1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی معاشرے میں ریپ میوزک کی گونج

7 نومبر 2012

سعودی عرب میں ہپ ہوپ کلچر کو متعارف کروانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تاہم انتہائی قدامت پسند سعودی معاشرے میںRAP میوزک متعارف کروانے والے قصی خضر نے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔

تصویر: Getty Images

قصی خضر، جن کا اسٹیج کے حوالے سے معروف نام Quasi ہے، نے جنس اور تشدد سے پاک ریپ میوزک کا ایک چھوٹا سا انڈر گراؤنڈ گروپ بنایا۔ 1994 ء میں قصی نے سعودی عرب میں پہلی بار ریپ میوزک کی ریکارڈنگ کروائی، جس کے بعد انہیں ’کالی بھیڑ ‘ قرار دیتے ہوئے برادری سے خارج کر دیا گیا۔

ریاض میں پیدا ہونے والے 35 سالہ قصی خضر نے حال ہی میں پیرس میں عرب باشندوں کے ایک بہت بڑے اجتماع، جس میں زیادہ تر اُن کی نوجوان خواتین مداح شامل تھیں، سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کا خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’سعودی عرب ایک بہت قدامت پسند ملک ہے، ہم اُسی معاشرے سے آئے ہیں اور اُس کا احترام ہمارا فرض ہے۔ تاہم ہمارے ملک میں رائے اور تقریر کی آزادی نہیں ہے، اس لیے کچھ لوگ خوف سے اور کچھ احترام کے طور پر ان حدود کا خیال رکھتے ہیں‘۔

عرب ریپ موسیقار اسرائیل میںتصویر: AP

قصی خضر 1996 ء میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا چلے گئے تھے۔ وہاں جاکر انہوں نے ایک DJ اور ریڈیو پروڈیوسر کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے Vermont اور پھر اُورلانڈو فلوریڈا کے کالج سے تعلیم حاصل کی۔ سینٹرل یونیورسٹی آف فلوریڈا سے ’مینیجمنٹ انفارمیشن سسٹم‘ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 2004 ء میں ایم بی اے کی ڈگری ویبسٹر یونیورسٹی سے حاصل کی۔ جس وقت وہ فلوریڈا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے، تو اُسی وقت انہوں نے R&B ہپ ہوپ پروڈکشن کمپنی میں شراکت داری اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے دیگر معروف ریپ موسیقاروں کے ساتھ متعدد البمز تیار کرنے کے بعد اپنا سولو اور پہلا البم ’ دی لائف آف آ لوسٹ سول‘ مارکیٹ میں لاکر امریکا کے ساتھ ساتھ اپنے ملک سعودی عرب میں بھی خاصی دھوم مچا دی۔ خاص طور سے اُن کا گیت’جدہ مائی ہوم ٹاؤن سٹی‘ بہت زیادہ مقبول ہوا۔ اورلانڈو میں متعدد بار پرفارم کرنے کے بعد قصی نے نیو یارک، اٹلانٹا اور شکاگو کے علاوہ کئی دیگر بڑے امریکی شہروں میں منعقد ہونے والے شوز میں حصہ لیا۔

عراق میں بھی ریپ میوزک گروپ پایا جاتا ہےتصویر: DW

امریکا میں دس سال گزارنے کے بعد قصی، جب اپنے وطن لوٹے تو انہیں سعودی عرب ایک نیا ملک لگا، جہاں بہت کچھ بدل چکا تھا۔ اب قصی خضر کا جدہ میں ایک ذاتی اسٹوڈیو ہے۔ سعودی عرب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے موسیقی گناہ ہے، ایسے میں قصی کا پبلک میں پرفار منس دینا ایک معجزے سے کم نہیں۔ انہیں اپنے گیتوں کے بول کے معاملے میں خاصا محتاط رہنا پڑتا ہے کیونکہ عربی زبان کے تمام نہیں تو اکثریتی گیتوں کے بوُل عشق و محبت سے عبارت ہوتے ہیں۔ ’حبیبی یا حبیبی‘ جیسے الفاظ تو قریب ہر عربی گیت کا حصہ ہوتے ہیں۔

قصی خضر کہتے ہیں کہ جدہ ہو یا شکاگو اس کے کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہپ ہوپ نغموں کا مرکزی موضوع ہمیشہ ہی روزمرہ زندگی سے متعلق ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’عربی زبان کے تمام ریپ نغموں میں ہمارا بنیادی موضوع اسلام ہوتا ہے، جس کا مطلب امن ہے۔ ہم اُس لمحے تک امن کے گیت گاتے رہیں گے، جب تک حقیقی معنوں میں امن کی خوشبو محسوس ہونے لگے‘۔

km/ia(AFP)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں