جرمن موٹر ویز پر 2025 میں ٹریفک جام اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ طویل تھے اور انہیں ختم ہونے میں بھی زیادہ وقت لگا۔
تصویر: Matthias Balk/dpa/picture alliance
اشتہار
زمین سے چاند تک، پھر واپسی اور اس کے بعد زمین کے گرد مزید ڈھائی چکر، یہ جرمنی کی شاہراہوں پر گزشتہ سال لگنے والے ٹریفک جام کی کل لمبائی تھی۔ ٹریفک جام کی طوالت اور دورانیے میں اضافہ ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ 2026 میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جرمن موٹر ویز پر 2025 میں ٹریفک جام اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ طویل تھے اور انہیں ختم ہونے میں بھی زیادہ وقت لگا۔ جرمن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (ADAC) کے مطابق، 2025ء میں ان کی مجموعی لمبائی 866,000 کلومیٹر رہی، جو 2024ء کے مقابلے میں 7,000 کلومیٹر زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ ٹریفک میں رکاوٹ کا دورانیہ بھی طویل رہا۔ گزشتہ برس مجموعی طور پر 478,000 گھنٹے ٹریفک جام رہا، جو 2024 کے مقابلے میں 30,000 گھنٹے زیادہ ہے۔
ایک مثبت پہلو تاہم یہ رہا کہ کم از کم ایک کلومیٹر طویل ٹریفک جام کی تعداد 20,000 کی کمی کے ساتھ 496,000 رہ گئی۔ مگر یہ کمی اوسط لمبائی اور دورانیے میں ہونے والے اضافے کا اثر زائل کرنے یا شاہراہوں پر صورتحال کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی۔
ٹریفک جام کے حوالے سے سال کا بدترین دن موسم سرما میں آیا۔ نو جنوری کو اچانک برفباری اور سرد موسم کی وجہ سے مجموعی طور پر 6,300 کلومیٹر طویل ٹریفک جام ہوا۔تصویر: Timm Reichert/REUTERS
نارتھ رائن ویسٹ فیلیا: ٹریفک جام کا گڑھ
2025 میں ٹریفک جام کا سب سے بڑا شکار جرمنی کی ایک مغربی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا رہی۔ ADAC کے مطابق، ٹریفک جام کے کل گھنٹوں کا تقریباً 35 فیصد اسی ریاست میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باویریا 13 فیصد اور باڈن ورٹمبرگ 10 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
ٹریفک جام سے سب سے زیادہ متاثرہ مہینہ جولائی رہا، جس میں 50,000 گھنٹے اور 87,000 کلومیٹر طویل جام ریکارڈ کیے گئے۔ اکتوبر 49,000 گھنٹوں اور 85,000 کلومیٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ تاہم، سال کا بدترین دن موسم سرما میں آیا۔ نو جنوری کو اچانک برفباری اور سرد موسم کی وجہ سے مجموعی طور پر 6,300 کلومیٹر طویل ٹریفک جام ہوا۔
جرمن موٹر ویز پر 2025 میں ٹریفک جام اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ طویل تھے اور انہیں ختم ہونے میں بھی زیادہ وقت لگا۔تصویر: Andreas Arnold/dpa/picture alliance
رواں سال صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ
ADAC نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں سال کے دوران موٹر ویز پر صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ ٹریفک کلب کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے حجم میں معمولی اضافہ ممکنہ طور پر مزید جام کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ، ''سیکڑوں خستہ حال موٹر وے پلوں کی جدید کاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تعمیراتی کام‘‘ بھی ٹریفک میں مزید رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ تاہم، ADAC کا کہنا ہے کہ موٹر وے نیٹ ورک کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
جرمن شاہراہیں، کیا حقیقت اور کیا افسانہ
جرمن موٹر وے کا پیچیدہ مگر پُرکشش نیٹ ورک اس پر سفر کرنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھتا ہے۔ جانیے کہ جرمن شاہراہوں کے حوالے سے داستانیں کیا ہیں اور حقائق کیا بتاتے ہیں۔
تصویر: Universum Film
سب سے قدیم شاہراہ
جرمن دارالحکومت برلن میں اندرونِ شہر شاہراہ ’اے وی یو ایس‘ کو ملک کی سب سے قدیم موٹر وے تصور کیا جاتا ہے۔ اسے سن 1913 اور سن 1921 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اُس وقت یہ محض دس کلومیٹر طویل تھی۔ اس کے اتنا مختصر ہونے کے سبب اسے جرمنی میں شاہراہوں کا نقشِ اول بھی کہا جاتا ہے۔
تصویر: Getty Images/S. Gallup
صرف گاڑیوں کے لیے سڑک
جرمنی میں پہلی ’باقاعدہ‘ موٹر وے کولون اور بون کے شہروں کے درمیان 6 اگست سن 1932 کو گاڑیوں کی آمد ورفت کے لیے کھولی گئی۔ اس ہائی وے کو سرکاری طور پر بھی ’ وہیکلز، اونلی روڈ‘ یعنی ’صرف گاڑیوں کے لیے سٹرک‘ ہی کہا گیا۔ آج یہ سڑک آٹو بان ’اے 555‘ کا ایک حصہ ہے۔
تصویر: DW/M. Nelioubin
موٹر وے کی تعمیر ہٹلر کی تجویز نہیں تھی
مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ جرمنی میں پہلی موٹر وے کی تعمیر کی ہدایت ایڈولف ہٹلر نے نہیں دی تھی۔ گزشتہ سلائیڈ میں دکھائی گئی سڑک بنانے کا منصوبہ، کلون کے اس وقت کے لارڈ مئیر کونراڈ آڈے ناؤر کا تھا۔
تصویر: picture-alliance/ dpa/dpaweb
’ہائی وے ون‘، شاہراہوں کی چیمپئین
دنیا بھر کی شاہراہوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آسٹریلیا کی ’ہائی وے ون‘ نامی سڑک دنیا کی سب سے طویل شاہراہ ہے۔ یہ سڑک قریب تمام برِاعظم آسٹریلیا کا احاطہ کرتی ہے اور اس کی طوالت 14،000 کلو میٹر سے زائد ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
حیرت انگیز نیٹ ورک
جرمنی کو ’گنجان ترین شاہراہوں کا ملک‘ کہا جاتا ہے۔ جرمن ’آٹوبان‘ یا موٹر وے کے اِس نیٹ ورک کی لمبائی تقریباﹰ 13،000 کلو میٹر ہے۔ اگرچہ آٹوبان ملکی شاہراہوں کا صرف چھ فیصد ہے لیکن جرمنی کی ایک تہائی مجموعی ٹریفک اسی موٹر وے پر انحصار کرتی ہے۔
تصویر: Universum Film
موٹر وے کے بڑھتے ٹول ٹیکس
جرمن وزیرِ ٹرانسپورٹ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ کو توقع ہے کہ ہائی وے پر مسافر بردار گاڑیوں کے لیے ٹول ٹیکس متعارف کرانے سے ملک کو سالانہ 500 ملین یورو کی آمدنی ہو گی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹول جمع کرنے کی غرض سے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے کثیر اخراجات کرنے ہوں گے۔