مزید بڑھ گیا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں عورت ایک 'کانٹینٹ یونٹ‘ بن گئی ہے، جس کی قیمت لائیکس اور شیئرز سے ماپی جاتی ہے۔"

زنیرہ چوہدری کہتی ہیں، ”چند اکاؤنٹس ویڈیو یا متنازعہ تصاویر ڈال کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں، پھر باقی پورا ڈیجیٹل ماحول اسے اپنی مرضی کے عنوانات، کمنٹس، جملوں اور تمسخر کے ساتھ آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اس پورے کھیل میں نہ پرائیویسی رہتی ہے، نہ بطور انسان عورت کی عزت۔"

 ڈیجیٹل تشدد خواتین کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

مدیحہ ارشد کہتی ہیں، ”ایک ایسے معاشرے میں جہاں ویڈیو وائرل ہونے کی وجہ سے خواتین قتل ہو جاتی ہیں، شاید مرد کبھی یہ خوف نہیں سمجھ سکتا۔ مجھے اپنے دیہی پس منظر سے نکل کر بڑے شہر میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع خاندان اور معاشرے کے ساتھ طویل جد و جہدکے بعد ملا تھا۔ مجھے پہلا خیال یہی آیا کہ اگر میرے خاندان کے کسی فرد نے یہ ویڈیو دیکھ لی تو مجھے یونیورسٹی چھوڑنی پڑے گی۔"

ان کے بقول، ”مجھے مسلسل کئی ماہ تک یہی محسوس ہوتا رہا کہ آس پاس کا ہر فرد مجھے گھور رہا ہے۔ میں نے ہٹس پر جانا چھوڑ دیا۔ میرے دوستوں نے میرا بہت ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود نارمل سماجی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے مجھے سیشن لینے پڑے۔"

ایسے واقعات کا اثر کیا خواتین کی محض سماجی زندگی تک محدود ہوتا ہے یا وہ گہرے ذہنی صدمات سے بھی گزرتی ہیں؟

ماہر نفسیات ڈاکٹر اسامہ بن زبیر ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ”مسلسل پیغامات، تصاویر یا ویڈیوز کا اشتراک خواتین میں اضطراب، ڈپریشن، خوداعتمادی میں کمی اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ وہ ہر وقت اس خوف میں رہتی ہیں کہ لوگ انہیں کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ تجربات خواتین میں سماجی علیحدگی کی بنیاد بنتے ہیں اور ساری زندگی سائے کی طرح خواتین کا پیچھا کرتے ہیں۔"

 کیا سائبر کرائم قوانین سے خواتین کی مشکلات کم ہو رہی ہیں؟

پاکستان میں 2016ء میں پہلی بار پیکا ایکٹ منظور کیا گیا، جس نے آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیز مواد کو قابلِ سزا جرم قرار دیا۔ یہ قوانین آن لائن تعاقب، بلیک میلنگ اور کسی کی ذاتی معلومات کو بلا اجازت شیئر کرنے کو جرم قرار دیتے ہیں، جس کی سزا تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔

یہ قوانین کس حد تک خواتین کو آن لائن محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں؟

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے سائبر قوانین کے ماہر حیدر شاہ کہتے ہیں، ”قوانین کا نفاذ کمزور اور آگاہی انتہائی کم ہے، ہمارا سماجی ڈھانچہ ایسا ہے کہ خواتین شکایت درج کروانے اور دفاتر کے چکر لگانے کو اپنے لیے ایک نئی مصیبت سمجھتی ہیں۔ اس لیے خواتین اکثر قانونی چارہ جوئی کے بجائے اپنی حفاظت کے لیے خود کو محدود کر لیتی ہیں، اس لیے ڈیجیٹل تشدد کا خوف اور سماجی دباؤ کم و بیش برقرار ہے۔"

اکمل شہزاد گھمن کہتے ہیں، ”ایسے واقعات میں سب سے زیادہ خوف خواتین کو اپنے خاندان کے ردعمل کا ہوتا ہے۔ ہمیں نیشنل میڈیا اور نصاب تعلیم کے ذریعے یہ پیغام پھیلانا چاہیے کہ جب کوئی خاتون قدم اٹھائے، تو اس کی حوصلہ شکنی کے بجائے اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔"

ادارت: امتیاز احمد

پیکا ترمیمی ایکٹ کا نشانہ کون، جعلی خبریں یا ناقدین؟

04:24

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں