زخمی خاتون کارکن سویڈن منتقل
10 دسمبر 2012
جناح ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر فضل الرحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا "وہ ابھی تک بے ہوش اور مصنوعی تنفس پر ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے"۔
انہوں نے مزید بتایا کہ Birgitta Almeby کو سویڈن کی حکومت کی خصوصی درخواست پر بھجوایا گیا ہے اور سویڈش حکومت نے ڈاکٹروں کی ٹیم سے لیس خصوصی ائر ایمبولینس بھجوائی تھی۔ ایئر ایمبو لینس پر آج سوموار کے روز انہیں روانہ کر دیا گیا۔
سویڈن کی اس 72 سالہ شہری کو گزشتہ ہفتے اس وقت سینے میں گولی ماری گئی تھی جب وہ اپنے دفتر سے گھر جا رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق وہ گزشتہ 38 سال سے پاکستان میں رہ رہی تھیں۔ وہ مسیحی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری مذہبی تنظیم " فل گوسپل اسمبلیز" کے ساتھ وابستہ ہیں،جو دنیا بھر میں اپنے آپ کو چرچ دوست کے طور پر پیش کرتی ہے۔ مذکورہ ادارہ پاکستان میں فنی تربیتی انسٹیٹیوٹ، تعلیم بالغاں سنٹر، اور یتیموں کی فلاح و بہبود کےلئےکام کررہا ہے۔ پاکستان میں فل گوسپل اسمبلیز کے مقامی ترجمان پادری لیاقت قیصر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی صحت تشویشناک تھی اور بہتر علاج کےلیےاسے سویڈن منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کےایک افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں کا ابھی تک سراغ نہیں لگایاجا سکا اور تفتیشی عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ 80 لاکھ آبادی پر مشتمل پاکستان کا مشرقی شہر لاہور سن 2010 میں خاص طور پر بڑے پیمانے پر بم دھماکوں کا شکار رہا ہے اور ان بم دھماکوں کی کڑیاں طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں سے جوڑی جاتی ہیں۔
اگست 2011 میں ایک امریکی شہری وارن وائن سٹائن کو بھی لاہور سے مسلح افراد نے اغوا کیاتھا، پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کی قید میں ہے۔ رواں برس اپریل میں برطانوی مسلم ریڈ کراس کے ایک ورکر کو انتہاپسندوں نے مغوی بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔
rk / ah (AFP)