ریڈیو دمشق، شامی پراپیگنڈہ جرمن زبان میں
17 اکتوبر 2012
ریڈیو دمشق سے جرمن زبان میں نشر ہونے والی خبریں کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں:’’شامی سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اس پختہ عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی اور اُس کے حامیوں کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔‘‘ پھر کئی منٹ تک نیوز ریڈر گنواتا رہتا ہے کہ کن کن محاذوں پر شامی حکومت نے اپنے دشمنوں کو پسپا کر دیا ہے:’’حلب میں شامی فوج کے یونٹوں نے اُن دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا ہے، جو ایک چھاؤنی میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘ مزید بتایا جائے گا کہ حمص اور دیگر مقامات پر بھی درجنوں باغی ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔
جرمن زبان میں خبروں، تبصروں اور جائزوں پر مشتمل ایک گھنٹے کا یہ پروگرام، جس میں ساتھ ساتھ عربی موسیقی بھی سنائی جاتی ہے، ہر شام پیش کیا جاتا ہے اور اس میں حالات کی وہ تصویر دکھائی جاتی ہے، جو شام کی حکومت اپنے ملک میں جاری خونریز خانہ جنگی کے حوالے سے دکھانا چاہتی ہے۔
ریڈیو دمشق کے عربی زبان کے پروگراموں کی طرح اس جرمن پروگرام میں بھی باغیوں کو مسلسل دہشت گرد قراردیتے ہوئے یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ غیر ملکی عناصر کا آلہء کار بنے ہوئے ہیں یا اُن کی باہر سے پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ ان نشریات میں صدر اسد پر کہیں بھی تنقید سنائی نہیں دیتی۔
ریڈیو دمشق کے جرمن پروگرام کے انچارج عبدالطیف آدم کے مطابق اِن جرمن نشریات کا مقصد ’سیاست، ثقافت، کھیلوں اور سیاحت کے شعبوں میں شام کو متعارف کروانا ہے‘۔ آج کل خبروں میں جنگ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
جرمن شہر ایرفرٹ میں مواصلاتی علوم کے پروفیسر کائی حافظ کے خیال میں یہ جرمن نشریات اُس کلاسیکی پراپیگنڈے کی ایک واضح مثال ہیں، جو ہمیں ماضی میں یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں نظر آتا رہا ہے۔
ریڈیو دمشق سے جرمن زبان کی نشریات 1968ء میں شارٹ ویو پر شروع ہوئی تھیں تاہم اب یہ سیٹیلائٹ اور انٹرنیٹ پر بھی سنی جا سکتی ہیں۔ جرمن سروس کے ارکان کی تعداد دَس ہے جبکہ جرمن کے ساتھ ساتھ انگریزی، فرانسیسی، روسی یا پھر ترکی زبانوں میں بھی نشریات پیش کی جاتی ہیں۔
عبدالطیف آدم کے مطابق اُن کا پروگرام زیادہ تر جرمنی یا آسٹریا میں سنا جاتا ہے اور لوگ نشریات سننے کے بعد تنقیدی آراء بھی روانہ کرتے رہتے ہیں۔ آدم کا کہنا ہے کہ جرمن زبان اُنہوں نے دمشق ہی میں ذاتی کوششوں سے سیکھی ہے۔
پروفیسر کائی حافظ کے خیال میں نہ صرف ان نشریات کے سننے والوں کی تعداد انتہائی محدود ہو گی بلکہ ان کے نتیجے میں عالمی رائے عامہ میں شامی حکومت کے موقف کی زیادہ بہتر تفہیم کا بھی امکان کم ہی ہے۔
A.Grozewski/aa/ia