اسرائیلی کابینہ کے اس سابق وزیر نے قبول کیا ہے کہ وہ ایران کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ سزا میں کمی کے ایک معاہدے کے تحت انہیں گیارہ سال قید سنائی گئی ہے۔
اشتہار
اسرائیلی وزارت انصاف نے سابق وزیر گونین سیگیف کو دشمن ملک کے لیے جاسوسی کے الزام کے تحت دی جانے والی سزا کی تصدیق کر دی ہے۔ 1995ء سے 1996ء تک وزیر توانائی رہنے والے سیگیف کو جاسوسی کے شبے میں گزشتہ برس جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت کے مطابق نائجیریا میں قیام کے دوران سابق وزیر کے رابطے ایرانی خفیہ ایجنٹوں سے استوار ہوئے تھے اور پھر انہوں نے ایک جاسوس کے طور پر کام کیا۔
شین بیت نے مزید بتایا کہ اس عرصے میں ایران کو توانائی کے بعض منصوبوں کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ سیگیف نے 2012ء میں نائجیریا میں واقع ایرانی سفارت خانے کے اہلکاروں سے رابطہ کیا تھا اور وہ اپنے رابطہ کاروں سے ملاقاتیں کرنے دو مرتبہ ایران بھی گئے تھے۔ سیگیف کو گزشتہ برس جون میں جاسوسی کے شبے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
اسرائیل اور ایران کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسرائیل کے مطابق تہران حکومت غزہ پٹی میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے شدت پسندوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ ایران نے شام میں بھی کئی ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور ان پر بھی اسرائیل مبینہ طور پر حملے کر چکا ہے۔
دوسری جانب ایران اپنے جوہری منصوبے سے منسلک سائنسدانوں کو قتل کرنے اور اس پروگرام کو تباہ کرنے کی کوششوں کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔ اسرائیل میں سابق وزیر گونین سیگیف کی جانب سے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کو تسلیم کرنے کے بیان پر تہران حکومت کا فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ایران میں یہودیوں کی مختصر تاریخ
ایرانی سرزمین پر بسنے والے یہودیوں کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایران میں انقلاب اسلامی سے قبل وہاں آباد یہودی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔
تصویر: gemeinfrei
ایرانی سرزمین پر بسنے والے یہودیوں کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ کئی مؤرخین کا خیال ہے کہ شاہ بابل نبوکدنضر (بخت نصر) نے 598 قبل مسیح میں یروشلم فتح کیا تھا، جس کے بعد پہلی مرتبہ یہودی مذہب کے پیروکار ہجرت کر کے ایرانی سرزمین پر آباد ہوئے تھے۔
تصویر: gemeinfrei
539 قبل مسیح میں سائرس نے شاہ بابل کو شکست دی جس کے بعد بابل میں قید یہودی آزاد ہوئے، انہیں وطن واپس جانے کی بھی اجازت ملی اور سائرس نے انہیں اپنی بادشاہت یعنی ایرانی سلطنت میں آزادانہ طور پر اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔
تصویر: gemeinfrei
سلطنت ایران کے بادشاہ سائرس اعظم کو یہودیوں کی مقدس کتاب میں بھی اچھے الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔ عہد نامہ قدیم میں سائرس کا تذکرہ موجود ہے۔
تصویر: gemeinfrei
موجودہ زمانے میں ایران میں انقلاب اسلامی سے قبل وہاں آباد یہودی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔
تصویر: gemeinfrei
اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں بسنے والے یہودیوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی گئی اور ہزارہا یہودی اسرائیل اور دوسرے ممالک کی جانب ہجرت کر گئے۔ ایران کے سرکاری ذرائع کے مطابق اس ملک میں آباد یہودیوں کی موجودہ تعداد قریب دس ہزار بنتی ہے۔
تصویر: gemeinfrei
ایران میں یہودی مذہب کے پیروکاروں کی تاریخ کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ یہ تصویر قریب ایک صدی قبل ایران میں بسنے والے ایک یہودی جوڑے کی شادی کے موقع پر لی گئی تھی۔
تصویر: gemeinfrei
قریب ایک سو سال قبل ایران کے ایک یہودی خاندان کے مردوں کی چائے پیتے ہوئے لی گئی ایک تصویر
تصویر: gemeinfrei
تہران کے رہنے والے ایک یہودی خاندان کی یہ تصویر بھی ایک صدی سے زائد عرصہ قبل لی گئی تھی۔
تصویر: gemeinfrei
یہ تصویر تہران میں یہودیوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی ہے۔ ایرانی دارالحکومت میں یہودی عبادت گاہوں کی مجموعی تعداد بیس بنتی ہے۔
تصویر: DW/T. Tropper
دور حاضر کے ایران میں آباد یہودی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں سے زیادہ تر کا تعلق یہودیت کے آرتھوڈوکس فرقے سے ہے۔