1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سخاروف انعام کانگو کے ڈاکٹر میک گیوی کے نام

عاطف بلوچ22 اکتوبر 2014

یورپی پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کا سخاروف انعام ڈیموکریٹک ری پبلک کانگو کے ڈاکٹر ڈینس میک گیوی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں یہ انعام کانگو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی ہزاروں خواتین کی مدد کرنے پر دیا گیا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شلُس نے منگل کے دن اعلان کیا کہ ڈاکٹر ڈینس میک گیوی کی طرف سے خواتین کے لیے کی جانے والی جنگ کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں یورپی یونین کی پارلیمان نے سال رواں کے لیے انسانی حقوق کا سخاروف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میک گیوی قبل ازیں متعدد مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیے جا چکے ہیں۔

مارٹن شلُس نے کہا کہ ڈاکٹر میک گیوی نے تنازعات کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ہزاروں خواتین کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں اور یورپی پارلیمان اس امر کا اعتراف کرتی ہے۔ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر میک گیوی نومبر میں منعقد کی جانے والی ایک خصوصی تقریب میں یہ انعام وصول کریں گے۔

آذربائیجان کی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن لیلا یونستصویر: picture-alliance/dpa/Ulf Mauder

ڈاکٹر میک گیوی نے 1999ء میں مشرقی کانگو میں پانزی نامی ایک ہسپتال قائم کیا تھا، جہاں ایسی خواتین کو طبی امدادی کے علاوہ نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے، جو جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ دو برس قبل میک گیوی پر ایک ناکام قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملے کی وجہ میک گیوی کی طرف سے خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے پر تنقید کرنا تھا۔

قدرتی وسائل سے مالا مال اس افریقی ملک میں متحارب گروہ نبرد آزما ہیں اور اس لڑائی میں بالخصوص خواتین کی آبروریزی کے بہت زیادہ واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ وہاں خواتین کی اجتماعی زیادتی کے علاوہ ان کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بھی متعدد واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر میک گیوی کے بقول ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ہسپتال میں ایک ایسی خاتون کا بھی علاج کیا، جسے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی اندام نہانی میں بندوق ڈال کر گولی چلا دی گئی تھی۔

یورپی پارلیمان کی طرف سے امسالہ سخاروف انعام کے لیے جن دیگر افراد یا گروپوں کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں مغرب نواز یوکرائنی ڈٰیموکریسی گروپ EuroMaidan کے علاوہ آذربائیجان کی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن لیلا یونس بھی شامل تھیں۔ یورو میڈان نے سابق یوکرائنی صدر وکٹور یانوکووچ کو اقتدار سے الگ کرنے والے عوامی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ اٹھاون سالہ لیلا یونس انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے مقبول شخصیت تصور کی جاتی ہے۔ فی الوقت یہ خاتون کارکن اپنے ہی ملک میں غداری کے الزامات کے تحت حراست میں ہیں۔

یورپی پارلیمان نے سخاروف انعام سابق سوویت یونین کے منحرف سائنسدان اور نوبل امن انعام یافتہ آندرے سخاروف کی یاد میں جاری کیا تھا۔ فکری آزادی کی جدوجہد کے لیے دیا جانے والا یہ پرائز عرف عام میں یورپی یونین کا ہیومن رائٹس ایوارڈ بھی کہلاتا ہے۔ 2013ء میں سخاروف انعام پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو دیا گیا تھا جبکہ رواں برس وہ نوبل امن انعام حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہیں۔

ماضی میں سخاروف انعام جنوبی افریقہ کے سابق رہنما نیلسن مںڈیلا اور اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے علاوہ میانمار میں جمہوریت کی علامت تصور کی جانے والی خاتون سیاستدان آنگ سان سوچی کو بھی دیا جا چکا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں