1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سمندر میں عجیب دیوار، قدیمی انسان کی کارگزاری

14 فروری 2024

محققین کا کہنا ہے کہ بالٹک خطے سے ایک دیوار کی باقیات ملی ہیں، جو ممکنہ طور پر دس ہزار برس سے زائد عرصے پرانی ہیں۔

Deutschland | Spuren der Eiszeitjäger in der Ostsee entdeckt
تصویر: Michał Grabowski/Leibniz-Institut für Ostseeforschung Warnemünde/dpa/picture alliance

محققین نے بحیرہ بالٹک میں جرمن ساحل کے قریب تقریباﹰ ایک کلومیٹر طویل پتھر سے تعمیر کردہ ایک دیوار دریافت کی ہے۔ محققین کے مطابق ممکنہ طور پر یہ دیوار دس ہزار برس سے زائد عرصے پرانی ہے۔

کروڑوں برس قدیمی انتہائی بڑے شیر کی باقیات دریافت

بھارت میں لاکھوں سال پرانے پتھر کے اوزاروں کی دریافت

اس دیوار سے متعلق محققین کو پتا دو ہزار اکیس میں چلا تھا اور کہا جا رہا ہے کہبالٹک خطے میں انسانوں کے ہاتھوں بنا اب تک دریافت ہونے والا یہ سب سے قدیمی اسٹرکچر ہے۔

اس دریافت کا اعلان پیر کی شام لائبنٹس انسٹیٹیوٹ برائے بحیرہ بالٹک (IOW) اور شمالی جرمن علاقے کیل کی کرسٹیان البریشٹز یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کیا۔

سمندر کے اندر دیوار کیوں؟

یہ دیوار جرمن ساحل سے دس کلومیٹر دور بحیرہ بالٹک میں اکیس میٹر کی گہرائی میں ہے۔ محققین کے مطابق یہ دیوار ٹینس سے فٹ بال سائز کے سترہ سو پتھروں سے مل کر بنی ہے اور ایک میٹر اونچی ہے۔

ممکنہ طور پر یہ دیوار شکار کے لیے استعمال کی جاتی تھیتصویر: P. Hoy, Universität Rostock; Modell erstellt mit Agisoft Metashape: J. Auer, LAKD M-V

یہ علاقہ ساڑھے آٹھ ہزار برس قبل زیرآب آیا تھا، مگر اس سے پہلے یہ خشک تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ دیوار شکاریوں نے ہرنوں کو پکڑنے کے لیے بنائی ہو گی۔

اس دیوار کی تعمیر کی حتمی تاریخ تو نہیں بتائی گئی ہے، تاہم محققین کے مطابق نو ہزار آٹھ سو برس قبل یہاں جنگل ہوا کرتا تھا۔

اسی انداز کی تعمیراتی باقیات امریکہ میں جھیل مشی گن میں بھی دریافت ہوئیں تھیں۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ ڈھانچا بھی کاریبو کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہو گا۔

ع ت، ک م (اے ایف پی، ڈی پی اے)

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں