1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سرحد عبور کرنے والے روسی ٹینک تباہ کرنے کا یوکرائنی حکومت کا اعلان

عابد حسین16 اگست 2014

یوکرائن کی حکومت نے جمعے کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ سرحد عبور کرنے والے روسی ٹینکوں کے دستے کے بعض حصوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔۔ ٹینکوں کی تعداد بیس کے قریب رپورٹ کی گئی ہے۔

Ukraine Russland Grenze Kamensk-Schachtinski 15. August
تصویر: Reuters

یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بتایا کہ اُن کی حکومت کے توپخانے نے روسی ٹینکوں کے دستے کے خاصے بڑے حصے کو تباہ کر دیا۔ پوروشینکو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ روسی ٹینک یوکرائنی سرحد عبور کر کے اُن کی ملکی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ ٹینک جمعرات کی رات میں سرحد عبور کر کے داخل ہوئے تھے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے ان رپورٹوں کو درست قرار دیا جن کے مطابق جمعرات کی شب بیس کے قریب روسی ٹینکوں نے یوکرائنی شہر ڈونیٹسک کے قریب سے سرحد عبور کی تھی۔ یورپی یونین نے بھی روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پر اشتعال انگیز اقدامات کو فوری طور پر بند کرے اور اِس میں اسلحے کی ترسیل کو روکنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اُدھر روسی وزارت دفاع نے ٹینکوں کے سرحد عبور کرنے اور اُن کی تباہی کی تردید کرتے ہوئے اِسے افسانہ قرار دیا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اُن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرائن کی ریاستی خومختاری کا احترام کریں۔ اسی طرح فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے بھی ماسکو حکومت سے کہا ہے کہ وہ یوکرائن کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہ کرے اور کشیدگی و تناؤ کی پیدا شدہ صورت کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ عملی مداخلت سے مشرقی یوکرائن کے کشیدہ حالات کو مزید خراب کر رہا ہے۔ اسی حصے میں گزشتہ چار ماہ سے روس نواز باغیوں نے بعض حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب حکومتی فوج اِن کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ روس اور یوکرائن گزشتہ کئی دنوں سے روس کے امدادی قافلے کے داخلے پر تلخی پیدا کیے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ٹینکوں کو تباہ کرنے سے روس یوکرائن کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

اُدھر روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئگُو نے امریکی وزیر دفاع چَک ہیگل کو یقین دلایا ہے کہ مشرقی یوکرائن کے لیے روانہ کیے گئے امدادی قافلے میں کوئی روسی فوجی شامل نہیں ہے۔ شوئگُو نے مزید کہا کہ امدادی قافلے کی آڑ میں روس کا یوکرائن میں فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تازہ صورت حال نے روس اور یوکرائن کی سرحدی معاملات کو گھمبیر کر دیا ہے اور تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ مختلف واقعات کسی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں