1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سال کا آخری سورج گرہن

آسیہ مغل
26 دسمبر 2019

بھارت اور پاکستان سے لے کر سنگاپور، عمان اور سعودی عرب تک دنیا کے مختلف علاقوں میں آج سورج گرہن دیکھا گیا۔ یہ رواں سال کا تیسرا اورآخری سورج گرہن تھا۔

Totaler Sonnenfinsternis in Südamerika
تصویر: picture-alliance/AA/S. Brogca

بھارت اور پاکستان کے بیشتر علاقوں میں بادل اور دھند کے باعث یہ سورج گرہن پوری طرح نہیں دیکھا جاسکا جس کی وجہ سے لوگوں کو مایوسی ہوئی۔

جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں لوگ سورج گرہن دیکھنے کے لیے سمندر کے کنارے جمع ہوئے۔ مشرقی ریاست اوڑیسا  میں تمام سرکاری دفاتر، عدالتوں اور اسکول و کالجوں میں آج چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی قومی دارالحکومت نئی دہلی میں سورج گرہن کا مشاہدہ کیا۔ مودی نے ٹویٹ کر کے اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا، ”میں بھی دوسرے بھارتیوں کی طرح سورج گرہن دیکھنے کے لیے پرجوش تھا۔ لیکن میں سورج گرہن نہیں دیکھ پایا کیونکہ یہاں مکمل طور پر بادل چھائے ہوئے ہیں، لیکن میں نے لائیو اسٹریم کے ذریعے (جنوبی بھارت کے) کوزی کوڈ میں دکھائی دیے سورج گرہن کو دیکھا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ماہرین کے ساتھ اس کے بارے میں بات چیت کی۔‘‘

مودی نے سورج گرہن کی کچھ تصاویر بھی شیئر کیں۔ تصاویر میں وہ کچھ ماہرین سے بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تصویر میں انہوں نے گرہن دیکھنے کے لیے خصوصی سیاہ چشمہ بھی لگا رکھا ہے۔

وزیر اعظم مودی کی ایک تصویر پر ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ اس پر میم بن سکتے ہیں۔ مودی نے اس ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا، ”ضرور،آپ مزے لیجئے۔"

وزیر اعظم مودی کے چشمہ پرکئی ٹوئٹر صارفین نے کافی دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔ایک صارف نے لکھا کہ مودی کبھی کوئی معمولی چشمہ نہیں پہنتے۔ یہ لگژری چشمہ جرمن کمپنی مے باخ کا ہے۔ اس کی قیمت ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ہے۔ شاید اسی باعث #BrandedFakeer کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ 

پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی سورج گرہن دیکھا گیا تاہم متعدد شہروں میں بادل اور دھند کی وجہ سے سورج کا یہ خوبصورت نظارے محروم رہنے کے سبب لوگوں کو مایوسی بھی ہوئی۔

انڈونیشیا میں سینکڑوں افراد نے جکارتا پلانیٹیریم کے باہر خصوصی چشمہ کی مدد سے سورج گرہن کا نظارہ کیا۔

خیال رہے کہ سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں چکر لگاتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے۔ آج کے سورج گرہن کو'رنگ آف فائر‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس طرح کاسورج گرہن اب جون 2020ء میں افریقہ سے لے کر شمالی ایشیا تک محدود علاقے میں دیکھا جائے گا۔ 

سورج گرہن کے حوالے سے بعض مذہبی عقائد بھی موجود ہیں۔ مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے طور پر اس موقع پرعبادت کرتے ہیں۔ مسلمان مساجد میں نماز کسوف ادا کرتے ہیں، قربانی اور صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں۔ ہندوندیوں میں ڈبکی لگاتے ہیں۔ الہ آباد میں واقع دریائے گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم میں آج ہزاروں لوگوں نے سخت سردی کے باوجود ڈبکیاں لگائیں۔

سورج گرہن سے بعض توہمات بھی وابستہ ہیں۔ کچھ لوگ زندگی اور موت کاتعلق سورج گرہن سے وابستہ کرتے ہیں۔ تاہم سائنس داں ان سب کی تردید کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک فلکیاتی عمل ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں