1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’سنسر پروف‘ انٹرنیٹ کی آمد آمد

11 جون 2012

اُن ممالک میں بسنے والے انٹرنیٹ صارفین کے لیے کسی ایسے انٹرنیٹ نظام کی تیاریاں تیزی سے عمل میں لائی جا رہی ہیں، جہاں حکومتیں انٹرنیٹ کی نگرانی کرتی ہیں اور اُسے سنسر کرتی ہیں۔

Symbolbild Multimedia Auge Cyberwar
تصویر: Fotolia/Kobes

یہ نظام کسی سمارٹ فون اَیپ کی شکل میں ہو سکتا ہے یا پھر کسی ایسے خفیہ وائر لیس نظام کی صورت میں، جو بظاہر بے ضرر معلوم ہوتا ہو لیکن جس کی مدد سے لوگ حکومتی سنسرشپ کی زَد میں آئے بغیر آپس میں روابط اُستوار کر سکتے ہوں۔

امریکی حکومت کے فراہم کردہ مالی وسائل کی مدد سے واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کے تیار کردہ اس منصوبے کو ’کموشن وائرلیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ سال کے اوائل تک اس نظام کی تیاری کا عمل تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

اس نظام کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ عوام کے باہمی رابطوں کو حکومتیں کنٹرول یا منقطع نہ کر سکتی ہوںتصویر: picture-alliance/dpa

ان کوششوں کا مقصد اظہارِ رائے کی آن لائن آزادی کو فروغ دینا ہے۔ اس منصوبے کے سلسلے میں اس اہم حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگ موبائل آلات استعمال کرنے لگے ہیں۔

نیو امریکا فاؤنڈیشن میں اس منصوبے کے سربراہ ساشا مینراتھ نے بتایا کہ اس طرح کا نظام ’اُن افراد کے لیے سود مند ثابت ہو گا، جو ایسے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہتے ہیں، جن میں حکومتیں نہیں چاہتیں کہ اُن کے درمیان رابطہ ہو‘۔

واضح رہے کہ عرب دُنیا میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ابھرنے والی جمہوری تحریکوں کے دوران وہاں کے عوام خود کو منظم کرنے کے لیے فیس بُک اور ٹویٹر جیسے پروگراموں سے استفادہ کرتے رہے تاہم ان پروگراموں کو وہاں کی حکومتوں نے بھی منحرفین کی سرگرمیوں کا پتہ چلانے یا اُنہیں ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا۔

امریکی حکومت نے آن لائن آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اور بھی کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں

کموشن (Commotion)کو رابطے کے ایک ایسے محفوظ اور قابل اعتبار ذریعے کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے جس میں حکومتیں عوام کے باہمی روابط کی نہ تو نگرانی کر سکیں اور نہ ہی اُن روابط کو منقطع کر سکیں۔ اس نظام کو ’سوٹ کیس میں انٹرنیٹ‘ کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

آن لائن آزادی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا نے مختلف منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور کموشن وائرلیس اُنہی میں سے ایک ہے۔ امریکی حکومت نے گزشتہ چار برسوں کے دوران اس طرح کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 76 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

اس پروگرام سے استفادہ کرنے والوں میں ریڈیو فری ایشیا سمیت امریکی مالی وسائل سے چلنے والے دیگر نشریاتی ادارے بھی شامل ہیں، جو اپنے ذرائع اور اپنے نامہ نگاروں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے کمپیوٹر پروگراموں کو ممکنہ طور پر ایران، شام یا پھر چین جیسے ملکوں میں منحرفین کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

aa/mm/afp

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں