محققین کا کہنا ہے کہ بالٹک خطے سے ایک دیوار کی باقیات ملی ہیں، جو ممکنہ طور پر دس ہزار برس سے زائد عرصے پرانی ہیں۔
تصویر: Michał Grabowski/Leibniz-Institut für Ostseeforschung Warnemünde/dpa/picture alliance
اشتہار
محققین نے بحیرہ بالٹک میں جرمن ساحل کے قریب تقریباﹰ ایک کلومیٹر طویل پتھر سے تعمیر کردہ ایک دیوار دریافت کی ہے۔ محققین کے مطابق ممکنہ طور پر یہ دیوار دس ہزار برس سے زائد عرصے پرانی ہے۔
اس دیوار سے متعلق محققین کو پتا دو ہزار اکیس میں چلا تھا اور کہا جا رہا ہے کہبالٹک خطے میں انسانوں کے ہاتھوں بنا اب تک دریافت ہونے والا یہ سب سے قدیمی اسٹرکچر ہے۔
اس دریافت کا اعلان پیر کی شام لائبنٹس انسٹیٹیوٹ برائے بحیرہ بالٹک (IOW) اور شمالی جرمن علاقے کیل کی کرسٹیان البریشٹز یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کیا۔
سمندر کے اندر دیوار کیوں؟
یہ دیوار جرمن ساحل سے دس کلومیٹر دور بحیرہ بالٹک میں اکیس میٹر کی گہرائی میں ہے۔ محققین کے مطابق یہ دیوار ٹینس سے فٹ بال سائز کے سترہ سو پتھروں سے مل کر بنی ہے اور ایک میٹر اونچی ہے۔
ممکنہ طور پر یہ دیوار شکار کے لیے استعمال کی جاتی تھیتصویر: P. Hoy, Universität Rostock; Modell erstellt mit Agisoft Metashape: J. Auer, LAKD M-V
یہ علاقہ ساڑھے آٹھ ہزار برس قبل زیرآب آیا تھا، مگر اس سے پہلے یہ خشک تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ دیوار شکاریوں نے ہرنوں کو پکڑنے کے لیے بنائی ہو گی۔
انسانی ارتقا: آغاز کے نئے مضبوط ثبوت
اسرائیل میں قدیمی انسان کے فوسلز کی دریافت نے انسانی ارتقا کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس پکچر گیلری میں موجودہ انسان کے آبا و اجداد کے حوالے سے معلوماتی تصاویر موجود ہیں۔
تصویر: Avi Levin/AP/picture alliance
خاندان کی نئی شاخ
اسرائیل میں ایک گڑھے میں سے ایک نامعلوم قدیمی دور کے ایک انسان کا فوسل ملا ہے۔ یہ ایک لاکھ سال قبل کا ہے۔ ان حجریوں میں ایک کھوپڑی اور جبڑا ہے۔ یہ کسی ایسے شخص کا ہے جو قریب ایک لاکھ بیس ہزار سے ایک لاکھ چالیس سال قبل موجود تھا۔
تصویر: Ammar Awad/REUTERS
آدمی جیسا
انسان کی اس باقیات کا نام ’نیشر رملا ہومو ٹائپ‘ تجویز کیا گیا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ نیشر رملا مقام سے ملنے والی باقیات قدیمی انسان کے آخری بچ جانے والے افراد کی ہیں۔ یہ یورپی نیئنڈرتھال کے قریب ترین ہیں۔ ریسرچرز کا خیال کے یہ قدیمی انسان بھارت اور چین تک کے سفر پر بھی گئے کیونکہ وہاں بھی ایسے فوسلز ملے تھے۔
تصویر: Yossi Zaidner/AP Pictures/picture alliance
نیئنڈر تھال کا پرانا امیج
پوپ کلچر میں غیر ضروری انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ پرانے دور کے حجری انسان ڈنڈے کے لیے کمر پر ڈنڈے لادے پھرتے تھے۔ یہ ایک پرانی تحقیق سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ جو سن 1908 میں دریافت ہونے والے انسانی ڈھانچے کے حوالے سے ہے۔ اس استخوان کی کمر اور گھٹنے وزن اٹھانے سے خم زدہ تھے۔ اس دریافت کی وجہ سے اکسفرڈ ڈکشنری میں ایسے انسانوں کے لیے ’پریمیٹیو‘ وغیرہ جیسے الفاظ شامل کیے گئے۔
تصویر: Federico Gambarini/dpa/picture alliance
سوچ سے زیادہ قریب
یہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ نیئنڈر تھال عہد کے انسان آلات بنانے کے تیز ترین طریقوں سے آشنا تھے۔ وہ جلد آگ جلانے کے ساتھ بڑے جانوروں کے شکار میں مہارت رکھتے تھے۔ نیئنڈر تھال دور کے انسان آج کے دور کی طرح بڑے جانوروں کی نسلوں کے ملاپ کا فن بھی جانتے تھے۔
تصویر: Imago/F. Jason
بیٹلز کا گیت
مشہور پوپ میوزیکل بینڈ بیٹلز کے گیت ’لوسی اِن دا سکائی وِد ڈائمنڈز‘ میں ایک نسائی ڈھانچے کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس گیت کے بعد اس استخوان یا ڈھانچے کو ’آسٹرالو پیتھیکس افارینسیس‘ کا نام دیا گیا۔ اس استخوان کو بیسویں صدی میں بہت شہرت ملی تھی کیونکہ ریسرچرز نے اسے اولین انسانی نسل سے جوڑا تھا۔ یہ ڈھانچہ سن 1978 میں ایتھوپیا میں حجری دور کے ماہر ڈونلد سی جانسن نے اپنی تحقیق کے دوران دریافت کیا تھا۔
تصویر: Jenny Vaughan/AFP/Getty Images
فلو عرف ہابٹ
ہابٹ کے استخوان کو عام طور پر ’فلو‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی جسامت چھوٹی تھی۔ ایسے انسان کا ایک استخوان انڈونیشی جزیرے فلوریس میں سن 2004 میں جنوبی افریقہ میں دریافت کیا گیا۔ یہ استخوان بھی ایک عورت کا تھا۔ اس کا تعلق ماہرین نے ’ہومو فلوریسیئنسیس‘ سے کیا تھا۔ یہ قریب بارہ ہزار سال پرانا انسانی ڈھانچہ ہے۔ اس استخوان کی لمبائی صرف تین فٹ سات انچ تھی۔ اس چھوٹی جسامت کی بنیاد پراسے ہابٹ قرار دیا گیا۔
تصویر: AP/STR/picture alliance
دو پایوں کا اولین ثبوت
سن 1924 میں ایک جنوبی افریقی علاقے تاؤنگ میں کام کرنے والے کان کنوں کو ایک عجیب سے کھوپڑی ملی۔ یہ انسانی جسم کے ماہر ریمنڈ ڈارٹ کو پیش کی گئی۔ انہوں نے اس پر ریسرچ کر کے بتایا کہ یہ ایک تین سالہ انسانی بچے کی ہے۔ اس کھوپڑی کا نام ’آسٹرالوپیتھیکس افریکانوس‘ رکھا گیا یہ کھوپڑی تین ملین پرانی تھی۔ اس کھوپڑی نے اس نظریے کو تقویت دی کہ انسان کا اِرتقا افریقہ میں ہوا نا کہ ایشیا اور یورپ میں۔
تصویر: imago stock&people
ڈی این اے کی از سر نو تشکیل
سن 2008 میں روسی ماہر آثار قدیمہ میشیل شنکوف نے روسی قزاقستانی سرحد کے نزدیک التائی پہاڑی سلسلے میں سے ابتدائی انسانی استخوان کا ایک نمونہ ڈھونڈ نکالا۔ اس کے ذریعے انسانی ڈی این اے کا کھوج لگایا گیا۔ اس استخوان کا نام پہاڑی سلسلے کی مناسبت سے ’ڈینسووانِس‘ رکھا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی افریقہ سے مہاجرت کر کے اس علاقے میں پہنچے تھے۔ یہ نیئنڈر تھال اور ہومو سیپیئنز سے پہلے کی مہاجرت تھی۔
تصویر: Maayan Harel/AP/picture alliance
ہومو سیپیئنز کے نئے رشتہ دار!
سن 2015 میں جنوبی افریقہ کی رائزنگ اسٹار غاروں کے طویل سلسلے میں سے پندرہ قدیمی انسانوں کی پندرہ سو ہڈیاں دریافت ہوئی تھیں۔ خیال کیا گیا کہ یہ ہڈیاں ’ہومو نالیدی‘ انسانی گروپ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس دریافت پر ابھی تک ماہرین ایک حتمی رائے قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ ابھی تک تعین نہیں کیا جا سکا کہ یہ ابتائی انسانوں کی ہڈیاں ہیں یا انتہائی قدیمی ’ہومو ایریکٹس‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔
پرانے انسانوں کا سراغ ان کے غاروں میں کندہ فن سے ملا ہے، کولمبیا کی چربیکیٹ نیشنل پارک میں بائیس ہزار سال پرانی غاریں دریافت کی گئیں۔ ان میں سے کچھ ایسے نکات ماہرین آثار قدیمہ کو ملے جن سے یہ ظاہر ہوا کہ انسان سب سے پہلے امریکی خطے میں بیس سے تیس ہزار سال قبل پہنچے تھے۔
تصویر: Jorge Mario Álvarez Arango
قدیم ترین غار آرٹ
سن 2021 میں آسٹریلوی اور انڈونیشی ماہرینِ آثار قدیمہ نے انڈونیشیا کے علاقے سُولاویسی میں ایسی غاریں ڈھونڈ نکالی، جن میں پرانے دور کے آرٹ کے نشانات ملے۔ ماہرین کے مطابق یہ غار آرٹ پینتالیس ہزار سال قبل تخلیق کیا گیا تھا۔ ان آرٹ میں استعمال رنگوں پر کاربن ٹیسٹ سے قدیم دور کی تاریخ معلوم ہوئی ہے۔
تصویر: Maxime Aubert/Griffith University/AFP
11 تصاویر1 | 11
اس دیوار کی تعمیر کی حتمی تاریخ تو نہیں بتائی گئی ہے، تاہم محققین کے مطابق نو ہزار آٹھ سو برس قبل یہاں جنگل ہوا کرتا تھا۔
اسی انداز کی تعمیراتی باقیات امریکہ میں جھیل مشی گن میں بھی دریافت ہوئیں تھیں۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ ڈھانچا بھی کاریبو کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہو گا۔