1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سمندری پانی سے ایندھن کی تیاری کا انوکھا تجربہ

کشور مصطفیٰ8 اپریل 2014

امریکی بحریہ نے تحقیقاتی عمل سے سمندری پانی کو بطور ایندھن استعمال کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اس عمل میں ایک سیال ہائڈرو کاربن ایندھن کو تیار کر لیا گیا ہے، اس سے سمندری اہداف پر حملہ کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔

Exxon Valdez Umweltkatastrophe
تصویر: picture-alliance/US coast guard

امریکی فلیٹ یا بیڑے میں اس وقت 15 فوجی آئل ٹینکرز اور صرف طیارہ بردار جنگی بحری جہاز اور چند جوہری توانائی سے چلنے والے آبدوزیں شامل ہیں۔ اب تک امریکا کے تمام بحری جہازوں کو کافی کم وقفے کے بعد اپنے مشن کے دوران ایندھن بھرنے کے لیے آئل ٹینکرز کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ یہ عمل کافی حساس خیال کیا جاتا ہے اور خاص طور پر خراب موسم میں۔

اس طریقہ کار کی ایجاد کا امریکی سائنسدانوں کا حتمی مقصد دراصل تیل پر بحری جہازوں کے انحصار کو ختم کرنا ہے۔ امریکی وائس ایڈمیرل فلپ کلوم نے سمندری پانی کو بطور ایندھن استعمال کرنے کے طریقہٴ کار کو ایجاد کرنے کے عمل کو امریکا کے لیے ایک اہم ’سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا، " ہم بڑے چیلنجز کے دور سے گزر رہے ہیں، ہمیں توانائی کے حصول کے لیے بہت ہی اختراعی سوچ سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم توانائی کی کتنی قدر کرتے ہیں اور ہم توانائی کا کیسا استعمال کرتے ہیں" ۔ امریکی وائس ایڈمیرل فلپ کلوم نے مزید کہا، " ہمیں گزشتہ چھ دہائیوں سے تیل کی مسلسل سستی اور لامحدود رسائی کے بارے میں پائے جانے والے مفروضات کے نتائج کو چیلنج کرنا ہوگا۔ ہم نے بنیادی طور پر توانائی کو ہوا کی طرح جانا اور یہ ہی سمجھتے رہے کہ توانائی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ موجود رہے گی لیکن حقیقت میں ہمیں اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔"

امریکی ماہرین نے اب سمندری پانی سے ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی اُکسائیڈ گیس نکالنے کا طریقہ کار ایجاد کر لیاتصویر: Reuters

امریکی ماہرین نے اب سمندری پانی سے ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی اُکسائیڈ گیس نکالنے کا طریقہ کار ایجاد کر لیا ہے۔ اسے ایک کیٹیلیٹک کنورٹر کی مدد سے ایندھن کی شکل میں منتقل کیا گیا، اس عمل میں گیس کو مائع میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار بروئے کار لایا گیا۔ سائنسدان امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ ایندھن پانی کے جہازوں کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کو بھی توانائی فراہم کر سکے گا۔ امکاناً اب مستقبل میں پانی میں چلنے والے بحری جہازوں کا ماضی کی طرح اب توانائی کے حصول کے لیے آئل ٹینکرز پر انحصار ختم ہو جائے گا اور یہ بحری جہاز سمندر ہی سے ایندھن حاصل کر لیا کریں گے۔

امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری کے ماہرین کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کردہ فضائی طیاروں کے ایندھن کی قیمت اندازاً تین سے چھ ڈالر فی گیلن ہوگی۔ یاد رہے کہ یہ سائنسدان سمندری پانی سے تیار شدھ ایندھن کے استعمال کا ایک تجربہ ایک ماڈل ہوائی جہاز پر کر چُکے ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں