1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سستی بجلی کے لیے 'پلگ ان سولر ڈیوائسز' کے استعمال میں اضافہ

عرفان آفتاب گیرو روئٹر
28 دسمبر 2025

بجلی کے اخراجات کم کرنے کے لیے گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کے ذریعے قابل تجدید توانائی حاصل کرنا نئی بات نہیں۔ مگر اب جرمنی میں سولر پینلز بالکونیوں میں بھی باآسانی انسٹال کروائے جا رہے ہیں۔

جرمنی سولر سسٹم
بجلی کی سستی پیداوار کے لیے 'پلگ ان سولر ڈیوائسز' کی بڑھتی مقبولیتتصویر: Sabine Gudath/IMAGO

بجلی کے اخراجات کم کرنے کے لیے گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کے ذریعے قابل تجدید توانائی حاصل کرنا نئی بات نہیں۔ مگر اب جرمنی میں سولر پینلز  بالکونیوں میں بھی باآسانی انسٹال کروائے جا رہے ہیں۔ ان کے فوائد کے بارے میں جانتے ہیں۔

بات جب کلائمیٹ چینج کا مقابلہ کرنے کی ہو تو توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی طرف منتقلی اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ جرمنی میں اس حوالے سے کافی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر نجی گھروں کے استعمال کی شکل میں۔

چھوٹی سولر ڈیوائسز جو آسانی سے گھر کے ساکٹس میں لگائے جا سکتی ہیں، ملک میں پہلے سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ایسے دس لاکھ سے زیادہ پینل انسٹال کیے جا چکے ہیں۔

یہ ماڈیولز عام طور پر تقریباً 2 مربع میٹر (21.5 مربع فٹ) کے سائز کے ہوتے ہیں اور ایک منی سسٹم میں چار ماڈیولز تک نصب ہوتے ہیں۔ یہ جہاں بالکونیوں میں آسانی سے انسٹال ہو جاتے ہیں، وہیں دوسرے گھریلو آلات کے مقابلے میں محفوظ طریقے سے کام کرتے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ یہ بجلی خرچ کرنے کے بجائے پیدا کرتے ہیں۔

جرمنی میں گھروں کی باکونیز میں سولر پینلز کی تنصیب کی مقبولیتتصویر: Hendrik Schmidt/dpa/picture alliance

ایسے سولر ماڈیولز سے بجلی دراصل ایک انورٹر سے گزرتے ہوئے ساکٹ کے ذریعے پاور گرڈ میں واپس آتی ہے۔ ان سسٹمز میں بیٹری اسٹوریج بھی موجود ہوتی ہے، یعنی اضافی بجلی بعد میں استعمال کے لیے بچائی جا سکتی ہے۔

سولر پینل چھت کے بجائے بالکونی پر

رواں برس بجلی کی عالمی پیداوار میں پہلی بار قابل تجدید ذرائع نے کوئلے کو پیچھلے چھوڑ دیا ہے، اس کی بڑی وجہ شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کے تیزی سے گرتے دام خیال کیے جاتے ہیں۔

ان گرتی قیمتوں کا اثر جرمنی میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ بالکونیوں کے لیے سولر پینل سسٹمز کی قیمت گزشتہ دو سالوں میں آدھی ہو گئی، جس میں چھوٹے بڑے ماڈیولز کی قیمتیں تقریباً دو سو یورو سے ایک ہزار یورو کے درمیان ہے۔ یہ سولر پینلز جرمنی میں گرڈ سے ملنے والی بجلی کی نصف سے بھی کم قیمت پر توانائی پیدا کرتے ہیں۔

برلن یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز (HTW) کے مطابق سولر پینلز پر لگائی گئی رقم عام طور پر چار سے سات سال کے اندر واپس وصول ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد گھر کے لیے جو بجلی پیدا ہوتی ہے، وہ مفت ثابت ہوتی ہے۔

HTW میں قابل تجدید توانائی کے نظام کے پروفیسر فولکر کواشننگ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی کے ماڈیول 30 سال سے زیادہ عرصے تک کام کر سکتے ہیں، جبکہ بیٹریوں کے لیے دس سے پندرہ سال کی سروس لائف توقع کی جا سکتی ہیں۔  وسطی یورپ میں چار ماڈیولز اور اسٹوریج کے ساتھ دو افراد والے گھرانے کی تقریباً نصف بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

'سولر بالکونی' میں جرمنی سرفہرست

جرمنی میں پلگ ان سولر ڈیوائسز فروخت کرنے والی ایک کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ بریور کہتے ہیں کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پلگ ان سولر ڈیوائسز اب بھی جرمنی میں تیزی سے فروخت ہوتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ زیادہ دھوپ والے دیگر علاقوں میں کہیں زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن جرمنی میں گرتی ہوئی قیمتوں، بہتر ٹیکنالوجی اور سیاسی حمایت نے 'سولر بالکونی' کی مقبولیت میں مدد کی ہے۔

سن 2023 سے ملک میں نجی شمسی تنصیبات کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے مستثنیٰ کر دیا گیا اورسن 2024 کے آخر سے کرایہ داروں اور اپارٹمنٹ کے مالکان کو اپنی بالکونیوں میں خود سولر ماڈیول نصب کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

یورپی یونین کے زیادہ تر ممالک میں دو ہزار واٹ تک کے ماڈیول آؤٹ پٹ دینے والے پینلز کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ سولر ماڈیولز کو ریزیڈینشل گرڈ میں براہ راست 800 واٹ تک بجلی فراہم کرنے کی بھی اجازت ہے۔ یہ حد گھر کے پاور سسٹم کو اوورلوڈ ہونے سے بچاتی ہے اور اس کے استعمال کو محفوظ بناتی ہے۔

پلگ ان سولر ڈیوائسز میں دلچسپی اب دیگر ممالک میں بھی پھیل رہی ہے، نہ صرف یورپی یونین کے ممالک بلکہ برازیل، امریکہ اور جاپان میں بھی۔

جرمن سولر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے پلگ ان سولر ڈیوائسز کے ماہر تھومس سیلٹمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ہمارے پاس ابھی ٹوکیو سے ایک وفد آیا تھا۔ وہ پلگ ان سولر ڈیوائسز متعارف کرانا چاہتے ہیں اور تکنیکی حفاظت کے بارے میں معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔"

توانائی کے اخراجات میں کمی کا ہدف

جرمنی سن 2045 تک ایک 'کلائمیٹ نیوٹرل' ملک بننے کا ہدف رکھتا ہے۔ جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ میں انرجی، ٹرانسپورٹیشن، انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ کلاؤڈیا کیمفرٹ نے ڈٰبلیو کو بتایا کہ اگلے بیس سالوں میں پلگ ان سولر ڈیوائسز بجلی کی طلب کا دو فیصد تک حصہ پورا کر سکتے ہیں۔ اب تک، ملک میں زیادہ تر شمسی توانائی چھتوں پر نصب سولر ماڈیولز سے موصول ہوتی ہے، اس کے بعد بڑے سولر پارکس ہیں۔

بہت سے صارفین کے لیے بالکونی کے لیے ایک پلگ ان سسٹم صرف ایک شروعات ہے۔ جرمنی کی ایک تحقیقی تنظیم فراؤن ہوفر انسٹی ٹیوٹ فار سولر انرجی سسٹمز ISE میں توانائی کے نظام کے تجزیہ کے سربراہ کرسٹوف کوسٹ کہتے ہیں، "پلگ ان سولر سسٹمز دوسرے اقدامات جیسے بڑے فوٹو وولٹک سسٹمز، الیکٹرک کار یا ہیٹ پمپ کی خریداری کے لیے گیٹ وے ہیں۔"

کیمفرٹ کے بقول، "پلگ ان سولر ڈیوائسز لوگوں کو خود توانائی کی منتقلی کا حصہ بننے، ان کی بجلی کی لاگت کو کم کرنے اور خود کو توانائی کی قیمت کے اتار چڑھاؤ پر کم انحصار کرنے کے قابل بناتے ہیں۔"

خریداری سے پہلے ماہرین سے رجوع کریں!

جرمن سولر انرجی ایسوسی ایشن کے ٹوبیاس اوٹو کا کہنا ہے کہ پلگ ان سولر ڈیوائسز خریدنے سے پہلے اس کے بارے میں اچھی طرح سے معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ بالکونی یا چھت پر کتنے ماڈیولز فٹ ہوں گے اور انہیں کس سمت نصب کیا جا سکتا ہے تاکہ سورج کی روشنی اس مقام تک زیادہ سے زیادہ وقت تک پہنچ سکے۔

بالکونی سولر پینلز: قابل تجدید توانائی سب کے لیے!

04:05

This browser does not support the video element.

تین سے چار ماڈیول رکھنے والوں کے لیے اسمارٹ کنٹرول کے ساتھ بیٹری اسٹوریج یونٹ لینا اکثر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بجلی کی طلب کو میٹر یا ساکٹ پر جانچا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے کہ کیا بیٹری مطلوبہ مقدار کی سپلائی کر رہی ہے۔ اوٹو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "اس طرح کے مانیٹرنگ والے آلات کے بغیر، اسٹوریج سسٹم کو عام طور پر مؤثر طریقے سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔"

اس کے علاوہ بیٹری سے چلنے والے کچھ پلگ ان ڈیوائسز میں ایمرجنسی سپلائی بھی ہوتی ہے جو بجلی کی خرابی کی صورت میں مدد کرتی ہے۔ ان سولر سسٹمز کو گھر کے باہر کھلی جگہ میں بھی سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یاد رہے جب وہ بہت ٹھنڈے یا گرم درجہ حرارت میں رکھے جاتے ہیں تو یہ خود بھی بجلی استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں بہت ساری غیر معیاری پراڈکٹس بھی دستیاب ہوتی ہیں لہٰذا اپنے قابل بھروسہ سپلائرز پر ٹکے رہیں۔

یہ آرٹیکل پہلی بار جرمن زبان میں شائع کیا گیا تھا۔

مصنف: گیرو روئٹر (جرمن) / عرفان آفتاب (اردو)

ادارت: شکور رحیم

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں