سنوڈن روس ہی سے تعاون کر سکتے ہیں
1 نومبر 2013
ان خبروں کے سامنے آنے پر کہ ایڈورڈ سنوڈن جرمن چانسلر کی جاسوسی سے متعلق چھان بین میں معاونت کے لیے جرمنی آنے کے لیے تیار ہیں، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ قانونی مسائل کی وجہ سے جرمنی نہیں آ سکتے۔ تاہم وہ روس ہی سے جرمن اداروں کو معاونت ضرور فراہم کر سکتے ہیں۔
خفیہ الیکٹرانک نگرانی کے امریکی پروگرام سے متعلق معلومات افشا کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن ان دنوں عارضی سیاسی پناہ پر روس میں مقیم ہیں۔
ملاقات کے بعد جرمن ٹی وی چینل اے آر ڈی سے بات کرتے ہوئے شٹروئبلے نے کہا کہ سنوڈن جرمنی کے وکلاء سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں اس بات کی یقین دہانی چاہیے کہ انہیں زبردستی امریکا واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
اس ملاقات میں سنوڈن نے چانسلر میرکل کے نام ایک خط بھی شٹروئبلے کو دیا ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل کے نام اس خط پر برلن کے حکومتی حلقوں میں زبردست ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اسی دوران ایسی نئی رپورٹیں بھی سننے کو مل رہی ہیں کہ امریکی خفیہ ادارے این ایس اے نے وفاقی جرمن پارلیمان کے اراکین کی بھی جاسوسی کی ہے۔ ابھی یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ اس خط میں کیا لکھا ہے تاہم جرمن وزارتِ داخلہ اس خط میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔ وزیر داخلہ ہنس پیٹر فریڈرش کہتے ہیں: ’’اگر اس میں یہ پیغام ہے کہ مسٹر سنوڈن ہمیں کچھ معلومات دینا چاہتے ہیں ، یا وہ ہمیں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ہم بخوشی اس کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ معلومات اور حقائق کی شکل میں ہمیں جو بھی وضاحت مل سکے، وہ اچھی ہے۔‘‘
یہ خط جرمن رکن پارلیمان ہنس کرسٹیان شٹرؤبیلے لے کر آ ئے ہیں۔ اُنہیں یہ خط سنوڈن نے جمعرات کو روس میں تین گھنٹے دورانیے کی ایک ایسی ملاقات کے دوران دیا تھا، جسے اس سے پہلے تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ شٹروئبلے کے مطابق:’’سنوڈن نے واضح طور پر یہ تاثر دیا کہ اُسے بہت کچھ پتہ ہے اور یہ کہ اگر این ایس اے اور اُس کا سربراہ الیگزینڈر معاملے کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تو وہ جرمنی آنے اور وہاں گواہی دینے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے بنیادی حالات کا تعین ہونا باقی ہے۔‘‘
اُدھر این ایس اے کے سربراہ کیتھ الیگذانڈر نے اپنے ادارے کی سرگرمیوں کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے:''ہمیں یہ خدشہ ہے کہ اگر اس طرح سے معلومات حاصل نہ کی گئیں تو معلومات کا ایک ایسا خلاء پیدا ہو جائے گا، جس میں نائن الیون کی طرح کے کسی اور واقعے کے عمل میں آنے کا امکان ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے اپنی ذمے داری پوری طرح سے نہیں نبھائی۔‘‘
سنوڈن سے ملاقات شٹروئبلے اور ان کی گرین پارٹی کے لیے تو کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے ، لیکن چانسلر میرکل کے لیے اب مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں کیونکہ میرکل نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ وہ سنوڈن کی حمایت نہیں کریں گی۔