جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر مہاجرین کے حوالے سے اپنا ’ترک وطن ماسٹر پلان‘ آج پیش کریں گے۔ ابھی حال ہی میں جرمن چانسلر انگيلا میرکل اور زیہوفر کے درمیان مہاجرت کے موضوع پر شدید تناؤ کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا۔
تصویر: Reuters/H. Hanschke
اشتہار
موجودہ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر، جن کا تعلق جنوبی صوبے باویریا سے ہے، کرسچین سوشل یونین کے سربراہ بھی ہیں۔ قدامت پسند جماعت کرسچین سوشل یونین یا سی ایس یو، چانسلر میرکل کی مخلوط حکومت ميں اتحادی پارٹی ہے۔
زیہوفر دراصل ابتداء میں یہ ماسٹر پلان ایک ماہ قبل ہی سامنے لانا چاہتے تھے لیکن اس میں تاخیر کا سبب میرکل کے وہ تحفظات بنے جو جرمن وزیر داخلہ کے اس پلان کی ایک شق میں شامل تھے۔ زیہوفر کی تجویز تھی کہ ایسے تارکین وطن کو جرمنی کی سرحد ہی سے لوٹا دیا جائے جو اپنی پناہ کی درخواست پہلے سے کسی یورپی یونین کے رکن ملک میں دائر کر چکے ہیں۔
اگرچہ مہاجرت کے حوالے سے زیہوفر کے اس تریسٹھ نکاتی منصوبے کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں یہ شق بھی شامل ہو گی کہ سرحد پر ایسے ’عبوری مراکز‘ بنائے جائیں جہاں ایسے مہاجرین کو براہ راست منتقل کر دیا جائے جن کی پناہ کی درخواستیں یورپی بلاک کے کسی اور رکن ملک میں دائر ہو چکی ہوں۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ ملک اور جرمنی کے مابین دو طرفہ معاہدہ ہونا چاہیے۔
تصویر: Reuters/H. Hanschke
یہ بھی امکان ہے کہ اس پلان میں جرمنی میں موجود تارکین وطن کی بھی بے ترتیب چیکنگ کی جائے اور اگر ایسے افراد کی شناخت ہو جو پناہ کی درخواست جرمنی داخلے سے پہلے کسی اور ملک میں دائر کر چکے ہیں تو انہیں بھی اُس ملک میں واپس بھیج دیا جائے۔
اُمید ہے کہ جرمن وزیر داخلہ کے ماسٹر پلان کے اس دستاویز میں یورپی یونین کی ’کنٹرول شدہ مراکز‘ کے حوالے سے حالیہ تجویز بھی شامل ہو گی۔ ان مراکز سے مہاجرین کو ایسے ممالک میں بھیجا جائے گا جو رضاکارانہ طور پر انہیں قبول کرنے کی ہامی بھریں گے۔
خیال رہے کہ چانسلر انگیلا میرکل اور وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کے درمیان مہاجرین کے موضوع پر شدید اختلافات رہے ہیں۔ گزشتہ برس سمتبر میں عام انتخابات کے بعد بننے والی وسیع تر مخلوط حکومت میں زیہوفر کو وزارت داخلہ کا قلم دان سونپا گیا تھا، تاہم وہ مہاجرین سے متعلق سخت پالیسیوں کے حق میں ہیں۔
ص ح / ع س / ڈی پی اے
ٹرمپ، اوباما، بُش: میرکل سبھی سے واقف ہیں
اضافی محصولات کا تنازعہ ہو یا پھر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ، ڈونلڈ ٹرمپ جرمنی کے ساتھ لڑائی کے راستے پر ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ڈونلڈ ٹرمپ کے سوا سب امریکی صدور سے دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/ M. Kappeler
کیا ہم ہاتھ ملا لیں؟
مارچ دو ہزار سترہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی ملاقات میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے انتہائی مہذب انداز میں ان سے پوچھا کہ کیا ہم صحافیوں کے سامنے ہاتھ ملا لیں؟ میزبان ٹرمپ نے منہ ہی دوسری طرف پھیر لیا۔ بعد میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں سوال سمجھ ہی نہیں آیا تھا۔
تصویر: Reuters/J. Ernst
نا امید نہ کرو!
سن دو ہزار سترہ میں جی ٹوئنٹی اجلاس کے موقع پر انگیلا میرکل نے بہت کوشش کی کہ ٹرمپ عالمی ماحولیاتی معاہدے سے نکلنے کی اپنی ضد چھوڑ دیں۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور اس اہم موضوع پر ان دونوں رہنماؤں کے اختلافات ختم نہ ہوسکے۔
تصویر: Reuters/P. Wojazer
قربت پیدا ہو چکی تھی
جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور سابق امریکی صدر باراک اوباما ایک دوسرے پر اعتماد کرتے تھے اور ایسا باراک اوباما کے بطور صدر الوداعی دورہ جرمنی کے دوران واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ باراک اوباما کے دور اقتدار کے بعد امریکی میڈیا نے جرمن چانسلر کو مغربی جمہوریت کی علامت اور ایک آزاد دنیا کی علمبردار قرار دیا تھا۔
تصویر: Reuters/F. Bensch
اعلیٰ ترین اعزاز
جون دو ہزار گیارہ میں باراک اوباما کی طرف سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو اعلیٰ ترین امریکی تمغہ آزادی سے نوازا گیا تھا۔ انہیں یہ انعام یورپی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ اس اعزاز کو جرمنی اور امریکا کے مابین اچھے تعلقات کی ایک سند قرار دیا گیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa
مہمان سے دوست تک
جون دو ہزار پندرہ میں جرمنی میں ہونے والے جی سیون اجلاس تک میرکل اور اوباما کے تعلقات دوستانہ رنگ اخیتار کر چکے تھے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اوباما نے جرمن چانسلر کو ہر مدد کی یقین دہانی کروائی تھی۔ لیکن ٹرمپ کے آتے ہی یہ سب کچھ تبدیل ہو گیا۔
تصویر: Reuters/M. Kappeler
ٹیکساس میں تشریف لائیے
نومبر دو ہزار سات میں جرمن چانسلر نے اپنے خاوند یوآخم زاور کے ہمراہ ٹیکساس میں صدر اوباما کے پیشرو جارج ڈبلیو بُش سے ملاقات کی۔ اس وقت بھی ایران کا موضوع زیر بحث رہا تھا، جیسا کی اب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Kugler
بار بی کیو سے لطف اندوز ہوں
جارج ڈبلیو بُش نے جولائی سن دو ہزار چھ میں جرمن چانسلر میرکل کو اپنے انتخابی حلقے میں مدعو کرتے ہوئے خود انہیں بار بی کیو پیش کیا۔ اسی طرح بعد میں جرمن چانسلر نے بھی انہیں اپنے انتخابی حلقے میں بلایا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/BPA/G. Bergmann
بل کلنٹن کے ہاتھوں میں ہاتھ
جولائی دو ہزار سترہ میں سابق جرمن چانسلر ہیلموٹ کوہل کی تدفین کے موقع پر سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک پرسوز تقریر کی۔ انگیلا میرکل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہیلموٹ کوہل سے ’محبت کرتے‘ تھے۔
تصویر: picture alliance/dpa/M. Murat
یورپ کے لیے چیلنج
امریکی میڈیا کی طرف سے فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے دوستانہ رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو کس طرح شیشے میں اتارا جا سکتا ہے۔ تاہم حقیقی طور پر یہ صرف ظاہری دوستی ہے۔ امریکی صدر نے محصولات اور ایران پالیسی کے حوالے سے اپنے اختلافات برقرار رکھے ہیں، جو فرانس اور جرمنی کے لیے باعث فکر ہیں۔