1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ریڈیو دمشق، شامی پراپیگنڈہ جرمن زبان میں

17 اکتوبر 2012

ریڈیو دمشق کی جرمن سروس سے نشر ہونے والے پروگراموں میں شام کے حالات کی ایک روشن تصویر پیش کی جاتی ہے۔ شام کے بیرونی نشریات کے اس چینل کا مقصد جرمن سامعین میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

ریڈیو دمشق سے جرمن زبان میں نشر ہونے والی خبریں کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں:’’شامی سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اس پختہ عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی اور اُس کے حامیوں کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔‘‘ پھر کئی منٹ تک نیوز ریڈر گنواتا رہتا ہے کہ کن کن محاذوں پر شامی حکومت نے اپنے دشمنوں کو پسپا کر دیا ہے:’’حلب میں شامی فوج کے یونٹوں نے اُن دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا ہے، جو ایک چھاؤنی میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘ مزید بتایا جائے گا کہ حمص اور دیگر مقامات پر بھی درجنوں باغی ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔

جرمن زبان میں خبروں، تبصروں اور جائزوں پر مشتمل ایک گھنٹے کا یہ پروگرام، جس میں ساتھ ساتھ عربی موسیقی بھی سنائی جاتی ہے، ہر شام پیش کیا جاتا ہے اور اس میں حالات کی وہ تصویر دکھائی جاتی ہے، جو شام کی حکومت اپنے ملک میں جاری خونریز خانہ جنگی کے حوالے سے دکھانا چاہتی ہے۔

ریڈیو دمشق کی جرمن سروس سے کبھی صدر اسد پر تنقید سننے میں نہیں آتیتصویر: Getty Images

ریڈیو دمشق کے عربی زبان کے پروگراموں کی طرح اس جرمن پروگرام میں بھی باغیوں کو مسلسل دہشت گرد قراردیتے ہوئے یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ غیر ملکی عناصر کا آلہء کار بنے ہوئے ہیں یا اُن کی باہر سے پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ ان نشریات میں صدر اسد پر کہیں بھی تنقید سنائی نہیں دیتی۔

ریڈیو دمشق کے جرمن پروگرام کے انچارج عبدالطیف آدم کے مطابق اِن جرمن نشریات کا مقصد ’سیاست، ثقافت، کھیلوں اور سیاحت کے شعبوں میں شام کو متعارف کروانا ہے‘۔ آج کل خبروں میں جنگ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

جرمن شہر ایرفرٹ میں مواصلاتی علوم کے پروفیسر کائی حافظ کے خیال میں یہ جرمن نشریات اُس کلاسیکی پراپیگنڈے کی ایک واضح مثال ہیں، جو ہمیں ماضی میں یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں نظر آتا رہا ہے۔

آج کل ریڈیو دمشق کی نشریات میں جنگ سے متعلق خبروں کو مرکزی اہمیت حاصل ہےتصویر: Getty Images

ریڈیو دمشق سے جرمن زبان کی نشریات 1968ء میں شارٹ ویو پر شروع ہوئی تھیں تاہم اب یہ سیٹیلائٹ اور انٹرنیٹ پر بھی سنی جا سکتی ہیں۔ جرمن سروس کے ارکان کی تعداد دَس ہے جبکہ جرمن کے ساتھ ساتھ انگریزی، فرانسیسی، روسی یا پھر ترکی زبانوں میں بھی نشریات پیش کی جاتی ہیں۔

عبدالطیف آدم کے مطابق اُن کا پروگرام زیادہ تر جرمنی یا آسٹریا میں سنا جاتا ہے اور لوگ نشریات سننے کے بعد تنقیدی آراء بھی روانہ کرتے رہتے ہیں۔ آدم کا کہنا ہے کہ جرمن زبان اُنہوں نے دمشق ہی میں ذاتی کوششوں سے سیکھی ہے۔

پروفیسر کائی حافظ کے خیال میں نہ صرف ان نشریات کے سننے والوں کی تعداد انتہائی محدود ہو گی بلکہ ان کے نتیجے میں عالمی رائے عامہ میں شامی حکومت کے موقف کی زیادہ بہتر تفہیم کا بھی امکان کم ہی ہے۔

A.Grozewski/aa/ia

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں