ریپ روکنا ہے تو گانجہ اور بھنگ کو فروغ دو، بھارتی قانون ساز
آسیہ مغل
27 جولائی 2022
بھارت میں ریپ اور دیگر سنگین جرائم کے بڑھتے واقعات کو روکنے کے لیے بی جے پی کے ایک قانون ساز سابق ریاستی وزیر صحت نے ایک انوکھی لیکن متنازع تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے گانجہ اور بھنگ کو فروغ دینے کی وکالت کی ہے۔
تصویر: AFP/Getty Images/S. Kanojia
اشتہار
ایسے وقت میں جب بھارت میں ہر گھنٹے ریپ اور قتل کے متعدد واقعات سامنے آتے رہتے ہیں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک قانون ساز نے ان ہولنا ک جرائم پرقابو پانے کا ایک نادرنسخہ تجویز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شراب کے استعمال پر پابندی عائد کرکے اور گانجہ اور بھنگ کو فروغ دینے سے یہ جرائم کم ہوسکتے ہیں۔
وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی اور سابق ریاستی وزیر صحت کرشنا مورتی باندھی کا کہنا ہے کہ شراب پینے کی وجہ سے ہی ریپ، قتل اور ڈاکہ جیسے سنگین جرائم کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن اگر اس کی جگہ لوگ گانجہ اور بھنگ کا استعمال کریں تو اس طرح کے جرائم رک سکتے ہیں۔ لہذا گانجہ اور بھنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ ہندو دھرم میں گانجہ اوربھنگ کو مذہبی قبولیت حاصل ہے۔ مندروں اور دیگر ہندو مذہبی مقامات پر سادھووں کو گانجہ اور بھنگ پیتے ہوئے اکثر دیکھا جاسکتا ہے۔
مختلف ثقافتوں میں بھنگ کا استعمال
بھنگ کے مخالفین اس کے استعمال پر پابندی عائد کرانا چاہتے ہیں لیکن اس کے حمایتی اسے کئی امراض کا علاج سمجھتے ہیں۔ بھنگ کے حوالے سے صدیوں پرانی کئی کہانیاں اور مفروضے عام ہیں۔
تصویر: Mukhtar Khan/AP Photo/picture alliance
جادوئی پودا
جرمنی میں بھنگ کی کاشت پر کافی سختی ہے کیوںکہ ہیمپ یا بھنگ کی کچھ اقسام کافی نشہ آور ہیں۔ دو سو سال پہلے کی نسبت آج جرمنی میں بھنگ کا پودا بہت مشکل سے دکھائی دیتا ہے۔
تصویر: Christian Charisius/dpa/picture alliance
فرانسیسی فوجی اپنے ساتھ حشیش لائے
ایک نشہ آور چیز کے طور پر بھنگ کے استعمال کی یورپ میں نسبتاً حالیہ تاریخ ہے۔ فرانسیسی سپاہی 1798 میں نپولین کے مصر پر حملے کے بعد چرس کے پودے سے بنی ہوئی حشیش کو اپنے ساتھ واپس فرانس لے آئے۔ یوں اس نشہ آور مواد کا استعمال یورپ میں پھیلا۔ نپولین نے مصر میں تو حشیش پر پابندی عائد کر دی لیکن یہ پیرس میں کافی مقبول ہو گئی۔
تصویر: Christian Böhmer/dpa/picture alliance
حیض کی تکلیف میں کمی کا باعث
1990 کی دہائی سے برطانیہ میں بھنگ کے استعمال کو جائز قرار دینے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ اس وقت ایک افواہ تھی کہ ملکہ وکٹوریا کو پیریڈز کی تکلیف سے آرام پہنچانے کے لیے بھنگ دی گئی تھی۔ سن 1890 میں ان کے ڈاکٹر جان رسل نے ایک میڈیکل جرنل میں تحریر کیا تھا کہ بھنگ یا کینابیس کئی امراض کے علاج کے لیے فائدہ مند ہے۔
تصویر: dpa
ہیمپ یا چرمی کاغذ
کہا جاتا ہے کہ امریکا کی آزادی کے اعلان کو بھنگ سے بنے کاغذ پر لکھا گیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ یہ اعلان دراصل ایک پارچمینٹ یعنی چرمی کاغذ پر لکھا گیا تھا۔ لیکن ممکن ہے کہ پہلے دو مسودے ہیمپ پیپر پر لکھے گئے ہوں۔
تصویر: Rauchwetter/dpa/picture alliance
’’ریفر میڈنس‘‘
’’ ریفر میڈنس‘‘ سن 1936 میں ایک چرچ گروپ کی مالی اعانت سے بنائی گئی فلم تھی۔ اس فلم میں نوجوانوں کو بھنگ پینے کے فوری بعد اس کے نشے کا عادی بن جانے والے، پر تشدد اور پاگل ہو جانے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ یہ فلم اس وقت بھنگ کے حوالے سے مبالغہ آرائیوں اور غلط فہمیوں کا ایک تاریخی ثبوت ہے۔
تصویر: Richard Vogel/AP Images/picture alliance
نسل پرستی
امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے نسل پرست سربراہ ہیری اینسلنگر 1930 کی دہائی سے بھنگ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مبینہ طور پر، میکسیکن اور سیاہ فام افراد بھنگ پیتے تھے، لیکن اینسلنگر کو ان کی صحت کی کوئی فکر نہیں تھی۔ اینسلنگر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ نشے کا استعمال کر کے سیاہ فام افراد سمجھتے ہیں کہ وہ سفید فام افراد جیسے ہیں۔
تصویر: Mary Evans Picture Library/picture alliance
مذہبی عقیدت
دوسری ثقافتیں بھنگ کے نشہ آور اثرات کے بارے میں شاید زیادہ روشن خیال ہیں۔ ہندو دیوتا شیو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے زندگی کی تمام لذتوں کو ترک کر دیا سوائے بھنگ کے۔ اکثر دہرائے جانے والے ان دعوؤں کے برعکس، بھنگ کا استعمال بہت نشہ آور ہو سکتا ہے۔
تصویر: Mukhtar Khan/AP Photo/picture alliance
7 تصاویر1 | 7
بیان کی نکتہ چینی
بی جے پی رہنما کے اس متنازع بیان کی مختلف حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہورہی ہے۔ چھتیس گڑھ میں حکمراں کانگریس پارٹی نے بیان کی مذمت کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایک عوامی نمائندہ آخر گانجہ اور بھنگ جیسے منشیات کو فروغ دینے کی وکالت کیسے کرسکتا ہے؟
اشتہار
کرشنا مورتی باندھی کا تاہم کہنا تھا، "یہ میری ذاتی رائے ہے۔ میں نے اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جو ریپ ہورہے ہے، جو قتل ہو رہے ہیں، جو جھگڑے ہو رہے ہیں، یہ کہیں نہ کہیں ہماری ذہنیت اور شراب کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "میں نے اسمبلی میں یہ پوچھا تھا کہ مجھے بتائیں کہ کیا کبھی بھنگ کھانے والے نے کوئی قتل کیا ہو؟ کبھی بھنگ کھانے والوں نے کسی کا ریپ کیا ہو، ڈکیتی کی ہو، مارپیٹ کی ہو، تو بتائیں۔"
بی جے پی کے سابق ریاستی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا،"ایوان میں ایسی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جو اس بات پر غور کرتی ہیں کہ شراب کو کیسے بند کیا جائے اور اگر نشے کی ضرورت ہے تو اسے کیسے پورا کیا جائے۔ لہذا ان کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ اس جانب بھی توجہ دیں کہ ہم گانجے اور بھنگ کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر لوگوں کو نشہ چاہئے تو ایسا نشہ دیا جائے جس سے قتل نہ ہو، ریپ نہ ہو، جرائم نہ ہو۔"
بھارت: خواتین کے خلاف جرائم
بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2018 کے مقابلے 2019 میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس مدت میں فی ایک لاکھ پر جرائم کی شرح 58.8 فیصد سے بڑھ کر 62.4 فیصد ہوگئی۔
تصویر: picture alliance/NurPhoto/S. Pal Chaudhury
روزانہ 88 ریپ
بھارت میں 2019 میں جنسی زیادتی کے 32033 کیسز درج کیے گئے یعنی یومیہ اوسطاً 88 کیسز۔ راجستھان میں سب سے زیادہ 5997 کیسز، اترپردیش میں 3065 اور مدھیا پردیش میں 2485 کیسز درج ہوئے۔ تاہم بیشتر واقعات میں پولیس پر کیس درج نہیں کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
تصویر: imago images/Pacific Press Agency
دلتوں کا اوسط گیارہ فیصد
بھارت کے حکومتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈ ز بیورو کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین میں گیارہ فیصد انتہائی پسماندہ طبقات یعنی دلت طبقے سے تعلق رکھنے والی تھیں۔
تصویر: Getty Images
اپنے ہی دشمن
خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے 30.9 فیصد معاملات میں ملزم قریبی رشتے دار تھے۔ سماجی بدنامی کے خوف سے ایسے بیشتر واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے ہیں۔
تصویر: Reuters/
کینڈل لائٹ مظاہرے
جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ اگر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس واقعہ اور حکومت کے خلاف مظاہرے بھی ہوتے ہیں لیکن پھر اگلے واقعہ تک سب کچھ ’شانت‘ ہوجاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Zuma/Masrat Zahra
نربھیا کیس
دسمبر 2012 کے دہلی اجتماعی جنسی زیادتی کیس کے بعد پورے بھارت میں مظاہرے ہوئے۔ نربھیا کیس کے نام سے مشہور اس واقعہ کے بعد حکومت نے خواتین کی حفاظت کے لیے سخت قوانین بھی بنائے تاہم مجرموں پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
تصویر: picture alliance/AP Photo
بیٹی بچاو
وزیر اعظم نریندرمودی نے 2015 ’بیٹی بچاو، بیٹی پڑھاو‘ اسکیم شروع کی جس کا مقصد صنفی تناسب کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کے بعد ان کے مخالفین طنزیہ طور پر کہتے ہیں کہ’’مودی جی نے تو پہلے ہی متنبہ کردیا تھا کہ’بیٹی بچاو‘۔ اب یہ ہر والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بیٹی کو خود بچائے۔“
تصویر: Reuters/Sivaram V
قانونی جوڑ توڑ
جنسی زیادتی کے ملزمین کو سزائیں دینے کی شرح میں 2007 کے بعد سے زبردست گراوٹ آئی ہے۔ 2006 میں سزاوں کی شرح 27 فیصد تھی لیکن 2016 میں یہ گھٹ کر 18.9 فیصد رہ گئی۔ ملزمین قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر آسانی سے بچ نکلتے ہیں۔
تصویر: Reuters
30 فیصد ممبران پارلیمان ملزم
جنسی زیادتی کے ملزم سیاسی رہنماوں کو شا ذ ونادر ہی سزائیں مل پاتی ہیں۔ بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں، لوک سبھا کے تقریباً 30 فیصد موجودہ اراکین کے خلاف خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور اغوا جیسے سنگین الزامات ہیں۔
تصویر: Imago/Hindustan Times
وحشیانہ جرم
جنسی درندے کسی بھی عمر کی خاتون کو اپنی درندگی کا شکار بنالیتے ہیں۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں چند ماہ کی بچی سے لے کر 80 برس کی بزرگ خواتین تک شامل ہیں۔
تصویر: picture-alliance/ZUMAPRESS/F. Khan
ہر سطح پر اصلاح کی ضرورت
ماہرین سماجیات کا کہتے ہیں کہ صرف قانون سازی کے ذریعہ جنسی زیادتی کے جرائم کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے سماجی سطح پر بھی بیداری اور نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔
تحریر: جاوید اختر، نئی دہلی
تصویر: Getty Images/N. Seelam
10 تصاویر1 | 10
'نشہ کوئی بھی ٹھیک نہیں'
بی جے پی قانون ساز کے بیان کی چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نشہ خواہ کسی بھی شکل میں ہو اچھی چیز نہیں ہے اور اسے کسی بھی صورت میں فروغ نہیں دیا جانا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بی جے پی گانجہ اور بھنگ کو قانونی طور پر جائز قرار دینا چاہتی ہے تواسے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے اس کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
کانگریس کے ریاستی ترجمان نے کہا کہ ایک قانون ساز اور سابق وزیر صحت سے اس طرح کے بیانا ت کی توقع نہیں کی جاسکتی جو سماج کو نشے سے پاک کرنے کے بجائے نشہ کو فروغ دینے کی وکالت کررہا ہے۔"کسی بھی مہذب سماج میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔"
خیال رہے کہ بھارت میں 'نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹنس(این ڈی پی ایس)' قانون کے تحت گانجے پر پابندی عائد ہے جب کہ بھنگ، جو کہ بھنگ کے پودے کے پتوں کا استعمال کرتے ہوئے کھانے کے قابل ایک مرکب ہے، کی ایک حد تک قانوناً اجازت ہے۔