1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات روشن

26 جون 2013

یورپی یونین کے وزراء نے منگل 25 جون کو اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق باضابطہ مذاکرات کا آغار اگلے برس جنوری سے کر دیا جائے گا۔

SASA DJORDJEVIC/AFP/Getty Images
تصویر: AFP/Getty Images

یورپی یونین کے وزراء نے سربیا کو مذاکرات کی دعوت دے کر اس یورپی ملک کی ستائیس رکنی یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بہتر بنا دیے ہیں۔ لگسمبرگ میں ہونے والے اس اجلاس میں یہ فیصلہ سربیا کی جانب سے کوسوووکے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے کوشش کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کے وزراء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ یورپی یونین کوسووو کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ کرے گی جو کہ اس ملک کی مستقبل میں بلاک کا رکن بننے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور کوسووو کو اس سے معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

ترکی کا یورپی یونین کا رکن بننے کا باب ابھی کھلا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

ان دونوں اہم فیصلوں کی توثیق اس ہفتے کے اختتام پر یورپی یونین کے رہنماؤں کے برسلز میں ہونے والے ایک اجلاس میں کی جائے گی۔ ان فیصلوں کی توثیق یورپی ممالک انفرادی طور پر بھی کریں گے۔

شرائط

سربیا اور کوسووو کے بارے میں فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرانس کے یورپی امور سے متعلق وزیر نے کہا، ’’دونوں ممالک ان مراعات کے حق دار تھے۔ ان کے رہنماؤں نے بڑی سیاسی ہمت دکھائی ہے۔‘‘

یورپی مذاکرات کاروں کی کوششوں سے اپریل میں سربیا اور کوسووو کے درمیان ایک تاریخی معاہدے طے پایا تھا جس میں سربیا نے اپنے سابقہ صوبے پر آخری درجے کا کنٹرول بھی واپس لے لیا تھا۔

یورپی یونین نے سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایک شرط سابق بوسنیائی سرب فوجی کمانڈر راتکو ملاڈچ کی گرفتاری بھی لگائی تھی۔ دوسری شرط یہ تھی کہ سربیا کوسووو کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے۔

کوسووو انیس سو اٹھانوے اور ننانوے کے دوران ہونے والی جنگ کے بعد سربیا سے علیحدہ ہو گیا تھا۔

ترکی سے متعلق مذاکرات ملتوی

دوسری جانب ترکی کو یورپی یونین میں شامل کیے جانے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت تقریباﹰ چار ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ترکی میں مظاہرین پر ترک حکومتی فورسز کے کریک ڈاؤن کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ تاہم یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی کا یورپی یونین کا رکن بننے کا باب ابھی کھلا ہے۔

گزشتہ تین برس سے تعطل کے شکار مذاکرات آج بدھ کے روز دوبارہ شروع کیے جانے تھے۔ جرمنی سمیت بعض یورپی ملکوں نے یہ کہہ کر ان مذاکرات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا کہ اس سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے ترک حکومت کو غلط پیغام جائے گا۔ یورپی اقوام رواں برس اکتوبر میں ترکی میں انسانی حقوق کے بارے میں جاری ہونے والی رپورٹ کے بعد اس معاملے پر بحث کریں گی۔

shs / aba (Reuters)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں